’واپس آنے والے افغان مہاجرين يورپ ميں گزارے وقت سے مطمئن نہيں‘ | مہاجرین کا بحران | DW | 05.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’واپس آنے والے افغان مہاجرين يورپ ميں گزارے وقت سے مطمئن نہيں‘

افغانستان ميں تعينات جرمن سفير مارکُوس پوٹسيل نے ڈوئچے ويلے کو ديے اپنے ايک خصوصی انٹرويو ميں بتايا ہے کہ جرمنی سے ملک بدر کيے جانے والے کئی افغان مہاجرين وہاں گزارے وقت سے مطمئن نہيں ہيں۔

ڈی ڈبليو : گزشتہ برس نومبر ميں افغانستان ميں قائم جرمن سفارت خانے نے ايک مہم شروع کی تھی، جس کے مقصد جرمنی ميں پناہ کے حوالے سے افواہوں کو ختم کرنا تھا تاکہ لوگ انسانوں کے اسمگلروں کے چکر ميں آ کر غير قانونی ہجرت نہ کريں۔ کيا يہ مہم کامياب رہی ہے؟

مارکوس پوٹسيل : 2015ء ميں مجموعی طور پر 154,000 افغان مہاجرين نے جرمنی ميں سياسی پناہ کی درخواستيں جمع کرائی تھيں۔ وفاقی جرمن ادارہ برائے ہجرت و مہاجرين کے تازہ ترين اعداد و شمار کے مطابق سال رواں کی پہلی سہ ماہی ميں ايسی درخواستيں دينے والے افغان تارکين وطن کی تعداد لگ بھگ بتيس ہزار ہے۔ اگر ان اعداد و شمار کی بنياد پر پورے سال کی پيشن گوئی کی جائے، تو يہ تعداد پچھلے سال کے مقابلے ميں کافی کم ہے۔ ايک اور اہم بات يہ ہے کہ يورپی يونين اور ترکی کے مابين طے پانے والی ڈيل پر عمل درآمد سے قبل ہی يہ کمی نماياں تھی۔ ميں سمجھتا ہوں کہ جرمنی ميں سياسی پناہ کے متلاشی افغان باشندوں کی تعداد پچھلے سال کے مقابلے ميں اس سال کم ہو گی۔

ڈی ڈبليو : اس کے برعکس ہمارے نمائندے بتاتے ہيں کہ افغانستان ميں لوگ آج بھی اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر يورپ آنے کی کوششوں ميں ہيں۔ اس حوالے سے کيا آپ سمجھتے ہيں کہ جرمن سفارت خانے کی مہم اور کابل حکومت کی کوششيں کارآمد ثابت ہوں گی؟

مارکوس پوٹسيل : يہ ايک مشکل سوال ہے اور اس کا جواب اتنا آسان نہيں۔ ہم يہاں افغانستان کے اندر لوگوں ميں آگہی پھيلانے کی کوششوں ميں ہيں کہ جرمنی ميں انہيں کس قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی مقصد سے ہم نے اپنی مہم بھی شروع کی تھی۔ جرمنی سے واپس افغانستان آنے والے کئی افغان مہاجرين کا کہنا ہے کہ وہ جرمنی ميں گزارے وقت سے بالکل مطمئن نہيں تھے۔ ان کے بقول انہيں انسانوں کے اسمگلروں نے جھوٹی اور بے بنياد کہانياں سنا کر غلط اميديں دی تھيں۔

افغان حکومت کی جانب سے بھی اپنے شہريوں سے يہی کہا جاتا ہے کہ وہ ملک ميں ہی قيام کريں۔ افغان سول سوسائٹی کی طرف سے بھی متعدد مہمات شروع کی جا چکی ہيں جن ميں ’ميں اپنے حصے کا کام کروں‘ اور ’افغانستان کو آپ کی ضرورت ہے‘ جيسے پيغامات پھيلائے گئے ہيں۔ ايسی مہمات افغانستان ميں سوشل ميڈيا پر چلائی جا رہی ہيں اور ان کے ذريعے نوجوان نسل کے لوگوں تک يہ پيغامات پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ در اصل يہ کوششيں جرمن سفارت خانے کی مہم کے مقابلے ميں زيادہ کارآمد ثابت ہوئی ہيں۔

افغانستان ميں تعينات جرمن سفير مارکُوس پوٹسيل

افغانستان ميں تعينات جرمن سفير مارکُوس پوٹسيل

ڈی ڈبليو : ان مقاصد کے حصول کے ليے جرمن سفارت خانے اور افغان حکومت ميں کتنا تعاون ہے؟

مارکوس پوٹسيل : افغان باشندوں کی يورپ غير قانونی ہجرت کی روک تھام کے معاملے ميں جرمن سفارت خانے اور کابل حکومت ميں کافی زيادہ باہمی تعاون پايا جاتا ہے۔ پچھلے پندرہ برسوں سے برلن حکومت کابل کو سالانہ تقريباً 430 ملين يورو کی مالی امداد دے رہی ہے۔ ہم افغانستان کے زرعی شعبے ميں سرمايہ کاری جاری رکھيں گے تاکہ افغانستان کو غذائی ضروريات پوری کرنے کے ليے درآمدات پر بھروسہ نہ کرنا پڑے۔ اس کے علاوہ تربيتی پروگراموں پر کام بھی جاری رہے گا تاکہ نوجوان شہريوں کے ليے مواقع بڑھيں۔

ڈی ڈبليو : افغانستان کی سياسی صورتحال اب بھی عدم استحکام کا شکار ہے۔ اس کے علاوہ نا اميدی اور مواقع کی کمی لوگوں کے ملک سے فرار ہونے کی سب سے اہم وجوہات ہيں۔ ان مسائل کا کيا حل ہے؟

مارکوس پوٹسيل: اس سوال کا جواب در اصل افغان حکومت کو دينا چاہيے۔ ہم کوششوں ميں ہيں کہ صورتحال تبديل کی جا سکے۔ اپريل کے آغاز ميں ہم نے مالی امداد بڑھانے کے سلسلے ميں کابل حکومت کے نمائندوں سے ملاقات بھی کی تھی تاہم امداد ميں اضافے کے ليے شرائط پوری کرنا بھی لازمی ہے۔ کابل حکومت کو سياسی اصلاحات اور بد عنوانی کے خاتمے کے عوامل ميں بہتری اور اقتصادی ترقی کی رفتار ميں اضافے کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

بہرحال پچھلے چودہ برس سے مختلف حکومتيں جو کرنے ميں ناکام رہی ہيں، وہ سب کچھ موجودہ حکومت صرف ڈيڑھ سال ميں نہيں کر سکتی۔

رواں سال اکتوبر ميں بيلجيم کے دارالحکومت برسلز ميں ايک اہم ڈونرز کانفرنس ہونے والی ہے، جس ميں بين الاقوامی برادری اس بات کا جائزہ لے گی کہ آئندہ تين سے چار سالوں کے ليے افغانستان کی مدد کيسے کی جائے۔ علاوہ ازيں جرمنی افغانستان ميں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ہم افغان پوليس اور فوج کی تربيت کا کام جاری رکھيں گے۔