’ویلوٹ انقلاب‘ کے ہیرو اور سابق چیک صدر انتقال کر گئے | حالات حاضرہ | DW | 18.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ویلوٹ انقلاب‘ کے ہیرو اور سابق چیک صدر انتقال کر گئے

چیک جمہوریہ کے سابق صدر، ’ویلوٹ انقلاب‘ کے ہیرو اور معروف مصنف واٹسلاؤ ہاوِل 75 برس کی عمر میں انتقال کرگئے ہیں۔ یورپی رہنماؤں نے ان کی وفات پر گہرے غم کا اظہار کیا ہے۔

default

چیک جمہوریہ کے سابق صدر واٹسلاؤ ہاوِل

واٹسلاؤ ہاوِل کی سیکرٹری سابینا ڈانسکوا نے بتایا ہے کہ ہاوِل اتوار کی صبح شمالی چیک جمہوریہ میں واقع اپنے گھر پر طویل علالت کے بعد وفات پا گئے۔ کئی یورپی رہنماؤں سمیت جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بھی واٹسلاؤ ہاوِل کی وفات پر تعزیتی پیغامات ارسال کیے ہیں۔ جرمن چانسلر نے کہا کہ یورپی عوام ایک 'عظیم یورپی شخصیت' سے بچھڑ گئے ہیں، ' جمہوریت اور آزادی کے لیے ان کی جدوجہد ہمیشہ یاد رکھی جائے گی'۔

ہاوِل نے اپنے ملک میں جمہوریت کے قیام کے لیے بیش بہا کوششیں کیں اور چیکو سلوواکیہ کی پر امن تقسیم میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا۔ اپنے سیاسی کیریئر کے آغاز پر انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کئی شہرہ آفاق ڈرامے لکھے، جن کی بدولت چیکو سلوواکیہ کے عوام میں ایک نیا شعور اجاگر ہوا۔ ان کے یہی ڈرامے ایک تحریک بنتے چلے گئے، جس کے باعث 1989ء میں چیکوسلوواکیہ میں جاری رہنے والے اکتالیس سالہ طویل کمیونسٹ دور کا خاتمہ ممکن ہوا۔

کمیونزم کے خاتمے کے بعد واٹسلاؤ ہاوِل کو ملک کا صدر بننے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ 1936ء میں پراگ میں پیدا ہونے والے واٹسلاؤ ہاوِل نے نوجوانی میں ہی سیاسی جدوجہد شروع کر دی تھی۔ کمیونزم حکومت نے جب 1968ء میں انہیں تھیٹر سے الگ کر دیا تو انہوں نے انقلابی ڈرامے تحریر کرنا شروع کر دیے اور یوں وہ اس دور کی منحرف تحریک میں زیادہ سرگرم ہو گئے۔ اس دوران انہیں کئی مرتبہ جیلیں بھی کاٹنا پڑیں۔

1977ء میں جب انہوں نے چارٹر 77 نامی مینوفیسٹو لکھنے میں اہم کردار ادا کیا تو عوام ان کے نام سے اچھی طرح واقف ہو چکے تھے۔ 'ویلوٹ انقلاب' کے نتیجے میں جب کمیونزم کا خاتمہ ہوا تو انتیس دسمبر 1989ء کو انہیں چیکو سلوواکیہ کا صدر بنا دیا گیا۔ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں چیکو سلوواکیہ میں جمہوری اقدار کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی دوران 1993ء میں چیکو سلوواکیہ کی پر امن تقسیم میں بھی ان کا کردار قابل تحسین رہا۔

بعد ازاں چیک جمہوریہ کے پہلے صدر کے طور پر انہوں نے اپنے ملک کو 1999ء میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا رکن بنوانے اور بعد ازاں 2004ء میں یورپی یونین کا رکن ملک کا اعزاز دلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ سن 2003 میں صدارت کے عہدے سے الگ ہونے کے بعد وہ انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن کی حیثیت سے منظر عام پر آئے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس

اشتہار