پلوامہ حملے کی ساڑھے تیرہ ہزار صحات پر مشتمل طویل چارج شیٹ | حالات حاضرہ | DW | 26.08.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پلوامہ حملے کی ساڑھے تیرہ ہزار صحات پر مشتمل طویل چارج شیٹ

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے پلوامہ میں ہونے والے خود کش حملے کے حوالے سے جو فرد جرم داخل کی گئی ہے اس میں شدت پسند تنظیم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو کلیدی ملزم بتایا گيا ہے۔

بھارت کے قومی تفتیشی ادارے این آئی اے نے جنوبی کشمیر کے پلوامہ میں خود کش حملے کے تقریبا ًڈیڑھ برس بعد کیس کی فرد جرم عائد کر دی ہے جو ساڑھے تیرہ ہزار سے بھی زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ جموں میں این آئی اے کی ایک خصوصی عدالت میں دائر کی گئی اس چارج شیٹ میں کئی پاکستانی شہریوں سمیت 19 افراد کو حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ بھارتی ایجنسی نے اپنی چارج شیٹ میں شدت پسند تنظیم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر اور ان کے بھائی عبدالرؤف اصغر، عمار علوی، اور بھتیجے عمر فاروق کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے۔

تفتیشی ایجنسی کا دعوی ہے کہ مسعود اظہر اور عبدالرؤف پلوامہ حملے کی سازش کے کلیدی کردار ہیں۔ گزشتہ برس 14 فروری کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ میں بھارتی فوجی قافلے پر کار کا ایک زوردار بم دھماکہ ہوا تھا جس میں 40 سے زائد بھارتی سکیورٹی فورسز ہلاک ہوگئے تھے۔ بھارت نے حملے کے فوری بعد اس کا الزام پاکستان میں سرگرم شدت پسند تنظیم جیش محمد پرعائد کیا تھا۔

ساڑھے تیرہ ہزار صفحات پر مشتمل اس چارج شیٹ میں اس حملے کی منصوبہ بندی اور اس کو انجام دینے تک کی تمام تفصیلات کا ذکر ہے۔ این آئی اے نے جن 19 افراد پر الزام عائد کیا ہے اس میں سے چھ پہلے ہی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ سات کو گرفتار کیا گیا ہے اور پانچ ابھی بھی لاپتہ ہیں جن میں سے تین کا تعلق پاکستان سے بتایا گیا ہے۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ چارج شیٹ کے ساتھ تمام ضروری ثبوت بھی فراہم کیے گئے ہیں جس میں فون کالز اور واٹس ایپ پر ملزمین کی چیٹ وغیر بھی شامل ہے۔

این آئی کا دعوی ہے کہ سن 1999 میں بھارتی مسافر طیارے آئی سی 814 کو اغوا کرنے والے مغویوں میں سے ایک ابراہیم اطہر (مسعود اظہر کے بڑے بھائی) کے بیٹے محمد عمر فاروق نے اس حملے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ اس حملے کے لیے جس 20 کلو آر ڈی ایکس کا استعمال ہوا وہ عمر فاروق ہی جموں میں سامبا سیکٹر سے لیکر داخل ہوئے تھے۔ بھارتی سکیورٹی فورسز نے کشمیر میں اس برس مارچ میں عمر فاروق کو ایک تصادم میں ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کی سازش کی بیشتر تفصیلات عمر فاروق کے موبائل فون سے ملی ہیں جو ان کی ہلاکت کے بعد برآمد ہوا تھا۔ ان کے مطابق اس فون میں بم بنانے اور اس کی تیاری کرنے وغیرہ  جیسے تمام واقعات کی تصویریں موجود تھیں اور ایسی تمام اشیاء کو بطور ثبوت اس چارچ شیٹ کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

