ویٹی کن کی جانب سے بھی رمشا کا دفاع | حالات حاضرہ | DW | 28.08.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ویٹی کن کی جانب سے بھی رمشا کا دفاع

ویٹی کن میں ’بین المذاہب مذاکراتی پوپ کونسل‘ کے صدر کارڈینل جین لوئسں توراں نے پاکستان میں توہین مذہب کے الزام میں قید نوعمر لڑکی رمشا مسیح کا دفاع کیا ہے۔

پیر کے روز کارڈینل توراں نے ریڈیو ویٹی کن سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’یہ ایک ایسی لڑکی کا معاملہ ہے ، جو لکھ پڑھ بھی نہیں سکتی۔ اسے اپنی زندگی گزارنے کے لیے کوڑا کرکٹ جمع کرنا پڑتا تھا۔ کتاب کے اوراق اُسے کوڑے سے ملے، جو اس نے اٹھا لیے۔‘‘

رمشا مسیح پر الزام ہے کہ اس نے مبینہ طور پر قرآنی قاعدوں کے اوراق جلائے۔ اس بچی کی عمر گیارہ سے سولہ برس کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔ اس وقت یہ بچی چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ میں نابالغوں کے لیے بنائی گئی جیل میں ہے۔

امام مسجد حافظ خالد چشتی نے کہا ہے کہ اس نے لوگوں کے غیض و غضب سے بچانے کے لیے رمشا کو پولیس کے حوالے کیا ورنہ لوگ اس لڑکی کا گھر جلانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ تاہم انہوں نے اصرار کیا کہ اس لڑکی نے جو کچھ کیا وہ دانستہ طور کیا اور وہ جانتی تھی کہ وہ کیا کر رہی ہے۔

اس مسیحی بچی کو توہین مذہب کی دفعہ دوسو پچانوے بی کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ اس دفعہ کے مطابق کوئی بھی شخص جان بوجھ کر قرآن یا اس کے کسی حصے کی بے حرمتی کرے، اُسے نقصان پہنچائے یا توہین آمیز طریقے سے استعمال کرے، اس کے لیے عمر قید کی سزا مقرر ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ رمشا ڈاؤن سنڈروم کی بیماری میں بھی مبتلا ہے، جس میں بچہ ذہنی طور پر کمزور ہوتا ہے۔ آج پاکستانی پولیس رمشا کی ذہنی صحت اور عمر کے بارے میں سامنے آنے والے نتائج عدالت میں پیش کرے گی۔

کارڈینل توراں نے مطالبہ کیا ہے کہ توہین مذہب کے الزام میں کسی بھی فیصلے سے پہلے حقائق کی مکمل طور پر جانچ پڑتال کی جانی چاہیے۔ ویٹی کن کے کسی بھی اعلیٰ عہدیدار کی طرف سے رمشا کی گرفتاری کے ایک ہفتے بعد یہ پہلا بیان ہے۔ پاکستان میں وزیر برائے قومی ہم آہنگی پال بھٹی نے بھی کہا ہے کہ یہ لڑکی بے قصور ہے اور اسے رہا کیا جانا چاہیے۔

یہ واقعہ اسلام آباد کے ایک پسماندہ علاقے مہر آباد میں پیش آیا تھا جبکہ وہاں عیسائیوں کے کئی گھروں کو آگ بھی لگا دی گئی تھی۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق قریب تین سو عیسائی اپنے خلاف حملوں کے خوف سے یہ علاقہ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

دوسری جانب مہر آباد کی مسجد کے امام کو بھی ’تشدد پر اکسانے‘ کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ia / aa (dpa,Reuters,AFP)

DW.COM

اشتہار