ٹرمپ کا ٹوئٹر پر غصہ | حالات حاضرہ | DW | 27.05.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ٹرمپ کا ٹوئٹر پر غصہ

ٹوئٹر نے امریکی صدر کی کم از کم دو ٹوئٹر پوسٹس پر 'فیکٹ چیک' کا لیبل لگا دیا۔ جواب میں صدر ٹرمپ نے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کمپنی پر انتخابات میں مداخلت کا الزام لگایا ہے۔

یہ پہلی بار ہے کہ ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی ٹوئٹس پر اس نوعیت کا ایکشن لیا ہے۔ اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ کہتی رہی ہے کہ غلط اور گمراہ کن معلومات کے بارے میں صارفین کو متنبہ کرنے کے لیے ٹوئٹس پر ’وارننگ لیبل‘ لگائے جائیں گے۔ تاہم کمپنی  امریکی صدر کے خلاف ایسی کسی کارروائی سے اب تک بظاہر گریز کرتی رہی۔
ٹوئٹر پر دباؤ تھا کہ وہ پروپگینڈا اور ڈس انفارمیشن کی روک تھام کے لیے واضح اقدامت کرے۔ مائکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ نے مئی کے اوائل میں اپنی پالیسی میں ’وارننگ لیبلز‘ کے حوالے سے نئے قواعد متعارف کرائے تھے۔

یہ بھی پڑھیے: کیا ٹرمپ چین مخالف جذبات پر الیکشن جیت سکتے ہیں؟

صدر ٹرمپ نے منگل کو اپنی ٹوئٹر پوسٹس میں امریکا میں پوسٹل ووٹنگ کے ذریعے رائے دہی کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک فراڈ قرار دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹوں سے انتخابات میں دھاندلی کرائی جائے گی اور ایسا کبھی نہیں ہونے دیا جائے گا۔


صدر ٹرمپ کثرت سے ٹوئٹر کا استعمال کرتے ہیں اور اکثر سفارتی آداب بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے سیاسی مخالفین پر غصہ نکالتے رہتے ہیں۔ ٹوئٹر پر انہیں آٹھ کروڑ سے زائد اکاؤنٹس فالو کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کی ٹوئٹر سربراہ سے ملاقات، ’میرے فالوور کم کیوں ہوئے‘
صدر ٹرمپ پر تنقید ہوتی رہی ہے کہ وہ غیر مصدقہ دعوے کرتے ہیں اور جب کوئی اس کی نشاندہی کرے تو الٹا اسے جھوٹا قرار دیتے ہیں۔
ٹوئٹر کی جانب سے صدر ٹرمپ کی پوسٹس پر ’وارننگ لیبل‘ میں صارفین کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ حقائق جاننے کے لیے ٹوئیٹ کے ساتھ دیے گئے لنک پر کلک کریں جہاں انہیں پوسٹل ووٹنگ کے حوالے سے مصدقہ معلومات ملیں گی۔


اس سے پہلے صدر ٹرمپ کی بعض دیگر متنازع پوسٹس کے حوالے سے ٹوئٹر پر دباؤ تھا کہ وہ ان ٹوئٹس کو حذف کردے۔ تاہم کمپنی نے اس سے انکار کیا تھا۔
ٹوئٹر کے تازہ اقدام پر امریکی صدر نے ایک بار پھر اپنے شدید غصے کا اظہار کیا اور کہا کہ سوشل میڈیا ویب سائٹ اظہار آزادی کو دبا رہی ہے اور بطور صدر وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کمپنی پر الزام عائد کیا کہ وہ اس سال نومبر کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کر رہی ہے۔

ش ج / ع آ (اے پی، روئٹرز)

DW.COM