پاکستان میں کم ہوتی پارسی برادری | معاشرہ | DW | 04.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں کم ہوتی پارسی برادری

پارسی برادری گزشتہ ہزار برس سے جنوبی ایشیا میں پھلتی پھولتی رہی ہے تاہم اب عمر رسیدہ ہوتے افراد اور سکیورٹی خدشات کے باعث پارسیوں کی مغربی ممالک کو ہجرت کے باعث اس برادری کی پاکستان میں تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔

پاکستان میں آباد پارسیوں کے آباؤ اجداد قریب ایک ہزار برس سلامتی کے لیے فارس سے ہجرت کر کے برصغیر میں آباد ہوئے تھے۔ خیال رہے کہ آتش پرستی دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں سے ایک ہے۔ اُس وقت پارسی رہنما جدی رانا نے ہندوستان کے بادشاہ کو یقین دلایا تھا کہ آتش پرست جنہیں پارسی کا نام بھی دیا جاتا ہے، معاشرے پر ایک بوجھ بننے کی بجائے اس طرح مِل جُل کر رہیں گے جیسے دودھ میں چینی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تاہم آج بھارت اور پاکستان میں ان کی آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے کیونکہ متمول پارسی خاندان مغربی ممالک میں جا بسنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ برادری تجارت اور چیریٹی کے حوالے سے مقبول ہے تاہم پاکستان میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور تشدد کے باعث اس برادری کو اپنی سلامتی کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر پارسی پاکستان چھوڑ دیتے ہیں تو یہ پاکستان کے لیے معاشرتی تنوع کے حوالے سے ایک بڑا نقصان ہو گا۔

اس وقت پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے شہر کراچی میں قریب ڈیڑھ ہزار پارسی باقی رہ گئے ہیں۔ کراچی شہر میں ان کے آتش کدے موجود ہیں جہاں وہ عبادت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے کمیونٹی سنٹرز اور آخری آرام گاہیں بھی موجود ہیں جہاں اس برادری کی روایات کے مطابق انتقال کر جانے والے کسی بھی پارسی باشندے کو گِدھوں کی خوراک بننے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔

اسی برادری سے تعلق رکھنے والے آرٹس کے ایک 23 سالہ طالب علم ویرا رستم جی نے پاکستان میں پارسیوں کے حوالے سے بتایا، ’’یہ یقیناﹰ کامیابی ہے کہ ہم پر نہ حملے ہوئے ہیں اور نہ ہی نقصان پہنچایا گیا ہے جس کی وجہ ہمارا ’لو پروفائل‘ میں ہونا ہے۔۔۔ تاہم اس چیز کا ایک نقصان بھی ہے کیونکہ بہت سے لوگوں کی توجہ اس بات پر مرکوز ہو جاتی ہے کہ یہ کمیونٹی عددی طور پر کم کیوں ہو رہی ہے۔‘‘

کراچی میں قریب ڈیڑھ ہزار پارسی باقی رہ گئے ہیں۔ کراچی شہر میں ان کے آتش کدے موجود ہیں جہاں وہ عبادت کرتے ہیں

کراچی میں قریب ڈیڑھ ہزار پارسی باقی رہ گئے ہیں۔ کراچی شہر میں ان کے آتش کدے موجود ہیں جہاں وہ عبادت کرتے ہیں

اے ایف پی کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان میں شدت پسندی میں اضافہ ہوا اور بہت سی مذہبی اقلیتوں کو نقصان بھی پہنچایا گیا مگر پارسیوں کو بطور خاص کبھی نشانہ نہیں بنایا گیا۔ مگر اس کے باوجود یہ برادری خود کو خطرے میں محسوس کرتی ہے۔

تاہم پارسیوں کو درپیش خطرات محض بیرونی نوعیت کے ہی نہیں ہیں بلکہ اس برادری میں کم شرح پیدائش اور شادی کے حوالے سے سخت روایات بھی ان کی آبادی میں کمی کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ اگر کوئی پارسی خاتون برادری سے باہر شادی کرتی ہے تو اسے برادری سے خارج کر دیا جاتا ہے تاہم اگر کوئی پارسی مرد کسی غیر پارسی سے خاتون سے شادی کر لے تو اسے کسی حد تک برداشت کر لیا جاتا ہے۔

اشتہار