پر امن حل کا انحصار کبھی صرف ايک فريق پر نہيں ہوتا، اشٹائن مائر | حالات حاضرہ | DW | 17.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پر امن حل کا انحصار کبھی صرف ايک فريق پر نہيں ہوتا، اشٹائن مائر

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائیر نے کہا ہے کہ ایران کو بحران زدہ عرب ریاست شام میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے دمشق حکومت کو سیاسی تبدیلی کے بارے میں مذاکرات پر آمادہ کرنا چاہیے۔

جرمن وزير خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر نے ايرانی دارالحکومت تہران آمد پر کہا ہے کہ عالمی طاقتوں اور ايران کے مابين جوہری ڈيل مستقبل ميں سفارتی سطح پر مزيد پيش رفت کی پيش خيمہ ہے۔ شام، عراق اور يمن ميں جاری مسلح تنازعات کے بارے ميں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’اس خطے کو کم نہيں بلکہ اضافی سفارت کاری کی ضرورت ہے۔‘‘ جرمن وزير خارجہ کا اپنی تقرير ميں مزيد کہنا تھا، ’’پر امن حل کا دارومدار کبھی ايک فريق پر نہيں ہوتا اور اسی ليے ميرا سفر يہاں ختم نہيں ہوتا۔‘‘ اشٹائن مائر اتوار کو ايران کے سب سے بڑے حريف ملک سعودی عرب روانہ ہوں گے۔

شٹائن مائیر ہفتے اور اتوار کے روز ایران میں اعلیٰ سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔ ایرانی صدر حسن روحانی کے علاوہ وہ اپنے اس دورے کے دوران اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف سے بھی مذاکرات کریں گے۔ شٹائن مائیر کے اس دورے کا مقصد افغانستان، عراق، یمن اور شام کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا اور ان ممالک میں پائے جانے والے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات کے بارے میں ایران کے کردار پر بات چیت کرنا ہے۔

جرمن وزیر کا یہ دورہ پرایک ایسے وقت میں عمل میں آ رہا ہے جب یورپی ممالک خاص طور سے جرمنی کو ان بحران کے شکار ممالک کی طرف سے آنے والے تارکین وطن کے سیلاب کا سامنا ہے۔ شٹائن مائیر نے ایرانی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے بھی اس امر کا اقرار کیا کہ’’ یورپ کو اس وقت دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اب تک کے مہاجرین کے بدترین بحران کا سامنا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بحران زدہ ممالک میں سیاسی استحکام اور امن نہیں ہوتا تب تک مہاجرین کے بحران سے بھی نہیں نمٹا جا سکتا۔

Iran Besuch deutscher Außenminister Frank-Walter Steinmeier

ایران کی وزارت خارجہ میں شٹائن مائیر کی مغربی یورپی شعبے کے سربراہ سے ملاقات

جرمن وزیر کے اس پہلے ایرانی دورے پر تہروان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے ایجنڈے میں جوہری ڈیل کے نفاذ کوبھی مرکزی اہمیت حاصل رہے گی۔ یہ امر اہم ہے کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ ایرانی جوہری ڈیل باضابطہ طور پر کل اتوار اٹھارہ اکتوبر سے نافذ العمل ہو گی۔ دس سالوں کے لیے طے پائے جانے والے اس جوہری معاہدے کے تحت اِس عرصے میں ایران کو سویلین جوہری پروگرام جاری رکھنے کی اجازت ہو گی اور ہتھیار سازی کے شک پر اُس کی تنصیبات کا معائنہ کیا جا سکے گا۔

شٹائن مائیر کے بقول،’’ اب ایران کی باری ہے اُن شرائط کو پورا کرنے کی جن کی بنیاد پر تہران پر لگی پابندیاں ختم کرتے ہوئے جوہری معاہدہ طے پایا تھا‘‘۔

دہشت گرد جہادی گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی مسلح شورش کے بارے میں ایرانی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے شٹائن مائیر کا کہنا تھا،’’ شام کی جنگ ختم ہونے کے بعد ہی ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی دہشت گردی کا موثر سدِباب ممکن ہو سکے گا۔ آئی ایس کی دہشت گردی ایک ناسور کی طرح روز بروز پھیل رہی ہے‘‘۔

Iran Besuch deutscher Außenminister Frank-Walter Steinmeier & Mohammad Javad Zarif

ایرانی وزیر خارجہ کی طرف سے اپنے جرمن ہم منصب کا خیر مقدم

وفاقی جرمن مخلوط حکومت کی پارٹنر جماعت سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی ایس پی ڈی کے سیاستدان شٹائن مائیر ایران پر غیر معمولی زور دینا چاہتے ہیں کہ وہ شام کی طویل خانہ جنگی کے خاتمے کے ایک سیاسی حل کے لیے موثر کردار ادا کرے کیونکہ ایران اور روس کو شامی صدر بشار الاسد کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔

جرمن وزیر خارجہ اتوار کو ایران کا دورہ مکمل کرنے کے بعد خلیج کے خطے میں ایران کے روایتی حریف ملک سعودی عرب کے لیے روانہ ہو جائیں گے جہاں سعودی حکام کے ساتھ مذاکرات کے بعد منگل کو شٹائن مائیر اُردن کے لیے روانہ ہوں گے۔ یاد رہے کہ گزشتہ 12 برسوں میں کسی جرمن وزیر خارجہ کا ایران کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔

DW.COM