پاکستان میں نسوانی ختنے، ایک خفیہ رواج؟ | معاشرہ | DW | 30.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں نسوانی ختنے، ایک خفیہ رواج؟

نسوانی ختنوں کے خلاف سرگرم کارکنوں نے کہا ہے کہ افریقہ کے علاوہ ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں بھی خفیہ طور پر لڑکیوں کو ختنے کیے جاتے ہیں، اس لیے اس عمل کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر کوشش کی جانا چاہیے۔

خبر رساں ادارے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن نے نسوانی ختنوں کے خلاف مہم چلانے والے سرگرم کارکنان کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگرچہ لڑکیوں کے ختنوں کو صرف افریقی ممالک سے ہی منسوب کیا جاتا ہے لیکن حقیقی طور پر پاکستان سمیت ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں یہ عمل سر انجام دیا جاتا ہے۔

نسوانی ختنہ، ایک نو عمر لڑکی ہلاک

لڑکیوں کا ختنہ: بھارتی مسلم بوہرہ کمیونٹی میں وجہ تنازعہ

نسوانی ختنوں میں اضافہ، عالمی برداری میں پریشانی کا باعث

خواتین کے ختنوں کے سدباب کی کوششوں کے سلسلے میں روم میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں شریک مندوبین کی کوشش ہے کہ اب افریقہ کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی اس حوالے سے توجہ مرکوز کی جائے۔ روم میں تیس جنوری بروز پیر سے شروع ہونے والی تین روزہ BanFGM نامی اس کانفرنس میں اقوام متحدہ کے مندوبین کے علاوہ مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندے اور مختلف ممالک کے حکومتی اہلکار بھی شریک ہو رہے ہیں۔

جرمن چیرٹی ادارے WADI سے منسلک Isis Elgibali مشرق وسطیٰ میں نسوانی ختنوں کی پریکٹیس کو ختم کرنے کی کوششوں میں سرگرداں ہیں۔ انہوں نے بتایا، ’’گزشتہ پانچ برس قبل جس طرح لوگ اس مسئلے کو دیکھ رہے تھے، اب اس کے مقابلے میں یہ مسئلہ زیادہ بڑا دکھائی دیتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ یہ عمل (نسوانی ختنے) دنیا بھر میں سر انجام دیا جاتا ہے لیکن یہ آسان نہیں کہ حقائق جاننے کے لیے کوئی تحقیق کی جا سکے۔‘‘

نسوانی ختنوں کے خلاف فعال ’اورچڈ پراجیکٹ‘ نامی گروپ نے  دس ایشیائی اور مشرق وسطیٰ کے نو ایسے ممالک کی فہرست جاری کی ہے، جہاں کچھ علاقوں میں نسوانی ختنے کیے جانے کے شواہد ملے ہیں۔ ان ممالک میں پاکستان کے علاوہ اردن، کویت، عمان، ملائیشیا اور تھائی لینڈ بھی شامل ہیں۔ اس گروہ نے زور دیا ہے کہ عالمی رہنما فوری طور پر اس بہیمانہ عمل کی روک تھام کے لیے ایکشن لیں۔

روم کانفرنس میں شریک بھارتی مندوب معصومہ رینالوی کے بقول اس میں کوئی شک نہیں کہ نسوانی ختنوں کے خاتمے کے لیے افریقی ممالک پر زیادہ توجہ مرکوز کرنا چاہیے لیکن کچھ دیگر ممالک بھی ہیں جہاں اس حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ معصومہ سات برس کی تھیں، جب ان کے ختنے کر دیے گئے تھے۔ اب وہ بھارت میں اس عمل پر پابندی عائد کرنے کے لیے مہم چلا رہی ہیں۔

نسوانی ختنے یا ’فیمیل جینیٹل میوٹیلیشن FGM کے عمل میں لڑکیوں یا خواتین کی اندام نہانی کے بیرونی حصے کو مکمل یا جزوی طور پر کاٹ کر الگ کر دیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں دو سو ملین سے زائد لڑکیاں اور خواتین اس تکلیف دہ عمل سے گزر چکی ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس سے پہلے لگائے جانے والے اندازوں سے کہیں زیادہ ہيں۔ طبی ماہرین کے مطابق نسوانی ختنوں کی کئی اقسام سے خواتین کو سنجیدہ طبی مسائل بھی لاحق ہو سکتے ہیں۔

کئی حلقوں کے مطابق نسوانی ختنوں کا مقصد خواتین میں جنسی رغبت کو کم کرنا ہے تاہم مختلف علاقوں اور معاشروں میں اس سے جڑے تصورات مختلف ہیں۔ بہت سے افراد اسے مذہبی ذمہ داری بھی تصور کرتے ہیں لیکن ابراہیمی مذاہب میں نسوانی ختنوں کا کہیں کوئی تذکرہ نہیں ملتا ہے۔

خواتین یا لڑکیوں کے جنسی اعضاء کو ایسے بہیمانہ طریقے سے کاٹ دینے کی فرسودہ روایت زیادہ تر افریقی ممالک میں رائج ہے۔ اقوام متحدہ نے اس عمل کو انسانی حقوق کی پامالی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر موجودہ روایات برقرار رہیں تو آئندہ پندرہ برسوں کے دوران نسوانی ختنوں کا شکار بننے والی خواتین کی تعداد غیر معمولی طور پر بڑھ جائے گی۔

DW.COM