1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Pakistan Provinz Punjab Chief Minister Pervaiz Elahi
تصویر: Shakeeb/Chief Minister's Office

پرویز الٰہی کو کن مسائل کا سامنا رہے گا؟

27 جولائی 2022

سیاسی افراتفری کے درمیان چوہدری پرویز الٰہی نے وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھال لیا ہے۔ کیا پنجاب اسمبلی میں صرف دس سیٹیں رکھنے والے پرویز الٰہی صوبے کے حالات میں کوئی حقیقی بہتری لانے میں کامیاب ہو سکیں گے؟

https://p.dw.com/p/4EjQs

سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے نتیجے میں حمزہ شہباز کی جگہ وزیر اعلیٰ بننے والے چوہدری پرویز الہی نے گزشتہ شب، جب حلف اٹھانے کے لیے گورنر ہاؤس رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ گورنر ہاؤس کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں اور مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے گورنر پنجاب ان سے حلف لینے کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔

اس کے بعد انہیں خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد پہنچایا گیا، جہاں صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے ان سے حلف لیا۔ ایک سینئر صحافی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیاسی کشیدگی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ابتدائی طور پر وفاقی حکومت کے تحت چلنے والے پاکستان ٹیلی وژن نے ایوان صدر میں ہونے والی وزیر اعلیٰ پنجاب کے حلف کی اس اعلیٰ سطحی تقریب کا بائیکاٹ کرنے کی کوشش کی پھر اسے غیر اہم انداز میں نشر کرنا چاہا لیکن مبینہ طور پر ''نرم مداخلت‘‘ کے بعد ہی یہ خبر سرکاری ٹی وی پر معمول کے مطابق چل سکی۔

کیا پنجاب میں گورنر راج لگنے جا رہا ہے؟

پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب حاصل کرنے کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنوں کے اعتماد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ وہ ملک بھر میں جشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں نے پاکستان مسلم لیگ کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے جواب میں وفاقی وزیر داخلہ اور مسلم لیگ نون کے رہنما رانا ثناء اللہ نے پنجاب میں گورنر راج لگانے کا عندیہ ظاہر کیا تھا۔

 پاکستان کے سینئر صحافی سلمان غنی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پنجاب میں گورنر راج لگنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ان کے مطابق پنجاب میں کشیدگی کی فضا کے باوجود یہاں گورنر راج لگانا آسان نہیں ہے، اس سے ملکی مسائل میں شدید اضافہ ہو جائے گا۔ اس لیے غالب امکان یہی ہے کہ مسلم لیگ نون ایسی غلطی نہیں کرے گی۔

’پرویز الٰہی عثمان بزدار سے مختلف ہوں گے‘

سلمان غنی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پرویز الٰہی نے بڑے بحرانی حالات میں پنجاب کے وزیر اعلٰی کا عہدہ سنبھالا ہے اور ان کے لیے صوبے کے حالات ہی سب سے بڑا چیلنج ہوں گے۔ ان کے بقول عوام بے روزگاری، مہنگائی اور غربت میں کمی چاہتے ہیں اور ان مسائل کے حل کے لیے پرویز الٰہی کے پاس بہت زیادہ آپشنز نہیں ہوں گے، '' یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے الیکشن سے پہلے یہ عہدہ سنبھالا ہے۔ اس لیے انہوں نے آئندہ انتخابات میں کامیابی کے لیے کام کرنا ہے۔ اس لیے وہ عثمان بزدار نہیں ہوں گے۔‘‘

پرویز الٰہی کو کن مسائل کا سامنا رہے گا؟

پاکستان کے ایک قومی انگریزی اخبار سے وابستہ صحافی امجد محمود نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ چوہدری پرویز الٰہی کے لیے پنجاب کی وزارت اعلٰی پھولوں کی سیج ثابت نہیں ہو گی بلکہ انہیں پاکستان ڈیموکریٹک الائنس اور خاص طور پر پاکستان مسلم لیگ نون کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے بقول نون لیگ کی حامی بیوروکریسی سے کام کیسے لینا ہے؟ یہ بھی پرویز الٰہی کے لیے ایک چیلنج ہو گا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ چوہدری پرویز الٰہی چاہیں گے کہ ان کہ حکومت طویل ہو جبکہ عمران خان جلد از جلد انتخابات چاہتے ہیں۔ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ پرویز الٰہی کس طرح عمران خان کو اپنے موقف پر قائل کرتے ہیں؟

امجد محمود سمجھتے ہیں کہ پنجاب میں قاف لیگ کے پاس صرف دس نشستیں ہیں باقی نشستوں کی مالک پی ٹی آئی کے رہنما اچھی وزارتیں، اچھے عہدے، اچھی مراعات اور صوبے پر اپنا موثر کنٹرول چاہیں گے لیکن چوہدری پرویز الٰہی صوبے پر اپنی گرفت رکھنا چاہیں گے۔ ایسی صورت میں دونوں اتحادی پارٹیوں میں اختلافات پیدا نہ ہونے دینا بھی پرویز الٰہی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔

امجد محمود کے خیال میں صوبائی حکومت کو کئی امور میں وفاقی حکومت کی منظوری اور تعاون درکار ہوتا ہے۔ پرویز الٰہی ایک کشیدہ ماحول میں وفاقی حکومت کے ساتھ کیسے ورکنگ ریلیشن شپ قائم کریں گے یہ بھی آ سان کام نہیں ہو گا۔ ان کے نزدیک ضمنی انتخابات میں کی جانے والی بلند بانگ دعوؤں پر مبنی تقاریر نے عوامی توقعات کو بہت بڑھا دیا ہے، اب پرویز الٰہی کو اپنی کارکردگی سے عوام کے مسائل میں کمی کے لیے ڈلیور کرنا ہو گا، ان کے لیے یہ بھی ایک چیلنج سے کم نہیں ہو گا۔

پرویز الٰہی کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟

سلمان غنی کہتے ہیں کہ پرویز الٰہی اگر تصادم سے بچتے ہوئے اسپیکر صوبائی اسمبلی والے اپنے رول کی طرح اگر سب کو ساتھ لے کر چلے اور سیاسی تناؤ میں کمی لانے میں کامیاب ہو گئے تو پھر ان کے لیے ڈلیور کرنا کچھ آسان ہو سکتا ہے۔ 

 

ملتے جلتے موضوعات سیکشن پر جائیں

ملتے جلتے موضوعات

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Pakistan Ex-Präsident Pervez Musharraf

تاریخ میں پرویز مشرف کو کیسے یاد رکھا جائے گا؟

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں