پاکستان مانچسٹر ٹیسٹ کیوں ہار گیا؟ | کھیل | DW | 09.08.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کرکٹ

پاکستان مانچسٹر ٹیسٹ کیوں ہار گیا؟

انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی شکست کی وجہ کپتان اظہر علی کی دفاعی حکمت عملی تھی یا پھر بٹلر اور ووکس کی عمدہ بلے بازی؟

کھیل میں ہار جیت تو ہوتی ہی ہے لیکن اگر کوئی ٹیم جیتی ہوئی بازی ہار جائے تو پھر نہ صرف خود کھلاڑی بلکہ اُن کے شائقین بھی مایوس ہوجاتے ہیں۔ ایسا ہی  ہفتہ کو مانچسٹر کے 'اولڈ ٹریفرڈ‘ کرکٹ اسٹیڈیم میں دیکھنے کو ملا جب پاکستانی گیندباز پہلے ٹیسٹ میچ کی دوسری اننگز میں 117 رنز پر انگلینڈ کی نصف ٹیم کو پویلین واپس بھیج چکے تھے۔ لیکن، وہ پاکستانی ٹیم ہی کیا جو اپنی ناقابل پیشگوئی پرفارمنس سے کرکٹ مبصرین، شائقین اور حریف ٹیم کو دنگ نہ کر دے، خواہ وہ مشکل صورت حال سے میچ میں واپسی ہو یا پھر یقینی جیت کو شکست میں بدل دینا۔

مزید پڑھیے:  پہلے ہی ميچ سے بہترين کارکردگی دکھانی پڑے گی، مصباح الحق

بہرکیف پہلے ٹیسٹ کے اختتام پر کرکٹ ماہرین نے ایک طرف فاتح ٹیم کی عمدہ واپسی کی پذیرائی کی تو دوسری طرف پاکستانی کپتان کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے۔

کپتان کی ناقص حکمت عملی

ویسٹ انڈیز کے چوٹی کے فاسٹ بولر اور عمدہ تجزیہ نگار مائکل ہولڈنگ نے کہا کہ چوتھے دن کے پہلے دو سیشن تک پاکستان کی میچ پر گرفت تھی، حالانکہ دوسری اننگز میں بلے باز اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے، پھر بھی 277 رنز کا ہدف ایک فائٹنگ ٹوٹل تھا۔ اپنے یوٹیوب چینل پر تبصرے کے دوران ہولڈنگ نے کہا، ''جب وکٹ کیپر بیٹسمین جوس بٹلر اور آل راؤنڈر کِرس ووکس کی پارٹنرشپ جمی تو میچ کے اس اہم مرحلے کے دوران کپتان کی ٹیکٹکس درست نہیں تھیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ کِرس ووکس کی گزشتہ پانچ میچوں میں بیٹنگ اوسط صرف 5.22 رنز فی میچ تھی لیکن پاکستان  کو شاید ووکس کی بلے بازی کی صلاحیت کا اندازہ نہیں تھا اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی اسٹریٹجی نظر آئی۔ اور یوں پلیئر آف دی میچ کرس ووکس نے 84 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ادھر وسیم اکرم کے خیال میں کپتان اظہر علی نے ایک بہترین موقع گنوا دیا۔ وسیم اکرم کے مطابق جب کرس ووکس بیٹنگ کرنے کریز پر آئے تو ان کو نہ تو باؤنسر مارے گئے اور نہ ہی شارٹ پِچ بالنگ کی گئی،جس کی وجہ سے وہ کریز پر جم گئے۔

پاکستان کے سابق کپتان رمیز راجہ نے بھی اظہر علی کے 'ڈفینسو مائنڈ سیٹ‘ پر تنقید کی اور کہا کہ لیگ اسپنر یاسر شاہ کو ٹھیک فیلڈ پلیسنگ نہیں دی گئی، بٹلر اور ووکس کے درمیان 139 رنز کی فتح کن پارٹنرشپ کے دوران کپتان نے مسلسل ڈیپ پوائنٹ پر فیلڈر رکھا جس کی وجہ سے انگلش بلے بازوں کو مسلسل سنگلز ملتے رہے اور یاسر شاہ ان پر پریشر نہ ڈال سکے، گو کہ وہ دونوں اننگز میں چار چار کھلاڑیوں کی وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

