1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Neu-Delhi | Narendra Modi und die Antiquitäten aus Australien
تصویر: https://pib.gov.in
معاشرہبھارت

وزیر اعظم نریندر مودی کا جرمنی سمیت تین یورپی ملکوں کا دورہ

جاوید اختر، نئی دہلی
20 اپریل 2022

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی مئی کے پہلے ہفتے میں جرمنی، ڈنمارک اور فرانس کا دورہ کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب یورپ کو یوکرین پر روسی حملے کے وسیع تر مضمرات اور یوکرینی پناہ گزینوں کے مسئلے کا سامنا ہے۔

https://www.dw.com/ur/%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D8%B9%D8%B8%D9%85-%D9%86%D8%B1%DB%8C%D9%86%D8%AF%D8%B1-%D9%85%D9%88%D8%AF%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%AC%D8%B1%D9%85%D9%86%DB%8C-%D8%B3%D9%85%DB%8C%D8%AA-%D8%AA%DB%8C%D9%86-%DB%8C%D9%88%D8%B1%D9%BE%DB%8C-%D9%85%D9%84%DA%A9%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D8%AF%D9%88%D8%B1%DB%81/a-61519849

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا رواں برس کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہو گا۔ اس دورے کے دوران وہ جرمنی اور فرانس کے ساتھ باہمی تعلقات کو مزید وسیع اور مستحکم کرنے کی کوشش کریں گے۔

جرمنی میں وزیر اعظم مودی کی سرگرمیاں

مودی کے جرمنی دورے کے حوالے سے بھارت میں جرمن سفیر والٹر جے لنڈنر کا کہنا ہے کہ جرمنی اور بھارت کے درمیان بہت سے ایسے موضوعات ہیں، جن پر دونوں ممالک ایک دوسرے سے تعاون کر سکتے ہیں۔

والٹرجے لنڈنر نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دونو ں ملکوں کے رشتوں کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ تعلیم کے حصول کے لیے یورپ جانے والے بھارتی طلبہ کی سب سے زیادہ تعداد جرمنی میں ہے۔ فرانس میں 8000 بھارتی طلبہ ہیں اور برطانیہ میں 25000 جبکہ جرمنی میں 30000 بھارتی طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

روس یوکرین جنگ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں جرمن سفیر کا کہنا تھا کہ بھارت کی سفارت کاری معقولیت پسندی پر مبنی ہے اور بھارتی سفارت کار بہترین صلاحیتوں کے حامل ہیں، وہ اس مسئلے سے بڑی حکمت اور دانشمندی کے ساتھ نمٹ رہے ہیں۔

وزیر اعظم مودی برلن میں بین حکومتی مشاورت (آئی جی سی) کی میٹنگ میں حصہ لیں گے۔ اس دوران وہ پہلی مرتبہ بہ نفس نفیس نئے جرمن چانسلر اولاف شولس سے ملاقات کریں گے۔ انڈو جرمن آئی جی سی کی میٹنگیں ہر دو سال پر ایک دوسرے ملکوں میں ہوتی ہیں۔ پچھلی میٹنگ سن 2019ء میں دہلی میں ہوئی تھی اور اس وقت کی جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اس میں شرکت کی تھی۔

Indien Neu Dehli | Angela Merkel bei Narendra Modi
تصویر: Getty Images/AFP/P. Singh

بھارت۔اسکینڈینیویائی سربراہی اجلاس

ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں وہ دوسرے بھارت۔اسکینڈینیویائی سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔اس سربراہی اجلاس میں ڈنمارک کے علاوہ ناروے، سویڈن، فن لینڈ اور آئس لینڈ بھی شریک ہوں گے۔ اجلاس میں ماحول دوست ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تبدیلیوں اور قابل تجدید توانائی جیسے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ پہلا بھارت۔اسکینڈنیویائی سربراہی اجلاس اسٹاک ہوم میں اپریل 2018ء میں ہوا تھا۔

حالیہ مہینوں میں وزیر اعظم مودی نے تین اسکینڈینیویائی ممالک ڈنمارک، سویڈن اور فن لینڈ کے رہنماؤں کے ساتھ ورچوئل ملاقاتیں بھی کی تھیں۔

دورے کی اہمیت

یورپ کا یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے، جب یہ بلاک یوکرین پر روس کے حملے کی وجہ سے کئی نئے مسائل سے دوچار ہے۔ یورپی رہنماؤں کے ساتھ مودی کی بات چیت میں دیگر موضوعات کے علاوہ یوکرین کا بحران بھی فطری طور پر توجہ کا اہم مرکز ہو گا۔دریں اثنا مودی کے یورپ دورے سے قبل دو یورپی رہنما بھی بھارت کے دورے پر آرہے ہیں۔

G7-Gipfel in Frankreich Boris Johnson und Narendra Modi
تصویر: imago images/i Images

جانسن اور فان ڈیئر لائن بھارت کا دورہ کریں گے

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن دو روزہ سرکاری دورے پر جمعرات 21 اپریل کو نئی دہلی پہنچ رہے ہیں۔ دوسری طرف یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیئر لائن 24 اور 25 اپریل کو نئی دہلی میں ہوں گی۔ وہ 'رائے سینا ڈائیلاگ' میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کریں گی۔ اس سالانہ پروگرام میں عالمی برادری کو درپیش مسائل پر دنیا بھر کے ماہرین اور معروف شخصیات اپنے خیالات اظہار کرتی ہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے اس حوالے سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے، "بھارت اور یورپی یونین کے درمیان سیاسی، اسٹریٹیجک، تجارت، صنعت، ماحولیات، پائیدار ترقی، ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں فعال شراکت داری ہے، جو گزرتے وقت کے ساتھ مضبوط اور وسیع ہوتی جارہی ہے۔‘‘

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

external

پاکستان کا یوم آزادی: نوجوان اپنے وطن کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں