ویکسین لگوانے کے باوجود کورونا انفیکشن: ویکسین بے اثر ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 19.10.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ویکسین لگوانے کے باوجود کورونا انفیکشن: ویکسین بے اثر ہے؟

کچھ لوگوں کو کورونا ویکسین لگوانے کے بعد بھی کورونا وائرس کے حملے کا ہدف بن کر بیمار ہونا پڑا۔ اس سے کیا یہ مراد لی جا سکتی ہے کہ ان افراد پر کورونا ویکسین نے کوئی اثر نہیں کیا اور وہ بے اثر ہو گئی ہے؟

کسی بھی انسان کو ویکسین کی مکمل خوراک یعنی دو ٹیکے لگوانے کے بعد بھی کورونا انفیکشن ہو جائے تو اس کو 'بریک تھرو انفیکشن‘ کی کیٹیگری میں رکھا جاتا ہے۔ اس تناظر میں مختلف خبریں، بیانات اور رپورٹس سوشل میڈیا پر پھیلی ہوئی ہیں اور یہ سب عام لوگوں میں خوف و ہراس کا سبب بن رہا ہے۔ بریک تھرو انفیکشن سے مراد یہ لی جا رہی ہے کہ ویکسین بے اثر ہے۔ کیا ایسی خبریں غلط ہیں یا ان میں کتنی صداقت ہے۔

بھارتی شہریوں کے لیے ویکیسن کی ایک ارب خوراکیں لیکن سوالات برقرار

بریک تھرو انفیکشن

امریکا میں عمومی صحت کے نگران ادارے سی ڈی سی کی ایک ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ انسانی جسم میں کووڈ انیس کی ویکسین کے اثر پذیر ہونے کی اوسط شرح پچاسی سے نوے فیصد کے درمیان ہے۔ یہ شرح ویکسین لگانے کے فوری بعد کی ہے۔

Florida | COVID-19 Mobile Impfstelle

دنیا بھر میں کورونا انفیکشن سے بچاؤ کی ویکسین لوگوں کو لگائی جا رہی ہیں

گزشتہ مہینوں کے دوران دنیا میں انتہائی تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس کے ویریئنٹ ڈیلٹا کے حوالے سے بھی ایک امریکی ریسرچ میں بتایا گیا کہ ویکسین مکمل لگی ہو تو اس ویریئنٹ کے خلاف مدافعت چھیاسی فیصد تک ہوتی ہے۔

ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب تک کی دستیاب ویکسین ایک سو فیصد مؤثر نہیں ہیں اور اُن میں بھی مدافعت کی سطح سو فیصد نہیں، جنہیں ویکسین لگی ہوئی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ چھیاسی فیصد افراد میں ویکسین مؤثر ہے اور جو چودہ فیصد ویکسین لگوانے والے افراد ہیں ان میں انفیکشن پیدا ہونے کا رسک موجود رہتا ہے۔

امریکی ادارے کی ریسرچ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ویکسین لگے افراد میں کورونا وائرس کے حملے کے خلاف مدافعت آٹھ مرتبہ زیادہ ہوتی ہے اور ان کے مرنے کا چانس بھی پچیس مرتبہ کم ہوتا ہے۔

کورونا کے دوران آزادی اظہار پر قدغن کی کوششیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل

اس تناظر میں معالجین کا کہنا ہے کہ ایک فیکٹر وقت کا ہے اور اس وقت دنیا میں ویکسین کے حامل افراد کو ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا ہے اور حتمی طور پر کہا نہیں جا سکتا کہ انسانی بدن میں ویکسین کتنی دیر تک مؤثر رہے گی۔ جرمن سوسائٹی برائے امیونولوجی کی صدر کرسٹین فالک کا کہنا ہے کہ ویکسین لگوانے کے بعد انسانی جسم میں پیدا ہونے والی اینٹی باڈیز کی سطح میں کمی چھ سے نو ماہ میں ہونا ممکن ہے۔

