پاپوا نیو گِنی: لینڈ سلائیڈنگ میں ہلاکتوں کا اندازہ 670
26 مئی 2024
جنوبی بحرالکاہل کے ایک جزیرے پر واقع ملک پاپوا نیو گِنی میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت کے مشن کے سربراہ سرہان اکٹوپراک نے کہا کہ ہلاکتوں کی نظر ثانی شدہ تعداد کا تخمینہ بڑھا کر 670 کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا تھا کہ یہ اندازہ یمبلی گاؤں اور انگا کے صوبائی حکام کے اندازوں پر مبنی ہے۔ نئے تخمینے کے مطابق جمعہ 24 مئی کو ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے 150 سے زائد گھر ملبے تلے دب گئے ہیں۔ گزشتہ تخمینہ 60 گھروں کا تھا۔ اکٹوپراک نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا، ''ان کا اندازہ ہے کہ اس وقت 670 سے زائد افراد مٹی کے نیچے ہیں۔‘‘
دنیا بھر میں ریکارڈ 76 ملین افراد اندرون ملک بے گھر ہو گئے
افغانستان: شدید بارشوں اور سیلاب سے سینکڑوں افراد ہلاک
مقامی حکام نے ابتدائی طور پر جمعے کو ہلاکتوں کی تعداد 100 یا اس سے زیادہ بتائی تھی۔ ہفتہ کی رات تک صرف چھ لاشیں ملبے تلے سے نکالی گئی تھیں۔ دارالحکومت پورٹ مورسبی کے شمال مغرب میں 600 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس پہاڑی مقام پر امدادی کاموں کے لیے بھاری آلات فوریی طور پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔
ادھر ہنگامی امدادی کارکن لینڈ سلائیڈنگ کے بعد زندہ بچ جانے والے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دریں اثناء پاپوا نیو گِنی کی حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ آیا اسے باضابطہ طور پر مزید بین الاقوامی حمایت کی درخواست کرنے کی ضرورت ہے۔
پاپوا نیو گنی میں بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کے مشن کے سربراہ سرہان اکٹوپراک کے مطابق جمعہ کو علی الصبح صوبہ انگا کے یمبلی گاؤں کے ایک حصے میں مٹی کے تودے گرنے سے 20 سے 25 فٹ تک ملبہ گھروں کے اوپر جمع ہو گیا۔ اتنے زیادہ ملبے کے سبب نیچے دب جانے والوں کی زندگی کی امید نہیں رہی تھی۔
مقامی حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ 100 سے زائد بتایا تھا۔
اکٹوپراک نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ملبے سے لوگوں کو زندہ نکالنے کی امیدیں اب کم ہو گئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، ''لوگ اس صورتحال نبرد آزما ہیں اور وہاں شدید غم اور سوگ کی صورتحال ہے۔ سرکاری حکام ملبے کے دونوں جانب محفوظ مقامات پر امدادی مراکز قائم کر رہے ہیں۔‘‘
اکٹوپراک کا مزید کہنا تھا، ''ملبے پر کام کرنا بہت خطرناک ہے اور زمین اب بھی پھسل رہی ہے۔‘‘
پاپوا نیو گِنی میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت کے مشن کے سربراہ سرہان اکٹوپراک نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ملکی حکومت منگل تک فیصلہ کرے گی کہ آیا وہ باضابطہ طور پر مزید بین الاقوامی مدد کی درخواست کرے گی یا نہیں۔
امریکہ اور آسٹریلیا، جو قریبی ہمسایہ اور پاپوا نیو گنی میں غیر ملکی امداد فراہم کرنے والے بڑے ممالک ہیں، امدادی کاموں میں مدد کی پیشکش کر چکے ہیں۔
پاپوا نیو گنی ایک متنوع، ترقی پذیر ملک ہے جس میں 800 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ 10 ملین آبادی والے اس ملک میں زیادہ تر افراد کھیتی باڑی پر گزر بسر کرتے ہیں۔
ا ب ا/ع ب (اے پی، اے ایف پی)