ٹرمپ اور اُن کی ملاقات: حقیقی پیش رفت ضروری ہے، تجزیہ کار | حالات حاضرہ | DW | 19.01.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ٹرمپ اور اُن کی ملاقات: حقیقی پیش رفت ضروری ہے، تجزیہ کار

اندازوں کے مطابق اگلے ہفتوں کے دوران امریکی صدر اور شمالی کوریائی لیڈر کے درمیان دوسری ملاقات ہو سکتی ہے۔ قبل ازیں یہ دونوں رہنما گزشتہ برس سنگا پور میں ملاقات کر چکے ہیں۔

امریکی صدر اور شمالی کوریائی لیڈر کے درمیان دوسری سمٹ امکاناً فروری کے اختتام پر ہو سکتی ہے۔ اس ملاقات کا امکان شمالی کوریائی وزیر خارجہ کم یونگ چول کی جمعہ اٹھارہ جنوری کو امریکی صدر سے ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔ اُدھر ویتنام کے وزیراعظم نے اس ملاقات کی میزبانی کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کر دیا ہے۔ ٹرمپ اور اُن کی دوسری ملاقات کی تاریخ اور مقام کا تعین ابھی نہیں کیا گیا ہے۔

مختلف تجزیہ کاروں کا اس پر اتفاق ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریائی لیڈر چیئرمین کم جونگ اُن کی اولین ملاقات تاریخی ضرور تھی لیکن اس کے بعد شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری یا انہیں تلف کرنے کی جانب مثبت اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔ ’ریالٹی ٹیلی وژن‘ چینل کے تجزیہ کاروں کے مطابق دوسری ملاقات سے کیا ایسا ممکن ہے کہ شمالی کوریا جوہری پروگرام کو رول بیک کرنے کا آغاز کر دے گا۔

شمالی کوریائی رہنما اور امریکی صدر کی پہلی ملاقات کو امریکا اور جزیرہ نما کوریا کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی اور تناؤ کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا گیا تھا۔ اس لحاظ سے بھی یہ ملاقات اہم تھی کہ امریکی افواج بھی جنوبی کوریا میں متعین ہیں اور ایک طرح سے شمالی کوریا کو امریکا کا حریف بھی قرار دیا جاتا رہا ہے۔

USA Außenminister Mike Pompeo empfängt Kim Yong Chol (picture-alliance/AP Photo/C. Kaster)

شمالی کوریائی وزیر خارجہ کم یونگ چول اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو کے ہمراہ

سنگاپور میں ملاقات کے بعد ہونے والے سمجھوتے کے بعد کسی قسم کی عملی پیش رفت سامنے نہبیں آئی۔ شمالی کوریا کو بہت سارے تحفظات ہیں اور امریکا اس ملک پر عائد پابندیوں کے خاتمے سے پہلے کسی مثبت پیش رفت کا تقاضا کرتا ہے۔ چیئرمین کم جونگ اُن کی قیادت میں قائم حکومت کی جانب سے یہ بارہا سامنے آیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کے وعدے پر قائم ہیں لیکن پہلے امریکا عائد پابندیوں کو نرم کرے۔ اس دوران اس کمیونسٹ ملک کی حکومت نے امریکی وزیر خارجہ کے دورے پر تنقید بھی کی تھی۔

ناقدین کا یہ واضح طور پر کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے ابھی تک کوئی ’مضوبط ارادہ‘ ظاہر نہیں کیا اور ابھی تک وہ جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے سے دستبرداری کے کسی ممکنہ پلان کو بھی سامنے نہیں لایا۔ امریکا شمالی کوریا پر اپنے دباؤ کو کم کرنے پر بھی تیار نہیں۔ تجزیہ کاروں نے امریکا اور شمالی کوریا کے لیڈروں کی اگلی ملاقات میں مثبت پیش رفت اور عملی اقدامات کو طے کرنا ازحد ضروری قرار دیا ہے۔

DW.COM