1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Medizinischer Müll Corona-Pandemie
تصویر: Vladimir Smirnov/TASS/imago images

وبا کا ايک نتيجہ يہ بھی: طبی شعبے کا لاکھوں ٹن کوڑا کرکٹ

1 فروری 2022

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کيا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا سے نمٹنے کے ليے استعمال ہونے والے طبی ساز و سامان سے جمع ہونے والا اضافی کوڑا کرکٹ انسانوں اور ماحول دونوں کے ليے ايک خطرہ ہے۔

https://www.dw.com/ur/%D9%88%D8%A8%D8%A7-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D9%8A%DA%A9-%D9%86%D8%AA%D9%8A%D8%AC%DB%81-%D9%8A%DB%81-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%B7%D8%A8%DB%8C-%D8%B4%D8%B9%D8%A8%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA-%D9%B9%D9%86-%DA%A9%D9%88%DA%91%D8%A7-%DA%A9%D8%B1%DA%A9%D9%B9/a-60620958

ورلڈ ہيلتھ آرگنائزيشن (WHO) کے مطابق کورونا کی عالمی وبا سے نمٹنے کی کوشش میں جمع ہونے والے کئی ہزار ٹن اضافی کچرے کی وجہ سے ويسٹ مينجمنٹ سسٹم يا کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے والے نظام پر شديد دباؤ پڑا۔

 اقوام متحدہ کے اس ذيلی ادارے کا کہنا ہے کہ اضافی کچرے کی وجہ سے انسانوں کی صحت اور زمين کے ماحول کو خطرہ لاحق ہے اور اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ويسٹ مينجمنٹ کے موجودہ نظام و طريقہ ہائے کار ميں بہتری لائی جائے۔

کورونا کے باعث جرمن معیشت کو ساڑھے تین سو بلین یورو کا خسارہ

کورونا وبا کا چینی جڑی بوٹیوں سے علاج

افریقی معیشت: معاشی افزائش کے مواقع اور مسائل

ڈبليو ايچ او نے اس سلسلے ميں يکم فروری کو ايک رپورٹ جاری کی، جس کے مطابق مارچ سن 2020 سے لے کر نومبر سن 2021 تک تقريباً ڈيڑھ بلين يونٹ پی پی ای يعنی طبی عملے کی حفاظت کرنے والے لباس اور ساز و سامان تيار اور تقسیم کيے گئے۔ ان کا وزن لگ بھگ ستاسی ہزار ٹن بنتا ہے۔ واضح رہے کہ يہ حجم صرف اقوام متحدہ کے نظام کے تحت بانٹے جانے والے ساز و سامان کا ہے جبکہ حقيقی حجم و تعداد اس سے کہيں زيادہ ہيں۔ عالمی ادارے صحت کے مطابق اس ساز و سامان و حفاظتی لباس کا اکثريتی حصہ کوڑے کرکٹ کا حصہ بنا۔

اس کے علاوہ 140 ملين ٹيسٹنگ کٹس دنيا بھر ميں فراہم کی جا چکی ہيں، جن سے 2,600 ٹن پلاسٹک کا اور 731,000 کيميائی کوڑا اکھٹا ہونے کا خطرہ ہے۔ کووڈ انيس سے بچاؤ کے ليے لگائی جانے والی ابتدائی آٹھ بلين ويکسين سے 144,000 ٹن کچرا جمع ہوا، جو کہ استعمال شدہ سرنجوں، ان کے پيکٹوں وغيرہ پر مشتمل تھا۔ ڈبليو ايچ او کی ہدايات ميں ٹيکا لگاتے وقت دستانوں کے استعمال کو لازمی قرار نہيں ديا گيا ليکن اس کے باوجود يہ دنيا بھر ميں ہر جگہ ہوتا آيا ہے اور آج بھی ہو رہا ہے۔ کچرے ميں سب سے زيادہ تناسب انہی استعمال شدہ پلاسٹک کے دستانوں کا ہے۔

اکہتر صفحات پر مشتمل اس رپورٹ ميں اس مسئلے کے حل پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ ڈبليو ايچ او نے پی پی ای کے زيادہ سوچ بچار کے بعد استعمال، کم پيکيجنگ، ان کی تياری ميں بائيو ڈی گريڈ ايبل مواد کے استعمال اور ديگر کئی اقدامات پر زور ديا ہے، جن سے جمع ہونے والے کچرے کی مقدار کم ہو سکے گی۔

بچے کورونا وبا کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

ع س / ع ب (اے ايف پی، ڈی پی اے)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Kundgebung der Opposition in Pakistan

مریم کی بریت کے ممکنہ قانونی اور سیاسی اثرات

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں