پاکستان میں بڑھتی غربت، سیاست دانوں اور ماہرین کو تشویش | معاشرہ | DW | 11.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

پاکستان میں بڑھتی غربت، سیاست دانوں اور ماہرین کو تشویش

واضح رہے کہ پاکستان کے ایک معروف معیشت دان ڈاکٹر حفیظ پاشا نے انکشاف کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے دو برس مکمل ہونے تک ملک میں سطح غربت میں رہنے والے افراد میں مزید اٹھارہ ملین کا اضافہ ہو جائے گا۔

پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت پر سیاست دانوں اور ماہرین نے حکومت کو خبر دار کیا ہے کہ اگر اس نے آئی ایم ایف سے جان نہیں چھڑائی اور معاشی ترقی میں اضافے کی کوشش نہیں کی تو ملک شدید مالی بحران کا شکار ہو جائے گا، جس کے سیاست اور معاشرت پر خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے ایک معروف معیشت دان ڈاکٹر حفیظ پاشا نے انکشاف کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے دو برس مکمل ہونے تک ملک میں سطح غربت میں رہنے والے افراد میں مزید اٹھارہ ملین کا اضافہ ہو جائے گا۔ غربت کی قومی شرح ان کے دعوے کے مطابق جون 1918ء میں 13.3 فیصد تھی اور یہ جون 2020ء تک 40 فیصد ہو جائے گی۔ مجموعی طور پر ملک میں غریب افراد کی تعداد جون 2020ء تک 87 ملین ہوجائے گی جو جون 2018ء میں 67 ملین تھی۔

Pakistan NGO - door of awareness

پی ٹی آئی کی حکومت کے دو برس مکمل ہونے تک ملک میں سطح غربت میں رہنے والے افراد میں مزید اٹھارہ ملین کا اضافہ ہو جائے گا۔

ان انکشافات نے سیاست دانوں اور ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ معروف سیاست دان اور پی پی پی کے رہنما سینیٹرتاج حیدر کے خیال میں صورتحال مزید گھبیر ہوتی جارہی ہے: ''ملک میں معاشی بد حالی سے زراعت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کاٹن کی 2013ء میں 13 لاکھ ٹن سے زائد بیلیں پیدا ہوتی تھی، جو اب چھ لاکھ کے قریب ہیں۔ سندھ میں ٹڈی دل کے حملوں سے فصلوں کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ پیداواری صلاحیت کم ہوتی جارہی ہے اور حکومت ہے کہ وہ بھتے کی شکل میں ٹیکس لینا چاہتی ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھاکہ جب تک پیداواری صلاحیت کو بڑھایا نہیں جاتا، معاشی ترقی ممکن نہیں: ''پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے کیونکہ حکومت بینکروں کے قبضے میں ہے، جو دھڑا دھڑ انرجی کی قیمت میں اضافہ کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے۔ اس کے علاوہ ڈالر کی قدر میں اضافہ ہونے سے بھی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ تو ایک طرف پیداواری صلاحیت کو بڑھایا جائے اور دوسری طرف اجرتوں میں بھی اضافہ کیا جائے تاکہ پیسہ مارکیٹ میں آئے اور اس سے معاشی سر گرمی بڑھے۔‘‘

کچھ ماہرین کے خیال میں عالمی مالیاتی اداروں کی وجہ سی غربت بڑھ رہی ہے، جس کی بہت بڑی سماجی و سیاسی قیمت اداکرنا پڑ سکتی ہے۔ معروف معیشت دان ڈاکٹر شاہدہ وزارت کا کہنا ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا چاہیے تھا کیونکہ ان کے پروگرام کی وجہ سے ہی غربت میں اضافہ ہو رہا ہے: ''جب حکومت آئی ایم ایف کے پاس جانے کا سوچ رہی تھی تو اس وقت میں نے لکھا تھا کہ اگر  ہم آئی ایم ایف کے پاس گئے تو ہماری پیداوار میں کمی ہوگی۔ روزگار میں کمی ہوگی جب کہ غربت اور سماجی انتشار میں اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ انکم ڈسٹری بیوشن کی بھی بدتر ہو جائے گی، جس سے سیاسی بحران پیدا ہوگا۔ آج بالکل یہی سب کچھ ہو رہا ہے۔‘‘

Pakistan Flut Hochwasser Landwirtschaft

’'ملک میں معاشی بد حالی سے زراعت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کاٹن کی 2013ء میں 13 لاکھ ٹن سے زائد بیلیں پیدا ہوتی تھی، جو اب چھ لاکھ کے قریب ہیں۔‘‘

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار اور ماضی میں غربت مکاؤ پروگرام سے منسلک رہنے والے عامر حسین کے خیال میں صورت حال اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے: ''میرا اندازہ یہ ہے کہ دسمبر 2020ء تک غربت میں رہنے والے افراد کی تعداد میں مجموعی طور پر 25 ملین لوگوں کا اضافہ ہوگا کیونکہ شرح نمو مسلسل گر رہی ہے۔ پاکستان کی 200 ملین کی آبادی میں کم از کم بین الاقوامی معیار کے مطابق اسی فیصد افراد کو روزگار مہیا ہونا چاہیے، جس کے لیے شرح نمو 6.5 فیصد ہونی چاہیے جبکہ یہ ابھی دو فیصد ہونے جارہی ہے۔‘‘

کئی ماہرین معاشی صورت حال کی بہتری کے لیے نقصان میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کی بات کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 1980ء سے لے کر اب تک مختلف حکومتوں نے سینکڑوں سرکاری اداروں کو نجکاری کی نذر کیا ہے لیکن عامر حسین کا کہنا ہے کہ نجکاری مسئلے کا حل نہیں: ''حکومت کو ان اداروں کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا چاہیے، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور غربت کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ انتہائی غریب افراد کے لیے سوشل سکیورٹی نیٹ ورک شروع کرنا چاہیے جب کہ غربت کے قریب افراد کو ہنر مند بنانا چاہیے۔ جو افراد ممکنا طور پر غربت کی لکیر سے نیچے جا سکتے ہیں انہیں قرضے فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنے کاروبار کر سکیں۔‘‘

DW.COM