ویت نام جنگ کی مشہور عالم ’نیپام گرل‘ کے لیے ڈریسڈن امن انعام | معاشرہ | DW | 11.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

ویت نام جنگ کی مشہور عالم ’نیپام گرل‘ کے لیے ڈریسڈن امن انعام

قریب نصف صدی قبل جنگ ویت نام کے دوران تباہی اور تکلیف کی مجسم علامت بن جانے اور ’نیپام گرل‘ کے طور پر دنیا بھر کی ہمدردیاں حاصل کرنے والی لڑکی کو آج پیر گیارہ فروری کو جرمن شہر ڈریسڈن کا امن انعام دیا جا رہا ہے۔

وفاقی جرمن دارالحکومت برلن سے موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق ویت نام کی جنگ کے نقطہ عروج پر 1972ء میں جس ایک تصویر نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا، وہ ایک ایسی بچی کی تصویر تھی، جسے بعد میں دنیا نے ’نیپام گرل‘ کا نام دے دیا تھا۔ اس بچی کا نام کِم پُھک ہے، جو 1972ء میں نو سال کی ایک لڑکی تھی، لیکن اب ایک 55 سالہ خاتون کے طور پر کینیڈا میں آباد ہے۔

Phan Thi Kim Phuc und Nick Ut

کِم پُھک کی پریس فوٹوگرافر نِک اُوٹ کے ساتھ ایک تصویر

کِم پُھک کی جو تصویر بیسویں صدی کی اہم ترین تصویروں میں شمار ہوتی ہے، اس میں یہ لڑکی ویت نام کی ایک سڑک پر چند دیگر خوفزدہ اور درد سے چیختے ہوئے بچوں کے ساتھ اپنی جان بچانے کے لیے اس طرح دوڑتی ہوئی نظر آتی ہے، کہ تب اس کا بے لباس جسم جگہ جگہ سے جلا ہوا تھا۔

جنگ ویت نام کے دوران یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا، جب جنوبی ویت نام کے ایک جنگی طیارے نے کِم پُھک کے گاؤں پر یہ سمجھ کر نیپام بم گرائے تھے کہ وہاں ان کے دشمن شمالی ویت نامی فوجی چھپے ہوئے تھے۔

نو سالہ کِم پُھک کی یہ تصویر امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک فوٹرگرافر نِک اُوٹ نے اتاری تھی، جنہیں 1973ء میں اسی تصویر کی وجہ سے پولٹزر پرائز بھی دیا گیا تھا۔

آج کل 55 سالہ کِم پُھک جنگ، تشدد اور نفرت کے خلاف عالمی سطح پر مسلسل بلند رہنے والی ایک بہت اہم آواز ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو کے مختلف منصوبوں میں اپنی شرکت اور جنگوں میں زخمی ہو جانے والے بچوں کے حق میں اپنی سرگرمیوں کے باعث بھی بہت معروف ہیں۔

Kim Phuc - erhält den Dresden-Preis 2019

کِم پُھک اس تصویر کے ساتھ جس نے انہیں ’نیپام گرل‘ بنا دیا تھا

کِم پُھک کو آج پروز پیر جرمنی کے مشرقی شہر ڈریسڈن کا جو امن انعام دیا جا رہا ہے، اس کے ساتھ انہیں ان کی امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کے اعتراف میں 10 ہزار یورو (تقریباﹰ ساڑھے گیارہ ہزار امریکی ڈالر کے برابر) نقد رقم بھی دی جا رہی ہے۔

یہی ڈریسڈن امن انعام ماضی میں جن دیگر شخصیات کو دیا جا چکا ہے، ان میں سابق سوویت یونین کے رہنما میخائل گورباچوف اور امریکا میں شہری حقوق کے لیے انتہائی سرگرم رہنے والے ٹومی اسمتھ بھی شامل ہیں۔

م م / ش ح / اے پی

DW.COM