پارا چنار اتوار بازار میں بم دھماکہ، 23 ہلاک 30 سے زائد زخمی | حالات حاضرہ | DW | 13.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پارا چنار اتوار بازار میں بم دھماکہ، 23 ہلاک 30 سے زائد زخمی

کالعدم عسکریت پسند تنظیم لشکرِ جھنگوی نے پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقے میں اتوار بازار میں ہونے والے ایک بم دھماکے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ اس دھماکے میں کم از کم 23 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

ابتدائی خبروں کے مطابق کؑرم ایجنسی کے مرکزی علاقے پارا چنار کے عید گاہ میدان میں لگنے والے اتوار بازار میں یہ دھماکہ عین اُس وقت ہوا جب وہاں خریداروں کی ایک بڑی تعداد جمع تھی۔ پارا چنار کا علاقہ اس شمالی قبائلی علاقے میں شیعہ برادری کا گڑھ مانا جاتا ہے۔

کُرم ایجنسی کے ایک سینئر پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک بیان میں بتایا کہ پارا چنار کے اتوار بازار میں ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 23 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اس خبر کی تصدیق کُرم ایجنسی کی سیاسی انتظامیہ کے ایک منتظم امجد علی خان نے بھی کر دی ہے۔

سیاسی انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کا کام جاری ہے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق عینی شاہدین نے کہا ہے کہ جائے وقوعہ سے دو مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

Pakistan Parachinar

پارا چنار کے علاقے میں ماضی میں بھی متعدد بار دہشت گردانہ حملے ہوتے رہے ہیں

شہر کے داخلی مقام پر واقع عید گاہ میدان جہاں یہ اتوار بازار لگا کرتا ہے وہاں دھماکے کے وقت خواتین اور بچے بھی موجود تھا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق زخمیوں میں سے کئی کی حالت نازک ہے اور ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

یہ علاقہ ایک عرصے سے عسکریت پسندوں کی بپا کی ہوئی شورش اور فرقہ ورانہ فسادات کا مرکز بنا ہوا ہے۔ پاکستانی فوج نے اس علاقے سے دہشت گردوں اور فرقہ ورانہ فساد پھیلانے والے باغیوں کا خاتمہ کرنے کے لیے ایک عرصے سے آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔

اشتہار