پاکستان میں جبری تبدیلیء مذہب، ایک اور ابھرتا مسئلہ | معاشرہ | DW | 27.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں جبری تبدیلیء مذہب، ایک اور ابھرتا مسئلہ

ہندو کمیونٹی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ کچھ برسوں میں ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جن میں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو زبردستی مسلمان بنایا جاتا ہے۔ پاکستان کے اعتدال پسند طبقوں کو اس پر شدید تشویش ہے۔

default

صبح کے چار بجے ہوں گے کہ پاکستانی صوبہ سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کی رہائشی 19 سالہ رنکل کماری اپنے گھر سے غائب ہو گئی تھی۔ جب اس کے والدین جاگے، تو انہیں رنکل کماری کے چپل اور دروازے کے باہر اس کا دوپٹہ ہی ملا۔ پھر کچھ گھنٹے بعد انہیں ٹیلی فون پر بتایا گیا کہ رنکل کماری مسلمان ہو گئی ہے اور اس کی شادی ایک مسلمان لڑکے سے ہو چکی ہے۔

اس واقعے کے چند ہی روز بعد پاکستانی صوبہ پنجاب میں مسیحی خاتون سیما بی بی کو اغوا کر لیا گیا۔ چار بچوں کی ماں اس خاتون کے شوہر نے اپنے علاقے کے ایک جاگیردار کا خاصا قرض لوٹانا تھا، جو وہ لوٹانے سے غالباﹰ قاصر تھا۔ کچھ گھنٹے بعد سیما کے شوہر کو ٹیلی فون پر بتایا گیا کہ اس کی بیوی مسلمان ہو چکی ہے اور اب وہ کبھی واپس نہیں آئے گی۔ تاہم سیما کسی طرح فرار ہو کر واپس گھر پہنچنے میں کامیاب ہو گئی اور یہ خاندان اپنا گھربار اور گاؤں چھوڑ کر کہیں اور منتقل ہو گیا۔

Pakistan Religion Hindus in Multan

پاکستان میں ہندو کی اکثریت صوبہ سندھ میں آباد ہے

پاکستان میں ہندو اور مسیحی برادری کے نمائندوں کے مطابق مسلم انتہاپسندوں کی جانب سے جبری طور پر مذہب تبدیل کروانے کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان افراد کے مطابق پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف یہ ایک تیزی سے پھیلتی ہوئی مہم ہے، جس سے ان اقلیتوں کی بقا کو خطرے سے دوچار کیا جا رہا ہے۔ اقلیتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ ملکی زمین غیر مسلم افراد کے لیے رفتہ رفتہ تنگ کی جا رہی ہے، جس کا فوری سدباب انتہائی ضروری ہے۔

پاکستانی عدالت عظمیٰ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران مبینہ طور پر جبری تبدیلی مذہب کی شکار ہندو لڑکی رنکل کماری کی نمائندگی کرنے والے وکیل امر لال نے کہا کہ بالواسطہ طور پر پاکستان میں اقلیتوں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ ملک چھوڑ دیں۔ ’’ہم روز بروز غیر محفوظ ہوتے جا رہے ہیں اور صورتحال دن بہ دن دگرگوں۔‘‘

امر لال نے بتایا کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران صرف صوبہ سندھ میں 51 ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بنایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر افراد صوبہ سندھ ہی میں مقیم ہیں۔ پاکستانی سیاستدان اور صدر آصف زرداری کی ہمشیرہ نے بھی پارلیمان میں اپنی ایک حالیہ تقریر میں کہا تھا کہ صوبہ سندھ میں ہندو اقلیت مسلم انتہاپسندوں کے حملوں کا شکار ہے۔

رنکل کماری کے اہل خانہ نے اس جبری تبدیلیء مذہب کے خلاف ملکی عدالت عظمیٰ میں درخواست دی تھی تاہم دوسری جانب مخالف مسلمان فیملی بھی پورے شد و مد سے اس درخواست کے خلاف میدان میں اتر آئی ہے۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ رنکل کماری کو زبردستی مسلمان نہیں بنایا گیا بلکہ وہ اپنی رضامندی سے مسلمان ہوئی ہے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

اشتہار