پاکستانی طالبان کی امن مذاکرات کی پیشکش، کتنی سنجیدہ؟ | حالات حاضرہ | DW | 12.05.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستانی طالبان کی امن مذاکرات کی پیشکش، کتنی سنجیدہ؟

پاکستانی طالبان نے امن مذاکرات کے لیے جنگ بندی میں سولہ مئی تک کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔ گزشتہ سال بھی حکومت نے ٹی ٹی پی کے ساتھ امن مذاکرات کیے تھے جو ناکام رہے تھے۔

تحریک طالبان پاکستان نے جنگ بندی میں یکطرفہ طور پر توسیع کا اعلان کرتے ہوئے حکومت پاکستان کو امن مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ جنگجوؤں کے دو مختلف ذرائع نے یہ بات فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتائی ہے۔

پاکستانی حملوں میں افغان ہلاکتوں کی تعداد 47 ہو گئی، حکام

پاکستان خبردار رہے، افغان طالبان کی اسلام آباد کو تنبیہ

افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال، کابل اور اسلام آباد میں بڑھتے فاصلے

گزشتہ برس اگست میں افغانستان میں طالبان کی عمل داری کے بعد سے پاکستانی طالبان نے پاکستان میں سکیورٹی دستوں کے خلاف حملے بڑھا دیے ہیں۔ اسلام آباد حکومت نئی افغان انتظامیہ پر الزام لگاتی ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں سمیت دیگر عسکریت پسند گروہوں کو پناہ دے رہی ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ جنگجو سرحد پار کر کے حملہ کرنے آتے ہیں۔ یہ مسئلہ سفارتی تناؤ کا باعث بن گیا ہے۔

عسکریت پسندوں کے دو ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ عید کے تہوار کے لیے ٹی ٹی پی کی جنگ بندی میں اب 16 مئی تک کے لیے توسیع کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں تحریک طالبان پاکستان نے اپنے جنگجوؤں کو ایک خط تحریر کیا ہے، جس میں انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ مرکزی کمان سے دیے گئے حکم کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی ثالثوں کی ایک ٹیم ٹی ٹی پی کی قیادت سے ملاقات کے لیے افغانستان گئی ہے۔ ان مذاکرات کا انتظام افغان طالبان نے کیا ہے۔ پاکستان نے سرکاری طور پر ابھی تک اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ گزشتہ سال حکومت نے ٹی ٹی پی کے ساتھ ایک ماہ طویل جنگ بندی کے دوران امن مذاکرات کیے جو بالآخر ناکام ہو گئے تھے۔

گزشتہ ماہ افغان طالبان نے کہا تھا کہ مشرقی افغانستان میں پاکستانی فضائی حملے میں 47 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان نے اس حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن کابل پر زور دیا کہ وہ عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے اپنی سرحد کو محفوظ بنائے۔

افغان طالبان نے اس حملے کو 'ظالمانہ‘ قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ اس نے 'افغانستان اور پاکستان کے درمیان دشمنی کی راہ ہموار کی۔‘  مارچ میں اسلامک اسٹیٹ کے ایک خودکش بمبار نے، جو حکام کے مطابق افغان شہری تھا، شمال مغربی پاکستان میں ایک مسجد میں 64 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں عسکریت پسند گروپوں کو اس وقت کافی آزادی حاصل ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:45

’پاکستانی طالبان کی واپسی خطرناک ہو گی‘

ع س / ع ب (اے ایف پی)