پندرہ سال سے حکمران میرکل نے اب تک کیا کھویا، کیا پایا | حالات حاضرہ | DW | 02.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پندرہ سال سے حکمران میرکل نے اب تک کیا کھویا، کیا پایا

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا دور اقتدار جلد ختم ہونے والا ہے۔ انہوں نے اپنے اس طویل اقتدار میں کیا کچھ حاصل کیا؟ وہ مزید کیا منصوبے رکھتی ہیں اور ان کا سیاسی ورثہ کیا ہو گا؟

جرمن چانسلر انگیلا میرکل سن دو ہزار اکیس تک اقتدار میں رہیں گی۔ وہ کہہ چکی ہیں کہ وہ مزید ایک بار چانسلر شپ کی متمنی نہیں ہیں جبکہ وہ اپنی پارٹی کی قیادت سے بھی علیحدگی اختیار کر چکی ہیں۔

کئی مرتبہ ایسی پیش گوئیاں کی جا چکی ہیں کہ میرکل اپنی موجودہ مدت اقتدار مکمل ہونے سے قبل ہی چانسلر شپ کے عہدے سے مستعفی ہو سکتی ہیں۔ بالخصوص ایک ایسے وقت پر جب ان کی سیاسی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) اور وسیع تر مخلوط حکومت میں شامل ان کی بڑی اتحادی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) کے مابین ایک مرتبہ پھر اختلافات پیدا ہو جائیں۔

جرمنی میں انگیلا میرکل کی چانسلرشپ کا یہ اب پندرہواں سال ہے۔ اگر وہ اس مرتبہ بھی اپنی مدت اقتدار مکمل کرتی ہیں، تو یوں وہ سولہ برس تک جرمن چانسلر کے عہدے پر فائز  رہنے کا اعزاز حاصل کر لیں گی۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ چوتھی مرتبہ بھی اس عہدے کو بہ احسن طریقے سے نبھائیں۔ اس تناظر میں انہیں عوامی حمایت بھی حاصل ہے۔ تاہم کئی حلقے جرمنی کی موجودہ وسیع تر مخلوط حکومت کے کام سے خوش نہیں ہیں۔

ڈرامائی تبدیلیاں

انگیلا میرکل پہلی مرتبہ سن دو ہزار پانچ میں جرمن چانسلر منتخب کی گئی تھیں۔ تب سے اب تک دنیا میں کئی ڈرامائی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو چکی ہیں۔ اس دوران جرمن سیاست میں بھی کئی اہم تبدیلیاں آ چکی ہیں۔

انتہائی دائیں بازو کے نظریات کی حامل سیاسی جماعت 'متبادل برائے جرمنی‘ نہ صرف وفاقی پارلیمان بلکہ تمام سولہ وفاقی صوبوں کی اسمبلیوں میں بھی نمائندگی حاصل کر چکی ہے۔ متعدد مشرقی صوبوں میں تو وہ دوسری بڑی سیاسی قوت بن چکی ہے۔

میرکل کے دور اقتدار میں ہی امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ صدر منتخب ہوئے جبکہ برطانیہ کی یورپی یونین سے علحیدگی کا عمل بھی انہی کے سیاسی کیریئر میں شروع ہوا۔ سن دو ہزار سترہ میں  ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو پر سوالات اٹھائے گئے، تو میرکل نے کہا تھا کہ 'وہ دور ختم ہو چکا ہے جب ہم دوسروں پر مکمل طور پر انحصار کر سکتے تھے‘۔

انگیلا میرکل کے سوانح نگار رالف بولمان کے مطابق ٹرمپ کے اقتدار میں آنے اور بریگزٹ کے عمل کے شروع ہونے کے بعد میرکل سمجھتی ہیں کہ 'مغربی جمہوری نظام میں انتہائی سنگین بحران پیدا ہو چکا ہے‘۔ بولمان کہتے ہیں کہ میرکل کا مقصد ہے کہ وہ اپنے اقتدار کے آخری کچھ مہینوں کے دوران جرمنی، یورپ اور دنیا کو اس بحران سے بچا سکیں۔

تاہم میرکل کو کئی محاذوں کا سامنا ہے۔ مثال کے طور پر یورپ میں فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں سے اختلافات اہم ہیں۔ بند کمروں میں میرکل کے اپنے حمایتی ہی انہیں یہ مشورہ دے چکے ہیں کہ وہ ماکروں کی قیادت کی خواہش کو تسلیم کر لیں۔

