ویت نام جنگ کے چالیس برس مکمل، بہت سے سوال ہنوز تشنہ | حالات حاضرہ | DW | 30.04.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ویت نام جنگ کے چالیس برس مکمل، بہت سے سوال ہنوز تشنہ

ویت نام جنگ ختم ہونے کے چالیس برس مکمل ہونے پر آج بروز جمعرات ویت نام میں خصوصی یادگاری تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ امریکی فوجی 1965ء میں پہلی مرتبہ ویت نام میں جنگی کارروائی کے لیے داخل ہوئے تھے۔

ہو چی من سٹی میں فوجی پریڈ کا اہتمام بھی کیا گیا

ہو چی من سٹی میں فوجی پریڈ کا اہتمام بھی کیا گیا

ٹھیک چالیس برس قبل کمیونسٹ فورسز نے ویت نام کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور امریکی اور اتحادی افواج ایک طویل اور تھکا دینے والی خونریز جنگ میں ناکامی کا منہ دیکھتے ہوئے واپس لوٹ گئی تھیں۔ ویت نام میں اس دن کو بھرپور محب الوطنی کے جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ تیس اپریل کو اس حوالے سے ویت نام کے شہر ہو چی من سٹی میں مرکزی تقریبات کا اہتمام کیا گیا، جن میں ہزاروں شہریوں سمیت سابق فوجیوں نے بھی شرکت کی۔

تیس اپریل 1975 کو شمالی ویت نام کے ٹینک جنوبی ویت نام کے دارالحکومت سائیگون میں داخل ہو گئے تھے۔ انقلابی فورسز کے قبضے کے بعد اس شہر کا نام تبدیل کر کے ہو چی من سٹی رکھ دیا گیا تھا۔ اس کامیابی کو انقلابی فورسز کے لیے ایک تاریخی فتح قرار دیا جاتا ہے، جو ایک عشرے تک امریکی اور اس سے قبل فرانسیسی فورسز کے خلاف گوریلا کارروائی میں ہمت نہیں ہاری تھیں۔ اس کامیابی کے بعد شمالی ویت نام اور جنوبی ویت نام کا انضمام ممکن ہوا تھا۔

امریکی فوج سے وابستہ کلف رائلی نے انقلابی فورسز کی طرف سے سائیگون پر قبضے کی کارروائی ٹیلی وژن پر براہ راست دیکھی تھی۔ انہوں نے انیس برس کی عمر میں امریکی فوج میں رضا کار کے طور پر خدمات سر انجام دینا شروع کی تھیں۔ شروع میں وہ سمجھتے تھے کہ ویت نام جنگ میں امریکی فوجی مداخلت سے کمیونزم سے لاحق خطرات کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

Vietnamkrieg

ویت نام جنگ میں پچاس ہزار سے زائد امریکی فوجی بھی مارے گئے تھے

ساٹھ کی دہائی میں رائلی جب ایک مشن کے دوران ویت نام پہنچے تھے تو انہوں نے وہاں بھوک، افلاس اور غربت دیکھی۔ ان کا خیال تھا کہ امریکی فوجی اس صورتحال کو بدلتے ہوئے اس علاقے کے باشندوں کو ایک اچھی زندگی دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ تاہم حقیقت اتنی سیدھی سادھی نہیں تھی اور رائلی جلد ہی شکوک کا شکار ہو گئے۔

رائلی کو جلد ہی احساس ہو گیا ہے کہ اس جنگ کی تباہ حالی سے ویت نامیوں کے زخموں پر مرہم نہیں رکھی جا سکتی۔ تب انہوں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ امریکی افواج ویت نام میں جو کچھ کر رہی ہیں، کیا وہ درست ہے؟ ایک انٹرویو میں رائلی نے بتایا، ’’اس دور میں جو تباہی ہم نے مچائی، وہ میرے لیے تکلیف دہ تھی۔ ہم نے ان کے ملک کو تباہ کر دیا۔ جب ہم اس ملک سے واپس لوٹیں گے تو یہ لوگ کیا کریں گے؟ اس وقت میں یہ سوچا کرتا تھا۔‘‘

