نیپال کو صوبوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ | حالات حاضرہ | DW | 09.08.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

نیپال کو صوبوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ

کوہِ ہمالیہ کے دامن میں واقع جمہوریہ نیپال کی سیاسی پارٹیوں نے اپنے ملک کو مختلف صوبوں میں تقسیم کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ صوبائی حدبندی ایک فیڈرل کمیشن کرے گا۔

default

سوشیل کوئرالا

ہفتے اور اتوار کی نصف شب کے بعد نیپالی سیاسی پارٹیاں ملک کو صوبوں میں تقسیم کرنے پر رضامند ہوئیں۔ تازہ معاہدہ جون میں صوبوں پر ہونے والی تاریخی ڈیل کا تسلسل خیال کیا گیا ہے۔ نیپالی وزیراعظم سوشیل کوئرالا نے اِس معاہدے کو نئے ملکی دستور کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ اُن کے مطابق نیپالی دستور وفاقی ہو گا۔ نئے ملکی دستور کو تحریر کرنے میں یہ ایک مشکل مرحلہ تھا اور دستور سازی کا عمل سن 2008 سے معطل ہے۔ ابتدائی ڈیل کے تحت نیپال کو داخلی طور پر آٹھ صوبوں میں تقسیم کرنے کو تجویز کیا گیا تھا لیکن اب یہ تعداد کم کر کے چھ کر دی گئی ہے۔ ایک فیڈرل کمیشن اِن صوبوں کی حد بندی بھی کرے گا۔ اِس کمیشن کے دائرہ کار میں ملکی سرحدی معاملات شامل نہیں ہیں۔

نیپالی وزیراعظم سوشیل کوئرالا نے تاریخی معاہدے کے طے ہونے پر کہا ہے کہ وہ تمام فریقوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ معمولی اختلافات کو پسِ پشت ڈال ملکی تعمیر و ترقی کا حصہ بنیں۔ وزیراعظم کوئرالا کے وزیرِ اطلاعات مِنندر رِجال نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا سمجھوتا طے پانے کے بعد اب دستور سازی کا عمل ایک قدم آگے بڑھ گیا ہے۔ حتمی سمجھوتے سے قبل سیاسی و انتظامی مشاورت کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری تھا۔

Nepal Opposition 23.01.2015

نیپالی اپوزیشن پارٹی کا ایک رکن پارلیمنٹ حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرتا ہوا

صوبوں کی تقسیم کے معاہدے کے لیے رکھی گئی مشاورت اور عوامی آراء کے سلسلے میں پرتشدد واقعات بھی سامنے آئے تھے۔ خاص طور پر نیپال کے جنوبی میدانی علاقے میں عوام نے اپنی ناراضی کا کُھل کر اظہار کیا تھا۔ اِن میدانی علاقوں میں مادیسی قوم آباد ہے اور یہ لوگ اپنی صوبائی حدبندیوں کے بارے میں فوری طور معلومات جاننے کی کوشش میں تھے۔ انفارمیشن مِنسٹر مِنندر رِجال کا کہنا ہے کہ سمجھوتے میں صوبوں کی تقسیم عوامی سوچ کی عکاس ہے اور عوامی آراء کی روشنی میں صوبائی حدبندیوں کو حتمی شکل دی جائے گی۔

نیپال کی اپوزیشن پارٹیاں صوبے بنانے کے عمل میں کئی صدیوں سے مادیسی جیسی اقلیتوں کو نظرانداز کرنے کے عمل کی مخالفت کرتے ہوئے اِس میں مزید تسلسل کے حق میں نہیں تھیں۔ دوسری جانب بڑی پارٹیاں تاریخی تسلسل کی حامی تھیں اور اپوزیشن جماعتوں کی تجویز کی سخت نفی کرتی رہی ہیں۔ بڑی سیاسی جماعتوں کا خیال ہے کہ تاریخی تسلسل کو یکسر ختم کر دیا گیا تو ملکی اتحاد کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ نئے سمجھوتے کے تحت تمام چھ صوبوں کی سرحدیں بھارت ملحق و منسلک ہوں گی۔ معتبر اخبار ناگرِک کے ایڈیٹر گُونا راج لُوئٹل نے نئے سمجھتے کو تاریخی اور مثبت قرار دیا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ رواں برس اپریل میں نیپال کو ایک انتہائی زوردار زلزلے کا سامنا رہا ہے۔ اِس زلزلے سے سینکڑوں ہلاکتیں ہونے کے علاوہ ملک کال بنیادی ڈھانچہ بھی تباہی کا شکار ہوا تھا۔

اشتہار