مغربی دنیا کی محافظ یا نفرت کا شکار شخصیت

انگیلا میرکل کبھی بھی ایک عظیم دور اندیش سیاست دان نہیں رہیں۔ اس کے باوجود کئی اہم تبدیلیوں کا سہرا ان کے سر جاتا ہے۔ بالخصوص ایک خاتون سیاستدان کے طور پر ان کی کامیابیاں بے مثال ہیں۔ وہ ایک ایسی سیاسی پارٹی کی سربراہ بنیں، جسے روایتی طور پر پدرشاہی روایات کی حامل سیاسی جماعت کہا جاتا تھا۔

یہ الگ بات ہے کہ میرکل نے خود کو کبھی فیمینسٹ نہیں کہا۔ جہاں تک خواتین کو سیاست اور معاشرے میں زیادہ مواقع فراہم کرنے کی بات ہے، تو اس حوالے سے میرکل کا ریکارڈ متوازن ہے۔ لیکن ان کی قیادت میں جرمن پارلیمان میں خواتین کی شرح کم ہوئی ہے۔ ان کے ڈیڑھ عشرے پر محیط دور اقتدار میں وفاقی پارلیمان یا بنڈس ٹاگ میں خواتین ارکان کی تعداد بیالیس فیصد سے کم ہو کر اکتیس فیصد تک آ گئی ہے۔ دوسری طرف میرکل نے کئی خاتون سیاستدانوں کی کھل کر حمایت بھی کی ہے۔

بولمان کا کہنا ہے کہ میرکل سیاسی حالات کے مطابق ایک باعمل خاتون ہیں۔ بطور ماہر طبیعیات وہ جوہری توانائی پر یقین رکھتی ہیں لیکن انہوں نے سنگین جوہری حادثات کے بعد جرمنی میں جوہری بجلی گھروں کو بند کرنے کی حمایت کی۔

میرکل اگرچہ ہم جنس پسندی کے حق میں نہیں لیکن ان کی حکومت نے جرمنی میں ہم جنس پسند افراد کی آپس میں شادیوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا۔ میرکل کے دور میں ہی جرمنی میں لازمی فوجی سروس ختم کر دی گئی۔

میرکل کے دور اقتدار کا سب سے زیادہ متنازعہ فیصلہ سن دو ہزار پندرہ میں مہاجرین کے لیے ملکی سرحدوں کو کھول دینا بنا۔ کچھ مہاجرین اور تارکین وطن افراد کی طرف سے جرائم کی وجہ سے جرمنی میں اجانب دشمنی بھی دیکھی گئی اور انہی جذبات کی وجہ سے مہاجرت مخالف سیاسی جماعت 'متبادل برائے جرمنی‘ یا اے ایف ڈی عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔

سن دو ہزار پندرہ میں ٹائم میگزین نے مہاجر دوست پالیسی کی وجہ سے میرکل کو سال کی اہم ترین شخصیت قرار دیا تو جرمنی میں اس وقت دائیں بازو کے انتہا پسندوں نے میرکل کے خلاف ایک منظم مہم شروع کر دی تھی۔

میرکل کا سیاسی ورثہ

جرمنی میں ان تبدیلیوں کے باوجود میرکل اب بھی ایک مقبول ترین شخصیت ہیں۔ میرکل کے سوانح نگار بولمان کو یقین ہے کہ میرکل خود کو ایک ایسی کامیاب سیاستدان کے طور پر منوانا چاہتی ہیں، جس نے جرمنی کو کئی بحرانوں سے نکالا۔ ان میں مالیاتی بحران، یورو کرنسی کا بحران، یوکرائن کا بحران اور مہاجرین کا بحران سبھی شامل ہیں۔

میرکل کے پاس اب زیادہ وقت نہیں بچا کہ وہ نئی پالیسیاں ترتیب دے سکیں۔ وہ آہستہ آہستہ اور بالخصوص ملکی سیاسی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو رہی ہیں۔ وہ ان ذمہ داریوں کو اپنی ممکنہ سیاسی جانشین آنےگرَیٹ کرامپ کارین باؤر کے حوالے کر رہی ہیں۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا آنےگرَیٹ کرامپ کارین باؤر مستقبل میں حکومتی سربراہ کے طور پر میرکل کی جگہ لے سکیں گی۔ میرکل کی سیاسی جماعت سی ڈی یو میں کئی حلقے کھلے عام کرامپ کارین باؤر کی مخالفت کر چکے ہیں۔ ایک بات تاہم واضح ہے کہ میرکل کے بعد جرمنی کو کسی ایسی قد آور سیاسی شخصیت اور لیڈر کی ضرورت ہو گی، جو میرکل کا حقیقی نعم البدل ثابت ہو سکے۔

ع ب / م م / کرسٹوف ہاسل باخ، میشیلا کوفنر، میکسملین کوشائک، کے الیگزینڈر شولز

DW.COM