پی ٹی وی اسپورٹس پر سابق کپتان راشد لطیف نے بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کرس ووکس نے اپنے آدھے سے زائد رنز آف سائڈ کی طرف حاصل کیے۔ لطیف کے مطابق اس وقت پاکستانی کپتان کو متبادل اسٹریٹجی آزمانی چاہیے تھی۔

یہ بھی پڑھیے: محمد عامر انگلینڈ کے خلاف سیریز میں شامل

دنیا کے تیز ترین بالروں میں شمار کیے جانے والے پاکستانی بالر شعیب اختر نے پاکستانی فاسٹ بالرز کی جانب سے ایک ہی طرح کی لینگتھ پر بولنگ کی تنقید کی۔ ان کے بقول شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کو 'تگڑے، میچ وننگ اسپیلز' کرکے وکٹیں لینا ہوں گی۔ اختر نے اپنے تبصرے میں کہا کہ موقعے کی مناسبت سے یارکرز اور شارٹ پچ بولنگ بھی ضروری ہوتی ہے۔ ان کے بقول، ''اگر صرف ایک ہی چینل پر لینگتھ بولنگ ہوگی تو بٹلر جیسے جاریحانہ بلے بازوں کے لیے کھیلنا آسان ہوجائے گا۔‘‘

بٹلر اور ووکس کا کاؤنٹر اٹیک

چھٹی وکٹ کے لیے 139 رنز کی شراکت داری کرنے والے جوس بٹلر نے میچ کے بعد اسکائے اسپورٹس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور ووکس اسکور بورڈ کو رکنے نہیں دینا چاہتے تھے، اس لیے وہ مسلسل کاؤنٹر اٹیک کر تے رہے۔ 75 رنز کی اننگز کھیلنے والے بٹلر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کے ذہن میں یہ بات بھی تھی کہ پاکستان ٹیم کو دوسری نئی گیند ملنے تک زیادہ سے زیادہ اسکور بنا لیا جائے تاکہ بعد میں نئی گیند پر زیادہ مشکلات کا سامنا نہ ہوسکے۔

کیا اظہر علی کی کپتانی خطرے میں ہے؟

پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی نے پہلے ٹیسٹ میں شکست کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے جوش بٹلر اور کرس ووکس کی عمدہ بیٹنگ پارٹنرشپ کو بنیادی وجہ بتایا۔ انہوں نے اپنی پرفارمنس کے سوال کے جواب میں کہا کہ دس سال کرکٹ کھیلنے کے بعد وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ کب کونسا فیصلہ کرنا ہے۔ ان کے بقول، ''بیٹنگ کرتے ہوئے کپتانی کے بارے میں نہیں سوچتا اور کپتانی کے دوران ذاتی پرفارمنس یا فارم کا نہیں سوچتا۔‘‘

ایک طرف جہاں اظہر علی کی کپتانی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں تو دوسری جانب ان کی بیٹنگ پرفارمنس بھی تنقید کی زد میں ہے۔ اظہر علی پہلی اننگ میں صفر پر جبکہ دوسری اننگز میں صرف اٹھارہ رنز بناسکے۔ وہ دونوں ہی مرتبہ کرس ووکس کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ آؤٹ آف فارم اظہر علی نے اپنی گزشتہ بارہ ٹیسٹ اننگز میں 11 عشاریہ 58 کی اوسط سے صرف 139 رنز بنائے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:  موذی دور میں ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی، کھیل پہلے جیسا نہیں رہے گا

واضح رہے اظہر علی نے سرفراز احمد کے بعد ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سنبھالی ہے۔ سرفراز کو بھی ناقص بیٹنگ فارم کی وجہ سے کپتانی سے ہٹایا گیا تھا۔

ٹیسٹ کرکٹ کا چسکا برقرار

کورونا وائرس کی وبا کے سبب کرکٹ گراونڈ ابھی تک تماشائیوں سے محروم ہے لیکن اس مرتبہ 'بائیو سکیور‘ ماحول میں کھیلے جانے والے انگلش سیزن میں عمدہ اور سنسنی خیز ٹیسٹ کرکٹ نے شائقین کرکٹ کو ٹی وی اسکرین سے جوڑے رکھا ہے۔ سابق کرکٹرز پہلے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کی زبردست جیت کو ٹیسٹ کرکٹ کی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم  13 اگست سے ساؤتھ ہیمپٹن کے 'روز بول گراونڈ‘  میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں کامیابی حاصل کرکے تین میچوں کی سیریز کو ایک ایک سے برابر کر سکتی ہیں یا نہیں۔

DW.COM