واشنگٹن بیجنگ کو ′برا بھلا‘ کہنا بند کرے، چین | حالات حاضرہ | DW | 26.07.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

واشنگٹن بیجنگ کو 'برا بھلا‘ کہنا بند کرے، چین

بیجنگ نے امریکا کی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین کے دورہ چین کے موقع پر واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ چین کو 'برا بھلا‘ کہنے کا سلسلہ بند کرے۔ شرمین کا یہ دورہ بائیڈن انتظامیہ کے کسی اعلی ترین عہدیدار کا چین کا پہلا دورہ ہے۔

امریکا کی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین ایک ایسے وقت میں اتوار کے روز چین کے شہر تیانجن پہنچی ہیں جب دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان سائبر سکیورٹی سے لے کر انسانی حقوق تک مختلف امور پر تعلقات بدستور خراب ہورہے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق چینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چین کے نائب وزیر خارجہ ژائی فینگ نے شرمین سے کہا،”امریکا کو شاید یہ امید ہوگی کہ چین کو برا بھلا کہہ کر کسی نہ کسی طرح اپنے داخلی مسائل کے لیے بیجنگ کو مورد الزام ٹھہرائے۔ لیکن ہم امریکا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی انتہائی گمراہ کن ذہنیت اور خطرناک پالیسی کو تبدیل کرے۔" بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ واشنگٹن ”چین کو دشمن تصور کرتا ہے۔“

ژائی نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو ”تعطل" کا شکار اور ”شدید مشکلات“ سے دوچار قرا ردیا۔

انہوں نے دعوی کیا کہ چینی عوام امریکا کے ”منفی بیان بازی کو چین کو قابو میں رکھنے اور اسے کچلنے کی درپردہ کوشش" سمجھتے ہیں۔

Japan Tokio | US Vizeaußenministerin Wendy Sherman

امریکا کی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین

چین کو امریکی 'بالادستی‘ قبول نہیں

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وینڈی شرمین کی آمد سے ایک روز قبل چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے خبر دار کیا تھا کہ چین باہمی تعلقات میں امریکا کی 'بالادستی‘ کو قبول نہیں کرے گا۔

شرمین اس دورے کے دوران چینی وزیر خارجہ وانگ ای سے بھی ملاقات کریں گی۔ شرمین اپنے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران بیجنگ نہیں جائیں گی بلکہ وہ اپنا وقت شمال مشرقی بندرگاہ والے شہر تیانجن میں گزاریں گی۔

شرمین کے اس دورے کو امریکی صدر جو بائیڈن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ممکنہ ملاقات کی تیاری کے اقدام کے طورپر دیکھا جا رہا ہے۔

سابق وزیر خارجہ اور امریکہ کے موجودہ سفیر برائے ماحولیات جان کیری بائیڈن انتظامیہ کے واحد دوسرے سینیئر اہلکار ہیں جنہوں نے  اپریل میں چین کا دورہ کیا۔

دونوں ملکوں نے متعدد امور پر اختلافات کے باوجود ماحولیات کے معاملے پر ایک دوسرے سے تعاون کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

امریکا نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ وہ بات چیت کو ایک موقعے کے طور پر استعمال کرنے کی امید کر رہا ہے تاکہ بیجنگ کو دکھایا جا سکے کہ 'ذمہ دارانہ اور صحت مند مقابلہ‘ کیسا ہوتا ہے لیکن وہ ساتھ ہی تنازعات سے بچنا چاہتا ہے۔

 ج ا / ص ز (اے ایف پی، روئٹرز)

 

DW.COM