این آئی اے کے ایک افسر نے میڈیا سے بات چیت میں کہا، ''ہم نے ہلاکت کے بعد ان کے فون اسکین کیے۔ اس میں منصوبہ سازی اور اسے انجام دینے سے متعلق تمام پہلوؤں کی تصویریں موجود تھیں۔ ہمارے پاس ایک سرنگ کی بھی تصویر ہے جو ممکنہ طور پر بھارت میں داخل ہونے کے لیے استعمال کی گئی۔ جو کار، دھماکہ خیز مواد، آئی ای ڈیز استعمال میں آئیں اور جو منصوبہ سازی میں ملوث تھے ان سبھی کی تصویروں کے ساتھ ساتھ اس میں ریہرسل کی ویڈیوز بھی موجود تھیں اور وہ ویڈیو بھی تھی جو حملے کے وقت بنائی گئی۔ ان سب کو پاکستان بھیجا بھی گیا۔''   

 حکام کا کہنا ہے کہ مولانا مسعود اظہر سے متعلق بطور ثبوت ان کی وہ آڈیو ریکارڈنگ پیش کی گئی ہے جس میں وہ حملے کی تعریف کرتے ہوئے سنے جا سکتے ہیں۔ چارج شیٹ کے مطابق خودکش حملہ ایک مقامی کشمیری نوجوان عادل احمد ڈار نے کیا تھا۔ ایک 22 سالہ مقامی لڑکی انشا جان اور ان کے والد پر بھی اس کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

بھارتی تفتیشی ایجنسی نے فرد جرم میں اس بات کا بھی دعوی کیا ہے کہ پلوامہ حملے کے بعد جیش محمد نے اسی طرح کے ایک اور حملے کا منصوبہ تیار کیا تھا جس کے لیے ایک کار اور خودکش حملہ آور کا انتظام کیا جا چکا تھا لیکن ''بھارتی فضائیہ نے پاکستان کے بالا کوٹ میں واقع جیش محمد کے ایک تربیتی کمیپ پر حملہ کر کے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔''

ویڈیو دیکھیے 05:27

کشمیر: بشیر احمد خان کو کس نے مارا؟

پلوامہ حملے میں بھارت کے 40 سے زائد فوجی ہلاک ہوئے تھے اور اس کے بعد جو واقعات پیش آئے اس سے بھارت اور پاکستان جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔ بھارت نے اس کے کچھ روز بعد ہی پاکستان کے بالا کوٹ پر فضائی حملہ کر کے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا۔ لیکن پاکستان نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فضائیہ جلد بازی میں ادھر ادھر پے لوڈ پھینک کر فرار ہوگئی۔

دو روز بعد ہی پاکستانی فضائیہ نے جوابی کارروائی کی اور بھارت کے ایک اسلحہ ڈپو کے پاس میزائل حملہ کیا اور کہا کہ اس کا مقصد اسلحہ ذخیرہ کرنے والی جگہ کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ یہ دکھانا تھا کہ وہ بھارت کو منہ توڑ جواب دے سکتا ہے۔ لیکن اس جوابی کارروائی کے جواب میں بھارت نے پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے کی کوشش کی تو پاکستان نے اس کا ایک جنگی جہاز مار گرایا اور ایک بھارتی پائلٹ کو قید کر لیا۔ اسی افرا تفری میں بھارتی فضائیہ کا ایک ہیلی کاپٹر بھی فضا میں نشانہ بنا اور بری طرح سے جل کر خاک ہوگیا۔ بھارت کا کہنا تھا کہ یہ اس کی غلطی سے ہوا جبکہ پاکستان نے اسے بھی مار گرانے کا دعوی کیا۔ 

اس کشیدگی کے ماحول میں عالمی رہنماؤں نے امن کی اپیل کرتے ہوئے صلح کرائی اور پاکستان نے بھارتی پائلٹ کو خیرسگالی کے جذبات کے تحت رہا کردیا۔ بھارت میں حزب اختلاف کی بعض جماعتیں اور سیاسی تجزیہ کار یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ مودی نے عام انتخابات میں کامیابی کے لیے بالا کوٹ پر فضائی حملہ کروایا تھا جس کا انہیں انتخابات میں کافی فائدہ بھی ہوا۔

ویڈیو دیکھیے 03:47

بھارتی زیر انتظام کشمیر: اسکول کالج بند، انٹرنیٹ پر پابندیاں

DW.COM