ویجان ڈائٹ سے ویجیٹیرین بہتر | صحت | DW | 28.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

ویجان ڈائٹ سے ویجیٹیرین بہتر

غذائیات دان ویجیٹیرین فوڈ کے حق میں ہیں تاہم ویجان ڈائیٹ سے خبردار کرتے ہیں۔ اُن کے مطابق گوشت کے ساتھ ساتھ جانوروں سے حاصل کردہ تمام غذائی اجزاء سے پرہیز کرنے والے بچوں کے اندر آئرن کی کمی کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں

گوشت سے پرہیز کرنے اور سبزیوں پر انحصار کرنے والے والدین کے لیے اپنے بچوں کو بھی اسی لائف اسٹائل کا عادی بنانے کے عمل میں دشواریوں کا سامنا رہتا ہے۔ ویجیٹیرین والدین کو ایسے ٹھوس دلائل تلاش کرنا پڑتے ہیں جن کی مدد سے وہ اپنے بچوں کو اس امر کا قائل کر سکیں کہ گوشت ترک کر کے سبزیوں کا استعمال کرنا صحت کے لیے بہتر ہے۔

اس سلسلے میں جرمنی کی ’ویجیٹیرین سوسائٹی‘ کے ایگزیکٹو بورڈ کی رکن ’زلکے بوٹ‘ کا کہنا ہے کہ سبزی خور والدین کو جلد یا بدیر یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ آیا وہ واقعی اپنے بچوں کو سبزی خور بننے کی تربیت دینا چاہتے ہیں؟ گوشت ترک کر کے سبزیوں پر انحصار کی کئی وجوہات ہوتی ہیں: ماحولیاتی، اخلاقی، مذہبی یا صحت سے متعلقہ وجوہات۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ایسے والدین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جو اپنے بچوں کو یہ تربیت دے رہے ہیں کہ گوشت سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اس تعداد میں اضافے کی وجہ گوشت کے بارے میں سامنے آنے والے کچھ حالیہ اسکینڈلز ہیں۔ تاہم جرمن غذائیات دان زلکے بُوٹ کہتی ہیں’ بچوں کو ویجیٹیرین طریقے سے پالنے کا موضوع خاصا گرما گرم ہے۔

Semmelschmarrn mit Kirschen

دال اور پھلیاں بھی نہایت مفید ہوتی ہیں

اس ضمن میں مسائل وہاں سے پیدا ہونا شروع ہوتے ہیں جہاں ماں باپ میں سے کوئی ایک گوشت خور ہو اور دوسرا محض سبزی کا استعمال کرے‘۔ جرمن ویجیٹیرین سوسائٹی کی ایک اہلکار Antje Gahl نے ایک اور اہم سوال آُٹھایا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ گوشت سے مکمل پرہیز کرنے اور سبزیاں کھانے والوں کے اندر ضروری غذائیت کی کمی اور اس کے سبب گوناگوں بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ Antje کے مطابق اس بارے میں لوگوں کے اندر گرچہ کم خوف پایا جاتا ہے تاہم یہ ایک اہم مسئلہ ہو سکتا ہے خاص طور سے ایسے افراد کے لیے جو نہ صرف ویجیٹیرین یا سبزی خور ہوتے ہیں بلکہ جو انڈوں اور ڈیری مصنوعات سے بھی پرہیز کرتے ہیں۔ جرمن غذائیات دان Antje کا کہنا ہے کہ ایسے بچے چند اہم ترین غذائی عناصر سے محروم رہتے ہیں، جو ’ویجان ڈائیٹ‘ پر ہوتے ہیں یا صرف سبزی کھاتے ہیں اور جانوروں سے حاصل کردہ ہر طرح کے غذائی اجزاء سے پرہیز کرتے ہیں۔

Deutschland Essen Kochen Vegetarisch Hamburger mit Spiegelei

گوشت سے مکمل پرہیز کرنے والے اکثر انڈوں کا استعمال بھی نہیں کرتے

جرمنی میں صارفین کے تحفظ کی ایک تنظیم سے منسلک غذائیات دان Alexandra Borchard Becker بھی ویجیٹیرین فوڈ کے حق میں ہیں تاہم ویجان ڈائیٹ سے خبردار کرتی ہیں۔ اُن کے مطابق گوشت کے ساتھ ساتھ جانوروں سے حاصل کردہ تمام غذائی اجزاء سے پرہیز کرنے والے بچوں کے اندر آئرن کی کمی کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ Alexandra کے بقول،’بچے کے اندر آئرن کی منتقلی سب سے پہلے ماں کے دودھ کے ذریعے ہوتی ہے اور اُس کے بعد چھ ماہ کی عمر سے بچے کے جسم کو آئرن گوشت کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اصلی ثابت اناج، پھلیاں، سونف اور بہت سی دیگر سبزیوں میں بھی بہت زیادہ آئرن پایا جاتا ہے۔

ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بچوں کو زبردستی ویجیٹیرین بنانے کی کوشش نہ کریں۔ بچوں کو گوشت یا گوشت سے تیار کردہ غذا کھانے سے روکنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُن کے اندر اس کی زیادہ طلب پیدا ہوتی ہے۔ ضروری یہ ہے کہ بچوں کو بتایا جائے کہ گوشت سے پرہیز کرنا کیوں بہتر ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: امجد علی