پاکستانی حکومت کھل کر فوج کے سامنے آ گئی | حالات حاضرہ | DW | 23.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی حکومت کھل کر فوج کے سامنے آ گئی

میمو گیٹ اسکینڈل کے معاملے پر پاکستان کی طاقتور فوج اور سویلین حکومت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کھل کر میدان میں آ گئے ہیں۔

default

جمعے کے روز چھپنے والے ڈان اخبار کے اداریے کے مطابق میمو اسکینڈل کے بعد پاکستانی فوج نے بغاوت کی ایک سازش بھی تیار کر لی تھی اور اب پاکستانی فوج اور موجودہ حکومت کے تعلقات ’ناقابل واپسی‘ موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے میمو گیٹ اسکینڈل کی مکمل تحقیقات کروانے کا کہا ہے تاکہ پتہ چلایا جا سکے کہ کی اس سازش کے پیچھے کون ہے؟ تجزیہ کاروں کے مطابق جنرل کیانی کے اس مؤقف سے، پہلے ہی سے غیر مقبول صدر ‌زرداری کی شہرت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کے بعد پاکستان آرمی عوامی اور سیاسی سطح پر شدید تنقید اور دباؤ کی زد میں تھی تاہم 26 نومبر کو نیٹو حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستانی آرمی ایک مرتبہ پھر عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

پاکستان میں صدر زرداری کی حکومت انتہائی غیرمقبول ہونے کی وجہ سے میموگیٹ اسکینڈل میں بھی لوگوں کی زیادہ تر ہمدردیاں فوج ہی کے ساتھ ہیں۔ مذکورہ بالا اسکینڈل میں صدر زرداری اور ان کے امریکہ میں تعینات سابق سفیر حسین حقانی امریکہ کے حامی کے طور پر سامنے آئے ہیں اور پاکستان میں پہلے ہی امریکہ مخالف جذبات اپنے عروج پر ہیں۔

بیرونی مالی مدد پر انحصار رکھنے والی پاکستان کی موجودہ حکومت اہم ملکی مسائل حل کرنے میں ناکام نظر آئی ہے، جن میں بجلی کی لوڈشیڈنگ، گیس کا بحران اور ملکی معیشت کی روز بروز بگڑتی ہوئی صورتحال سرفہرست ہیں۔ چند اعلیٰ فوجی افسران کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ ملکی فوج صدر زرداری سے تنگ آ چکی ہے اور قانونی طریقوں سے انہیں منصب صدارت سے فارغ کرنا چاہتی ہے۔ پاکستانی اخبار ڈان نیوز کے مطابق پاکستانی فوج اور حکومت کے درمیان تعلقات خطرناک سطح تک پہنچ چکے ہیں۔

تاہم اس کے باوجود یہ کہنا کہ پاکستانی فوج ماورائے آئین اقدامات کرتے ہوئے حکومت کا تختہ الٹ سکتی ہے، قبل از وقت ہو گا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستانی فوج اس وقت ملکی مشرقی سرحدوں سمیت شمالی مغربی سرحدوں پر بھی مصروف ہے اور ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں بھی اس مرتبہ آرمی کا ساتھ دیتی نظر نہیں آتیں۔ آج پاکستان کے چیف جسٹس افتخار چودھری نے بھی فوج کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔ انہوں نے جمعے کو میمو اسکینڈل سے متعلقہ مقدمے کی سماعت کے دوران کہا کہ اب عوام کا بھروسہ عدلیہ پر ہے اور اس لیے فوج کے اقتدار میں آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

پاکستانی فوج کی طرف سے اقتدار میں آنے کے امکانات کس قدر کم ہیں اس کا اندازہ گزشتہ روز دیے جانے والے پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے ایک بیان سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج ریاست کے اندر ریاست نہیں بنا سکتی اور وہ پوری طرح پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت دفاع سمیت تمام ملکی ادارے وزیر اعظم پاکستان کے ماتحت ہیں ۔ وزیراعظم کو ادراک ہو چکا ہے کہ ملکی فوج اس وقت ان کا تختہ الٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

اشتہار