پاکستان ميں زنا بالجبر کے مقدمات میں سزا کی شرح کم کيوں؟ | معاشرہ | DW | 06.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

پاکستان ميں زنا بالجبر کے مقدمات میں سزا کی شرح کم کيوں؟

پاکستان کے کئی حلقوں میں مختاراں مائی زنا بالجبر کا معاملہ آج کل ایک بار پھر زیر بحث ہے۔ ناقدین اس بات پر تشويش ظاہر کر رہے ہیں کہ زنا بالجبر کے واقعات بڑھ رہے ہيں تاہم مجرمان کو سزا ديے جانے کی شرح بہت کم ہے۔

سن 2011 ميں سامنے آنے والے عدالتی فیصلے پر مختاراں مائی کی جانب سے جمع کرائی گئی نظرِ ثانی کی اپیل پر سماعت پاکستانی سپریم کورٹ میں آج بروز منگل ہوئی، جسے ستائس مارچ تک ملتوی کر دیا گیا۔ مختاراں مائی کو سن 2002 میں پنچائیت کے حکم پر اجتماعی زيادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ يہ مقدمہ کافی عرصے تک بین الاقوامی سطح پر ذرائع ابلاغ کا مرکز بنا رہا۔ بعد ازاں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے اس مقدمے میں چھ افراد کو سزائے موت دے دی تھی۔ تاہم لاہور ہائی کورٹ نے چھ میں سے پانچ افراد کو رہا کر دیا اور ایک کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ سن 2011 میں سپریم کورٹ نے بھی مائی کی اپیل کو مسترد کر دیا تھا۔ اب مختاراں مائی نے اس فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی کی اپیل کی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں زنا بالجبر کے سالانہ تین ہزار کے قریب مقدمات درج ہوتے ہیں لیکن مجرمان کو سزا ملنے کی شرح چار فیصد سے بھی کم ہے۔

جسٹس شائق عثمانی کے خیال میں معاشرے کا رویہ اس کم شرح کا ذمہ دار ہے۔ اس مسئلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے انہوں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ہمارے معاشرے ميں جنسی معاملات اور جنسی جرائم پر بات کرنے کو آج بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی جنسی جرم یا زنابالجر ہو بھی جائے، تو ہم اسے ایسے نظر انداز کرتے ہیں جیسے کہ وہ ہوا ہی نہیں۔ اگر عورت کے ساتھ یہ ہو جائے، تو لوگ کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی دعوت دی ہوگی۔ جنرل مشرف نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ کچھ عورتیں سياسی پناہ لینے کے ليے اس طرح کے کام کرتی ہیں۔ تو یہ ہے وہ سوچ، جو اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ لیکن اس کے علاوہ پولیس کی ناقص کارکردگی، شواہد جمع کرنے میں سستی سمیت کئی دوسرے عوامل بھی اس کے پيچھے کارفرما ہیں۔‘‘

جسٹس شائق عثمانی کا کہنا ہے کہ ایک طویل عرصے تک اس طرح کے مقدمات میں گواہ بھی چاہیے ہوتے تھے۔ ان کے بقول، ’’بے چاری عورت چار گواہ کہاں سے لاتی۔ شکر ہے کہ اب وہ قانون نہیں ہے۔ اب ڈی این اے اور دوسرے سائنسی معاملات کو بھی بروئے کار لايا جاتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ مستقبل میں معاملات بہتر ہوں گے لیکن اس میں وقت لگے گا۔‘‘

کئی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس طرح کے زیادہ تر واقعات دیہی علاقوں میں ہوتے ہیں جب کہ سائنسی لیبارٹرياں شہروں میں ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے اس جرم کی شکار دیہی خواتین کو مقابلتاً زيادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کا رویہ بھی بہت ہی ہتک آمیز ہوتا ہے۔ مختاراں مائی نے اس بارے ميں اپنے تاثرات بيان کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی کہ پولیس کا رویہ کتنا ہتک آمیر ہوتا ہے۔ میرے ساتھ تو پورا پاکستان تھا لیکن جب ایک عام عورت پوليس کے پاس جاتی ہے، تو پولیس اس سے بہت ہی شرمناک سوالات کرتی ہے۔ معاشرہ ان کو عجیب نظروں سے دیکھتا ہے اور وکیل بھی ایسے سوالات کرتے ہیں کہ گویا وہ آپ کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہوں۔ پولیس ایف آئی آر درج کرنے میں بہت دیر کرتی ہے۔ لیبارٹری لے جانے میں بہت دیر کرتی ہے اور شواہد رشوت لے کر ضائع کر دیے جاتے ہیں۔‘‘

ڈی ڈبليو نے مختاراں مائی سے سوال کيا کہ کیا اصلاح کی کوئی گنجائش ہے؟ اس پر مائی نے کہا، ’’میرے خیال میں ایسے مقدمات کے ليے ہر تھانے میں خواتین پولیس آفیسرزکی ايک ڈیسک ہونی چاہیے، جہاں خواتین ہی ايسے جرائم کی ایف آئی آر درج کریں، وہی تفتیش کریں اور لیبارٹری بھی لے کر جائیں۔ اس کے علاوہ خواتین وکلاء کی ٹیم معاونت کرے اور ججوں کی بینچ میں بھی خواتین کی نمائندگی ہونی چاہیے۔‘‘

پاکستان میں سابق وزير اعظم بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں خواتین کا پہلا پولیس اسٹیشن قائم ہوا تھا، جن کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ حقوق نسواں کے ليے لڑنے والی خواتین کا خیال ہے کہ پدرسری رویے کو ختم کيے بغیر اچھے نتائج کی امید غير حقيقی ہے۔ معروف کارکن برائے حقوقِ نسواں فرزانہ باری کے خیال میں اس سلسلے میں ترقی یافتہ ممالک سے سیکھنا چاہیے۔ ’’مغربی ممالک میں اگر عورت کسی مرد پر زنا بالجبر کا الزام لگائے، تو مرد کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ بے گناہ ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں الٹا نظام ہے۔ اس کے علاوہ رشوت ستانی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پولیس پیسے لے کر ایف آئی آر میں مقدمہ بہت کمزور بناتی ہے۔ یہاں تک کہ پیسے دے کر میڈیکل ٹیسٹ کے نتائج بھی تبدیل کر دیے جاتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے اور خواتین کی نمائندگی ہر سطح پر بڑھانے کی ضرورت ہے۔‘‘

نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی رکن انیس ہارون کے خیال میں کسی واقعے کے بعد چوبیس گھنٹے اہم ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتايا، ’’لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ وقت ضائع کیا جاتا ہے۔ میڈیکو لیگل آفیسر وقت پر نہیں پہنچتا، ٹیسٹ وقت پر نہیں ہوتے اور پھر عدالت میں بھی برسوں مقدمات چلتے ہیں۔ ان سارے عوامل کا فائدہ ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے اداروں کی طرح عدلیہ میں بھی پدرسری سوچ رائج ہے اور کئی ایسے فیصلے ریکارڈ پر ہیں، جو اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ تو اس سوچ کا خاتمہ، سائنسی اصولوں کا اطلاق اور خواتین کی نمائندگی سزا کی شرح کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔‘‘