پاکستان میں میریٹل ریپ سے متعلق قانون | دستک | DW | 21.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

پاکستان میں میریٹل ریپ سے متعلق قانون

پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں شوہر کو مجازی خدا مانا جاتا ہے اور آنے والی نسلوں کو بھی یہی سمجھایا جاتا ہے کہ شوہر مجازی خدا ہے۔ سمیرا راجپوت کا بلاگ

مجازی خدا کا مطلب ایک ایسی ہستی ہے جو خدا تو نہ ہو مگر خدا کا مجاز ہو۔ اس اعتبار سے اسے بیوی پر ہر حق حا صل ہے چاہے اس میں اس کی رضا شامل ہو یا نہیں۔ اگر شوہر مجازی خدا ہے تو اسے قانون کیا کہہ سکتا ہے بہرحال کیوں کہ خواتین نے شادی سے متعلق مسائل پر بات کرنا شروع کر دی ہے تو یہ دقیانوسی روایتیں اور ان سے متعلق کچھ قوانین کا جاننا بہت ضروری ہے۔

میاں بیوی ایک دوسرے پر ہر حق رکھتے ہیں، بشرط کہ اس میں فریقین کی رضا شامل ہو۔ یہاں جبری ہم بستری کی اصطلاح کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ اگر میاں بیوی میں باہمی رضامندی کے بغیر زبردستی ہم بستری کی گئی یعنی جنسی تعلق قائم کیا گیا ہے تو مغربی قوانین کے مطابق یہ جرم 'میریٹل ریپ‘ کہلاتا ہے اور اس کے لیے علیحدہ سے قوانین بھی وضع کر دیے گئے ہیں۔ لیکن پاکستان میں اس جرم کے لیے کوئی واضح قانون موجود نہیں۔

سمیرا راجپوت کی دیگر تحریریں

حیات بلوچ کی ماں کے بے بس آنسو

ہراسمنٹ: خواتین کے لیے وقت بدلا اور نہ حالات

ویگو ڈالا، صحافی اور ’شیشے کی گڑیا‘

 پاکستان میں تو رواج یہ ہے کہ نکاح ہوگیا تو بیوی شوہر کی ملکیت ہوگئی۔ جب کہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے، دنیا کا کوئی بھی قانون جبر کی اجازت ہرگز نہیں دیتا۔ اسی لیے شریعت میں بھی نکاح کے بعد بھی ایک شرط رکھی گئی ہے وہ ہے حق مہر۔ بیوی سے جنسی تعلق قائم کرنے سے پہلے حق مہر ادا کرنا اور ہم بستری کی اجازت لینا ضروری ہے۔

پاکستان میں زنا اور زنا بالجبر جیسے پرتشدد واقعات روز کا معمول بن گئے ہیں۔ کبھی باپ اپنی ہی سات سالہ کمسن بچی کا ریپ کردیتا ہے توکبھی دو بچوں کی ماں معصوم بچوں کے سامنے ہی عصمت دری کا شکار ہوجاتی ہے، لیکن ایسے واقعات کم از کم رپورٹ تو ہوتے ہیں۔ ایسے ہی پر تشدد واقعات میں  شوہر کی جانب سے جبری ہم بستری بھی شامل ہے لیکن یہ جرم رپورٹ نہیں ہوتا اور رپورٹ ہو بھی کیسے؟ عورت اس معاشرے میں اگر مرضی کی بات کرے تو اسے ایک خاص کیٹیگری کی عورت قرار دے دیا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ تو ہم بستری کے وقت بیوی کی رضا کا خیال رکھا جاتا ہے اور نہ ہی بچوں کی پیدائش جیسے معاملے میں بیوی کی صحت اور رضا کا خیال کیا جاتا ہے۔ ان سارے مسائل کی ایک بہت بڑی وجہ پدرسری نظام بھی ہے جس نے شوہر کو اس مقام پر بٹھا دیا جہاں عورت کی مرضی بے معنی ہو گئی۔

یہاں پوسٹ پارٹم ڈپریشن جیسے مسئلے کی نشان دہی بھی ضروری ہے۔ عموماﹰ بچے کی پیدائش کے بعد وقتی طور پر عورت ڈپریشن کا شکار ہوتی ہے جسے پوسٹ پارٹم ڈپریشن کہا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے شوہر سے رغبت اور جنسی تعلق کی خواہش ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں اس مسئلے کو بھی مسئلہ نہیں سمجھا جاتا اور جبری ہم بستری کر کے بیوی کو قائل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ جو خواتین میں ڈپریشن کو مزید بڑھاتا ہے۔

قانون کی بات کی جائے تو جنسی زیادتی جو ایک جرم ہے، اسے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 375 بیان کرتی ہے جس کے مطابق (عورت یا خاتون) سے اس کی مرضی اور اجازت کے بغیر یا پھر خوف میں مبتلا کر کے (مثلا ڈرا دھمکا کر یا بہلا پھسلا کر) اگر جنسی تعلق قائم کیا جائے تو وہ زنا بالجبر کے زمرے میں آئے گا۔ یہاں جو دلچسپ بات ہے وہ یہ ہے کہ لفظ عورت کا استعمال کیا گیا ہے بیوی یا منکوحہ کے بارے میں الگ سے بات نہیں کی گئی تو جب ایک عورت جو کہ بیوی ہے اگر جبری ہم بستری کا شکار ہونے پر قانون کی مدد چاہے تو کیا ہوگا؟ یہ جرم ہے تو اس جرم پر کون سا مقدمہ درج ہوگا اس پر الگ سے کوئی قانون موجود نہیں اور اس پر ستم ظریفی تو یہ ہے کہ مشرقی معاشروں میں بیوی کے ساتھ کی گئی جبری ہم بستری کو تو زیادتی ہی نہیں سمجھا جاتا۔ جی شوہر ہے اس کا حق ہے وہ جب چاہے تعلق قائم کرے نہ چاہے نہ کرے۔

مغرب میں جہاں میریٹل ریپ سے متعلق قانون موجود ہے وہاں بھی کیسیز کم ہی دائر ہوتے ہیں تو پاکستان میں جہاں اس اصطلاح سے واقفیت ہے نہ واضح قانون موجود ہے اور نہ ہی اسے جرم سمجھا جاتا ہے وہاں صورتحال کیا ہوسکتی ہے آپ خود ہی سمجھدار ہیں۔

بہت سارے لوگوں کی یہ رائے ہے کہ بیوی بھی توعورت ہے اور وہ اسی قانون کے تحت مقدمہ درج کروا سکتی ہے اور یہ ممکن بھی ہے لیکن یہ بات وہ لوگ بہت بہتر سمجھ سکتے ہیں جو ریپ کیسیز کی وجہ سے عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں یا کاٹ چکے ہیں۔ یہاں تو واضح قانون موجود ہونے کے باوجود ایسے ایسے سوال کیے جاتے ہیں کہ خواتین کیس واپس لینے میں ہی عافیت جانتی ہیں تو یہ تو معاملہ بھی ایک ایسی نوعیت کا ہے جس سے متعلق اس معاشرے میں آگاہی کا نام و نشان نہیں۔ میریٹل ریپ کیسیز سے متعلق قانون میں واضح تبدیلی کی ضرورت ہے۔ قانون بنائے ہی انسانوں کے لیے جاتے ہیں لہٰذا جرائم کی نوعیت بدلنے پر قوانین میں تبدیلی کرنے میں میرے نزدیک کوئی مضائقہ نہیں۔