پاکستان: سوئس کيسز دوبارہ کھلوانے کے ليے وزير اعظم کو مزيد مہلت فراہم | حالات حاضرہ | DW | 27.08.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: سوئس کيسز دوبارہ کھلوانے کے ليے وزير اعظم کو مزيد مہلت فراہم

پاکستانی سپریم کورٹ نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنے سے متعلق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو مزيد 22 دن کی مہلت دے دی ہے۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی بینچ نے این آر او کو کالعدم قرار دینے سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد اور وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کے بعد وزیراعظم کو ہدايت جاری کی کہ وہ 18ستمبر کو مثبت پیش رفت کے ساتھ دوبارہ پیش ہوں۔

وزیراعظم کے ہمراہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کی قیادت بھی کمرہ عدالت میں موجود تھی۔ مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اس مقدمے کی وجہ سے ملک میں ہیجان اور بے یقینی کی صورت حال ہے۔ انہوں نے مزيد کہا کہ وہ اس معاملے کو طول دینے کے لیے وقت حاصل نہیں کرنا چاہتے لیکن انہیں اس مسئلے پر مشاورت کے لیے مزيد وقت درکار ہے۔ اس پر عدالت نے انہیں کہا کہ وہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کی مثبت یقین دہانی کرائیں تو انہیں وقت مل سکتا ہے۔ وزیراعظم اور وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ وہ اس معاملے کا حل چاہتے ہیں اور سنجیدگی سے کوشش کر رہے ہیں۔ دونوں عہديداران کی جانب سے يقيق دہانی کے بعد عدالت نے انہیں 18 ستمبر تک کی مہلت دے دی۔

بعد ازاں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’ہم یہاں کسی فتح یا شکست کے لیے نہیں آئے تھے۔ ہمیں عدالت سے انصاف کی توقع ہے اور جو کچھ ہوا وہ ٹھیک ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہو گا؟ ہم حکومت کا موقف عدالت میں پیش کرنے کے لیے حاضر ہوئے۔ وزیراعظم صاحب نے عدالت سے استدعا کی، انہیں ٹائم دیا گیا ہے۔ ہم اس معاملے کا حل چاہتے ہیں۔‘

حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے قانونی ماہر وسیم سجاد کا کہنا ہے کہ عدالت نے وزیراعظم کو مہلت دے کر تدبر کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا، ’عدالت چاہتی تو کہتی کہ ہم وقت نہیں دیتے۔ عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے جو کہ ایک مثبت اقدام ہے اور انہوں نے جو وقت دیا ہے اس پر وزیراعظم نے کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ مثبت حل تلاش کریں۔‘

پاکستانی وزير اعظم راجہ پرويز اشرف

پاکستانی وزير اعظم راجہ پرويز اشرف

تاہم بعض وکلاء کا کہنا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرنے کے بجائے تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے وکیل عامر عباس کا کہنا ہے، ’سپریم کورٹ نے ایک حکم دیا تھا جس پر تین سال گزرنے اور ایک وزیراعظم کی توہین عدالت کیس میں قربانی کے باوجود معاملہ وہیں کا وہیں ہے۔ بلکہ میری نظر میں یہ معاملہ زیادہ خراب ہو چکا ہے۔‘

اٹارنی جنرل عرفان قادر نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ حکومت درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا، ’یقیناً درمیانی راستہ نہیں ہوتا۔ عمل تو آئین پر کرنا ہے اور انشاء اللہ مجھے امید ہے کہ وزیراعظم آئین پر عمل کریں گے اور عدالتیں بھی اس میں ان کی مدد کریں گی۔ امید ہے کہ افہام و تفہیم کے ساتھ رکاوٹ عبور کر لیں گے۔‘

رپورٹ: شکور رحيم

ادارت: عاصم سليم