وائرس برسوں کہیں نہیں جائے گا، ڈبلیو ایچ او | صحت | DW | 12.09.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

وائرس برسوں کہیں نہیں جائے گا، ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارہٴ صحت کے ایک سینیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے جلد چھٹکارا پانا ممکن نہیں۔ ان کے بقول اس تناظر میں ویکسینیشن کی حکمت عملی کو از سرِ نو مرتب کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے یورپی دفتر کے سربراہ ہانس کلوگے نے کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کے نتائج پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بظاہر کووڈ انیس کی بیماری کے انسداد کی فوری کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی کیونکہ اس وائرس کے نئے متغیر یا ویریئنٹس مسلسل انسانوں کو بیمار کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کورونا ویکسین کا بوسٹر ضروری؟ طبی مطالعے کے نتائج زیر غور

'وائرس کہیں نہیں جا رہا‘

ڈاکٹر ہانس کلوگے نے واضح کیا ہے کہ اب یقین ہوتا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس اگلے کئی برسوں تک موجود رہے گا۔

Bildergalerie über die Varianten des neuen Coronavirus

کووڈ انیس کی بیماری کے انسداد کی فوری صورت دکھائی نہیں دے رہی کیونکہ وائرس کے نئے ویریئنٹس مسلسل سامنے آ رہے ہیں

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام عالم کے ہیلتھ حکام کو مل بیٹھ کر ویکسینیشن کے موجودہ پروگرام اور طریقہٴ کار کا جائزہ لینا ہو گا اور مستقبل کی ترجیحات اقوام کی ضروریات کے تناظر میں مرتب کرنی ہوں گی۔

یہ امر اہم ہے کہ عالمی ادارہٴ صحت کے سینیئر اہلکار ہانس کلوگے نے رواں برس مئی میں کہا تھا کہ جب بیشتر اقوام میں ستر فیصد تک ویکسینیشن کا عمل مکمل ہو جائے گا تو ان ممالک میں کورونا وائرس کی وبا دم توڑ جائے گی۔ بظاہر ایسا نہیں ہوا اور کووڈ انیس کی موجودہ نئی لہر خطرہ بنی ہوئی ہے۔

تیسری خوراک کی جگہ غریب ممالک کو ویکسین فراہم کریں، ڈبلیو ایچ او

صورت حال تبدیل ہو چکی ہے

ہانس کلوگے سے جب مئی کے ان کے بیان کے حوالے سے پوچھا گیا کہ وہ اس موقف پر قائم ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ زمینی حقائق نے ماضی کی صورت حال کو اب پوری طرح تبدیل کر دیا ہے۔

کلوگے کے مطابق ڈیلٹا اور دوسرے ویریئنٹس کی وجہ سے فی الحال کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے مطابق ویکسین سے یہ ضرور فائدہ ملا ہے کہ عام لوگ وائرس کی لپیٹ میں آنے کے باوجود صحت یاب ہو رہے ہیں اور ان میں بیماری کی علامات شدید نہیں ہیں۔

Singapore COVID-19 | Test-Center

کووڈ انیس کی بیماری جلد ختم ہونے والی نہیں ہے اور یہ انفلوئنزا کی طرح موجود رہے گی

عالمی ادارہٴ صحت کے سینیئر اہلکار کا یہ بھی کہنا ہے کہ کووڈ انیس کی بیماری جلد ختم ہونے والی نہیں ہے اور یہ انفلوئنزا کی طرح موجود رہے گی۔

ویکسین کی اسٹریٹجی تبدیل کرنا ضروری ہے

ڈاکٹر ہانس کلوگے کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ویکسینشن کے حوالے سے حکمت عملی کو تبدیل کر کے اس کی افادیت کو دوچند کیا جائے۔

کورونا کا بُوسٹر: دوا ساز اداروں پر سونے چاندی کی برسات

اسی انداز میں متعدی و وبائی امراض کے ماہرین بھی سوچ رہے ہیں کہ گنجان بستیوں میں وائرس سے بچاؤ کے لیے وہاں کے مکینوں کے مدافعتی نظام کو قوت دینے کے لیے صرف ویکسین کی فراہمی کافی نہیں ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اہلکار نے ہائی ویکسینیشن کو اس لیے اہم خیال کیا کیونکہ اس کی بدولت ہیلتھ کیئر نظام کو بیمار افراد کے بوجھ سے بچانا ممکن ہے۔ ان کا کہنا ہے ہیلتھ کیئر نظام صرف کووڈ انیس کے بیماروں کے لیے نہیں بلکہ کئی دوسری بیماریوں کے شکار افراد کا خیال رکھنا اور انہیں علاج فراہم کرنا بھی اسی نظام کی ذمہ داری ہے۔

Südafrika Coronavirus Pandemie

ماہرین کا خیال ہے کہ کورونا ویکسینشن کی حکمت عملی کو تبدیل کر کے اس کی افادیت کو دوچند کیا جائے

یہ امر اہم ہے کہ بھارت میں جنم لینے والا ڈیلٹا ویریئنٹ ساٹھ فیصد زیادہ تیزی کے ساتھ ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔ اب کمبوڈیا میں جنم لینے والے مُو ویریئنٹ کا شور پیدا ہو گیا ہے۔ اس متغیر کو بھی انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

ع ح/ع ت (اے ایف پی)