ٹرمپ کے لیے ایران کے خلاف فوجی کارروائی مزید مشکل | حالات حاضرہ | DW | 14.02.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ٹرمپ کے لیے ایران کے خلاف فوجی کارروائی مزید مشکل

امریکی سینیٹ نے ایک قرارداد منظور کرکے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف کسی طرح کی فوجی کارروائی کرنے سے روک دیا ہے۔

امریکا میں حکمران ری پبلیکن پارٹی کے آٹھ اراکین سمیت اس قرارداد کے حق میں 55 جبکہ مخالفت میں 45  سینیٹرز نے ووٹ ڈالے، تاہم ٹرمپ اس قرارداد کو ویٹو کرسکتے ہیں۔

اس قرارداد کی منظوری کے بعد امریکی صدر کو اب ایران کے خلاف کسی طرح کی جنگ چھیڑنے سے قبل کانگریس سے منظوری لینا پڑے گی۔ قرارداد میں تاہم ناگزیر صورت حال میں صدر ٹرمپ کو فیصلہ لینے کی اجازت دی گئی ہے۔

ڈیموکریٹ سینیٹر ٹم کائینے نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا ، ’’گوکہ ناگزیر حملے کی صورت میں صدر کو امریکا کا دفاع کرنے کی ہمیشہ اجازت ہے تاہم انہیں اپنی مرضی کے مطابق کوئی جنگ شروع کرنے کا اختیار نہیں ہو گا۔"

100رکنی سینیٹ میں حکمران ری پبلیکن پارٹی کے اراکین کی تعداد 53 ہے لیکن اس کے آٹھ اراکین نے اس قرارداد کی حمایت کی، اس طرح قراردار کے حق میں مجموعی طور پر 55  ووٹ پڑے۔ ری پبلیکن سینیٹر مائک لی نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا، ’’آخری چیز جو ہم چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ مشرق وسطی میں ایک اور بلا مقصد جنگ نہ ہو۔‘‘

امریکی صدر نے اس طرح کی کسی بھی قرارداد کو ویٹو کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس طرح کی قرارداد امریکا کی ”کمزوری" کی علامت ہے۔ صدر ٹرمپ اگر اس قرارداد کو ویٹو کرتے ہیں،  جس کا پورا امکان ہے،  تو اسے مسترد کرنے کے لیے ایک نئی قرارداد پیش کرکے اسے کانگریس کے دونوں ایوانوں دو تہائی اکثریت سے منظور کرانا ہو گا۔

امریکی سینیٹ میں یہ قرارداد اس دن منظور کی گئی جب ایران اپنے ایک اہم جنرل قاسم سلیمانی کی وفات کا چالیسویں منا رہا تھا۔ اس موقع پر تہران میں ایک ریلی بھی نکالی گئی، جس میں پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی نے امریکا اور اسرائیل کو وارننگ دی کہ اگر انہوں نے ایران کے خلاف کوئی کارروائی کی تو تہران سخت جوابی کارروائی کرے گا۔

امریکا نے تین جنوری کو بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ایک حملہ کرکے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے جواب میں ایران نے عراق میں واقع امریکا کے فوجی ٹھکانوں پر راکٹ داغے تھے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ابتدا میں دعوی کیا تھا کہ ایران کی طرف سے جوابی کارروائی میں کوئی امریکی فوجی زخمی نہیں ہوا۔ لیکن بعد میں امریکی فوج نے اعلان کیا کہ کم از کم 109امریکی فوجیوں کو شدید دماغی چوٹیں آئی ہیں۔ ایران نے بھی یہ اعتراف کیا تھا کہ اس نے امریکی ہدف سمجھ کر غلطی سے ایک مسافر بردار طیارہ کو مار گرایا، جس سے اس جہاز میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہو گئے۔

ج ا / ع ب / خبر رساں ادارے

DW.COM