یہ خیالات صرف رائلی ہی کے نہیں بلکہ دیگر بہت سے فوجی بھی کچھ یوں ہی سوچتے تھے۔ اس جنگ میں زندہ بچ جانے والے امریکی فوجیوں نے اس طویل تنازعے میں اپنے دوستوں، عزیزوں اور ساتھیوں کو ہلاک ہوتے دیکھا تھا۔

لنڈن جانسن نے جنگ کا انتخاب کیوں کیا؟

ویت نام جنگ کے خاتمے کے چالیس برس مکمل ہونے کے بعد آج تک کوئی بھی بھرپور دلائل کے ساتھ اس بات کا جواب نہیں دے سکا ہے کہ اس تنازعے میں امریکا نے مداخلت کن مقاصد کے حصول کے لیے کی، جس کے نتیجے میں رائلی کے دوست و احباب مارے گئے۔ اس تنازعے میں مداخلت کا فیصلہ کرنے والے 36 ویں امریکی صدر لنڈن بی جانسن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک مشاورتی مشن کو عملی جنگ میں دھکیل دیا تھا۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب امریکا کے پانچ لاکھ فوجی ویت نام میں تعینات کیے گئے تھے۔

امریکی مصنف ایڈورڈ جی مِلر کہتے ہیں، ’’شواہد بتاتے ہیں کہ جانسن ویت نام جنگ کے بارے میں متضاد خیالات کا شکار تھے‘‘۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ چونکہ امریکا نے پندرہ برس تک ویت نام کے داخلی معاملات میں مداخلت کی تھی، اس لیے جانسن سمجھتے تھے کہ جنوبی ویت نام کی حمایت کرنا واشنگٹن حکومت کی ذمہ داری ہے۔ مِلر کے مطابق اسی طرح جانسن اس جنگ کے بارے میں بہت فکر مند بھی تھے۔

USA Tod von John F. Kennedy Vereidigung von Lyndon B. Johnson im Flugzeug

جان ایف کینڈی کے قتل کے بعد 1963ء میں نائب صدر لنڈن بی جانسن نے صدر کا عہدہ سنبھالا تھا

کچھ ناقدین کے بقول جانسن کو یقین تھا کہ اگر شمالی ویت نام میں فعال کمیونسٹ طاقتوں نے جنوبی ویت نام پر قبضہ کر لیا تو کمیونزم جنگل کی آگ کی طرح پھیل جائے گا۔ دوسری طرف چند مبصرین کہتے ہیں کہ جانسن کی طرف سے ویت نام میں فوجی مداخلت کا فیصلہ دراصل داخلی سیاسی وجوہات کی بنا پر کیا گیا تھا۔ ان مبصرین کے مطابق جانسن کو خوف تھا کہ اگر ان کی حکومت نے ویت نام میں مناسب کارروائی نہ کی تو اس ملک کے دائیں بازو کے سیاستدان لبرل ڈیموکریٹ صدر پر یہ الزام عائد کرنے میں دیر نہیں کریں گے کہ وہ کمیونزم کے خلاف نرم رویہ رکھتے ہیں۔

تاہم آج بہت سے تاریخ دان اس بات پر متفق ہیں کہ ویت نام کی جنگ میں مداخلت کی ایک بڑی وجہ جانسن کی شخصیت تھی۔ ان کے خیال میں سابق امریکی صدر جانسن ایک ایسے کمزور سیاستدان تھے، جو عوام کے سامنے مضبوط اعصاب کے مالک نظر آنے کی کوشش میں تھے۔ مِلر کے بقول، ’’جانسن ایک انتہائی پیچیدہ شخصیت کے حامل تھے۔ ایسے ٹھوس شواہد ہیں کہ انہیں خوف تھا کہ کہیں انہیں کمزور نہ سمجھ لیا جائے۔‘‘