پاکستان سپر لیگ کا چوتھا سیزن | کھیل | DW | 15.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

پاکستان سپر لیگ کا چوتھا سیزن

پاکستان سپر لیگ کے چوتھے سیزن کا آغاز جمعرات 14 فروری سے ہو گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں ہونے والے اس سیزن میں چھ ٹیمیں شریک ہیں۔ اسلام آباد یونائیٹڈ اس بار بھی فیورٹ ہے۔

پاکستان سپر لیگ (PSL) کے چوتھے سیزن کا آغاز جمعرات 14 فروری کو متحدہ عرب امارات ہوا۔ پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے متحدہ عرب امارات کے حکام کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سپر لیگ دنیا کی مقبول ترین لیگز میں سے ایک ہے اور صرف پاکستان ہی کے نہیں بلکہ دنیا بھر کے کرکٹ شائقین ایس ایل سے لطف اندوز ہوں گے۔

دبئی کے اسٹیڈیم میں ہونے والی اس افتتاحی تقریب میں پاکستانی اور غیر ملکی فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ پاکستانی گلوکارہ عائمہ بیگ نے اپنی شاندار پرفارمنس پیش کرتے ہوئے لیجنڈ گلوکارہ نازیہ حسن کا مقبول گانا ’ڈسکو دیوانے‘ پیش کیا جبکہ ان کے ہمراہ گلوکار شجاع حیدر بھی موجود تھے۔ اس کے بعد پاکستان کے نامور بینڈ جنون نے اپنا معروف ملی نغمہ ’جذبہ جنون‘ پیش کیا۔ جنون گروپ کے بعد پاکستان کے نامور فنکار اور گلوکار فواد خان نے پی ایس ایل فور کا آفیشل گانا گایا۔

پی ایس ایل میں شریک ٹیمیں اور ان کی کارکردگی

اس برس بھی اس ٹورنامنٹ میں چھ ٹیمیں شریک ہیں جن میں اسلام آباد یونائیٹڈ، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز،کراچی کنگز، ملتان سلطانز، لاہور قلندرز اور پشاور زلمی شامل ہیں۔

اسلام آباد یونائیٹڈ

اسلام آباد یونائیٹڈ گزشتہ تین سیریز میں سے دو جیت چکی ہے۔ گزشتہ سال  اسلام آباد یونائیٹڈ نے فائنل میں پشاور زلمی کو شکست دی تھی مگر اس بار تجربہ کار کپتان مصباح الحق یونائیٹڈ کی کپتانی نہیں کر رہے بلکہ یونائیٹڈ کی قیادت محمد سمیع کے ہاتھ میں ہے۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کی سب سے بڑی امید نیوزی لینڈ کے لیوک رانکی ہیں جنھوں نے گزشتہ پی ایس ایل میں انتہائی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 435 رنز بنائے تھے۔

پشاور زلمی

پشاور زلمی پی ایس ایل کے دوسرے سیزن کی فاتح تھی جبکہ گزشتہ سال وہ اسلام آباد یونائیٹڈ سے فائنل میں ہاری گئی تھی۔ زلمی ایک مرتبہ پھر ویسٹ انڈین کھلاڑی ڈیرن سیمی کی قیادت میں میدان میں اتر رہی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اسلام آباد یونائیٹڈ چھوڑ کر آنے والے مصباح الحق کا وسیع تجربہ بھی اب پشاور زلمی کو حاصل ہے۔ پی ایس ایل کے سب سے کامیاب بلے باز کامران اکمل (929 رنز) اور سب سے کامیاب بالر وہاب ریاض (48 وکٹیں) بھی زلمی میں شامل ہیں جبکہ ویسٹ انڈین کھلاڑی کیرن پولارڈ، آندرے فلیچر، انگلینڈ کے  بیٹسمین وین میڈسن کی موجودگی بھی زلمی کو تقویت دیتی ہے۔

Pakistan Super League PSL Cricket Peshawar Zalmi - Quetta Gladiators

پشاور زلمی ایک مرتبہ پھر ویسٹ انڈین کھلاڑی ڈیرن سیمی کی قیادت میں میدان میں اتر رہی ہے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز

 قسمت کی دیوی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے ابھی تک تو روٹھی ہی رہی اور وہ دو بار فائنل کھیلنے کے باوجود وہ فتح سے دور رہے۔ سرفراز احمد کی قیادت میں اسے اس بار بھی شین واٹسن اور رائلے روسو کا ساتھ حاصل ہے۔ سنیل نارائن، ڈوئن براوو اور عمر اکمل کی موجودگی کوئٹہ کو ایک سخت جان حریف بنا رہی ہے۔ سیاسی پناہ لے کر آسٹریلیا جانے والے لیگ سپنر فواد احمد بھی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا حصہ بنے ہیں جبکہ پاکستانی کھلاڑیوں میں سہیل تنویر، انور علی، محمد نواز اور محمد اصغر شامل ہیں۔

کراچی کنگز

عماد وسیم کراچی کنگزکی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ کراچی کنگز کے پاس کولن انگرم، بابراعظم اور کولن منرو کی شکل میں ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے مستند بلے باز موجود ہیں۔ زمبابوے کے سکندر رضا اور انگلینڈ کے روی بوپارا بھی اس ٹیم کا حصہ ہیں اور بولنگ میں عثمان شینواری اور محمد عامر موجود ہیں۔ حالیہ مایوس کن کارکردگی کے بعد محمد عامر کے لیے یہ پی ایس ایل بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

ملتان سلطانز

ملتان سلطانز کی یہ دوسری لیکن نئے مالکان کے ساتھ پہلی پی ایس ایل ہے۔ سلطانز کی قیادت کی ذمہ داری بدستور شعیب ملک کے سپرد ہے، شاہد آفریدی، نکولس پورن اورآندرے رسل کی آمد سے یہ اسکواڈ مضبوط ہوگیا ہے۔ فاسٹ بالنگ میں طویل القامت محمد عرفان اور جنید خان موجود ہیں تاہم توجہ کا مرکز محمد عباس ہوں گے۔

لاہور قلندرز

لاہور قلندرز تینوں پی ایس ایل میں سب سے آخری نمبر پر آنے والی ٹیم ہے۔ اس بار پاکستان سپر لیگ کا سب سے بڑا نام اے بی ڈویلیئرز لاہور قلندر کے اسکواڈ میں شامل ہے۔ ان کے علاوہ نیوزی لینڈ کے کورے اینڈرسن اور کارلوس بریتھ ویٹ کی موجودگی بھی لاہور قلندرز کے خطرناک عزائم کا پتہ دے رہی ہے۔ محمد حفیظ کی زلمی سے قلندرز میں آمد کپتان کی حیثیت سے ہوئی ہے جبکہ فخر زمان سے بھی بے پناہ توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔

DW.COM