ٹرمپ مخالف مظاہرے جاری | حالات حاضرہ | DW | 12.11.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ مخالف مظاہرے جاری

امریکا میں آٹھ نومبر کے صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے خلاف کئی شہروں میں مظاہرے جاری ہیں۔ ان احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں لوگ نئے صدر کے انتخاب کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔

USA Washington Anti-Trump Protest Wahlnacht (picture-alliances/dpa/M. Reynolds)

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے مظاہرے میں اٹھایا گیا ایک بینر

امریکا کے کئی شہروں میں نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف پرشور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ہزاروں افراد میامی، اٹلانٹا، فلیڈیلفیا، لاس اینجلس، نیویارک، سان فرانسسکو، پورٹ لینڈ اور اوریگن کے شہروں میں باہر نکلے اور نومنتخب صدر کے خلاف نعرے بازی کی۔

کئی دوسرے شہروں میں درمیانے درجے کے مظاہرے بھی ہوئے۔ ان میں ڈیٹرائٹ، مینی ایپلس، کنساس سٹی، میسوری، اولمپیا، واشنگٹن ڈی سی اور آئیوا خاص طور پر نمایاں ہیں۔ ان شہروں میں پانچ سو کے لگ بھگ مظاہرین ’نو ٹرمپ‘ والے بڑے بڑے بینر اٹھائے ہوئے تھے۔

پورٹ لینڈ میں مظاہرین نے ٹریفک روکنے کے علاوہ پولیس پر خالی بوتلیں اور پتھر بھی پھینکے۔ ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کو آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔ پولیس نے مشتعل مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے دھماکے اور روشنی والے  گرینیڈز بھی پھینکے۔ اس مظاہرے سے پورٹ لینڈ میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ مظاہرین کی جانب سے پٹرول بم بھی پھینکے گئے۔

USA Präsidentschaftswahl Protest gegen Donald Trump in Chicago (Getty Images/J. Gress)

امریکی شہر شکاگو میں نکالے گسے ٹرمپ مخالف مظاہرہ

کئی امریکی شہروں کے تعلیمی اداروں کے اندر بھی طلبہ نے اینٹی ٹرمپ احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ٹینیسی کی وانڈربِلٹ یونیورسٹی کے طلبہ نے ٹرمپ کی کامیابی کے بعد امریکا کی سلامتی کے لیے دعائیہ شبینہ عبادت کا اہتمام کیا۔

 لاس اینجلس میں سینکڑوں افراد احتجاجی مارچ میں شریک ہوئے اور ٹریفک کو بلاک کر دیا۔ مظاہرین نے ٹرمپ کو بطور صدر مسترد کرنے کے نعرے لگائے۔ ایک روز قبل لاس اینجلس میں پولیس نے دو سو کے قریب مظاہرین کو گرفتار کیا تھا۔ شکاگو شہر میں آج ہفتہ بارہ نومبر کو کئی تنظیموں کی جانب سے ٹرمپ مخالف مظاہروں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

 میامی میں بھی ہزاروں لوگ ایسے ہی مظاہرے میں شریک ہوئے اور چند سو افراد ایک بڑی شاہراہ تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ ان مظاہرین نے اس شاہراہ کی دو طرفہ ٹریفک کو بند کر دیا۔ نیویارک شہر میں بھی ایسے ہی مظاہرے کیے گئے۔ مظاہرین  نے شہر کی فیشن ایبل سٹریٹ  ففتھ ایونیو پر واقع ٹرمپ کی رہائش کے باہر بھی احتجاج کیا۔

 

ان مظاہروں کے خلاف نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں کہا تھا کہ یہ میڈیا کا شاخسانہ ہے لیکن اب انہوں نے اس حوالے سے مؤقف تبدیل کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ کیا ہے کہ وہ امریکا کے لیے ایسے جذبات رکھنے والے مظاہرین کی قدر کرتے ہیں۔

DW.COM