USA - Impfungen

امریکا سمیت کئی ترقی یافتہ ممالک میں کورونا ویکسین کی فراہمی آسان بنا دی گئی ہے

جرمنی کی صورت حال

جرمنی میں فی الحال ویکسین سے تحفظ دیکھا جا سکتا ہے اور مسلسل انفیکشن کی شرح میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ بظاہر اب کورونا وائرس سے بیمار ہونے والے سنگین مریضوں کی تعداد کم ہو چکی ہے۔

چودہ اکتوبر تک متعدی امراض کے نگران جرمن قومی ادارے رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ کے مطابق اسی ہزار ایک سو اکیاسی کووڈ انیس میں مبتلا افراد میں بریک تھرو انفیکشن کے حامل افراد کی شرح  صفر اعشاریہ چھ فیصد تھی اور ان بریک تھرو انفیکشن کے حامل افراد میں مرنے کی شرح محض ایک فیصد رہی۔

مسجدالحرام میں نمازیوں پر کورونا کے باعث عائد پابندیاں ختم

اگر تقابل کیا جائے تو یہ حیران کن ہے کہ کورونا انفیکشن کی پہلی لہر کے دوران جرمنی میں ہلاکتوں کی شرح محض چھ اعشاریہ دو فیصد تھی اور اس وقت ابھی کورونا ویکسین کی تیاری کا عمل لیبارٹریوں سے باہر نہیں آیا تھا۔

رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ کے مطابق بریک تھرو انفیکشن سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چھ سو چھ ہے اور ان میں چوہتر فیصد کی عمریں اسی برس یا اس سے زائد تھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی عمر کے افراد اس وقت بھی رسک گروپ میں ہیں خواہ ان میں ویکسین کے مؤثر ہونے کی شرح بلند ہی کیوں نہ ہو۔

بریک تھرو انفیکشن کے مریض بڑھ رہے ہیں

اس بات کا جواب ہاں میں دیا جا سکتا ہے۔ رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ کے مطابق چار سے دس اکتوبر کے دوران بریک تھرو انفیکشن کے مریضوں کی تعداد بارہ ہزار پانچ سو بیس رہی جب کہ اس سے قبل کے ہفتے میں ایسے مریضوں کی تعداد دس ہزار آٹھ سو چوبیس تھی۔

Frankreich Protest gegen Corona-Regeln in Paris | Gelbweste

کورونا پابندیوں اور ویکسین کے مخالفین نے بھی کئی ملکوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا

اس کا بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ اٹھارہ سے انسٹھ برس کے افراد میں بریک تھرو انفیکشن کی ممکنہ شرح آٹھ اعشاریہ دو فیصد تک ہے۔ اس گروپ کے ویکسین لگے مریضوں کے بیمار ہونے کی ابتدائی شرح دو اعشارہ چھ فیصد تک رہی لیکن تین اکتوبر سے پہلے کے چار ہفتوں میں یہ شرح بلند ہو کر دس اعشاریہ ایک فیصد ہو گئی تھی۔

پاکستان کے تعلیمی نظام کو کووڈ انیس نے کیسے متاثر کیا ہے؟

اسی طرح ساٹھ برس یا اس سے زائد عمر کے افراد میں بھی بریک تھرو انفیکشن کی شرح بڑھ رہی ہے۔ اس گروپ کے افراد کی شرح تو پچپن فیصد سے زائد رہی لیکن ویکسین لگانے کے سلسلے کے بعد شدید علیل یا انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں صرف سات فیصد مریض لائے گئے لیکن دس اکتوبر سے پہلے کے چار ہفتوں میں یہ شرح اٹھائیس فیصد سے زائد ہو گئی ہے۔

یہ آرٹیکل جرمن زبان سے ترجمہ شدہ ہے

ایسٹرڈ پرانگے (ع ح/ ک م)