′نیٹو کو چین اور روس کی آمرانہ حکومتوں کے خلاف متحد ہوجانا چاہیے‘ | حالات حاضرہ | DW | 15.06.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

'نیٹو کو چین اور روس کی آمرانہ حکومتوں کے خلاف متحد ہوجانا چاہیے‘

نیٹو کے رہنماوں نے پہلی مرتبہ چین کو اس مغربی دفاعی اتحاد کی سکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے روس کے 'جارحانہ اقدامات‘ کی بھی نکتہ چینی کی۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے تیس رکن ممالک کے سربراہوں نے برسلز میں سربراہی کانفرنس کے دوران بین الاقوامی سکیورٹی سے متعلق متعدد امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور پیر کے روز 79 نکات پر مشتمل ایک اعلامیہ جاری کیا، جس میں چین سے لے کر روس، ایران سے لے کر افغانستان اور ماحولیاتی تبدیلی سے لے کر خلاء تک کے امور کا احاطہ کیا  گیا ہے۔

سربراہی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطا ب کرتے ہوئے نیٹو کے سکریٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ نے کہا”اس عالمی مسابقت کے دور میں یورپ اور شمالی امریکا کو روس اور چین جیسی آمرانہ حکومتوں کے خلاف متحد ہوجانا چاہیے۔"

بیجنگ نے چین سے خطرے کے متعلق نیٹو کے الزامات کو مبالغہ آرائی اور ’تصادم پیدا کرنے‘ کی کوشش قرار دیا ہے۔

امریکی صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جو بائیڈن کی نیٹو کے اجلاس میں پہلی شرکت تھی۔ اسے اس لحا ظ سے کافی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے اس دفاعی اتحاد کے تئیں امریکا کے رویے کے متعلق شبہات پیدا کر دیے تھے۔

Brüssel NATO Gipfeltreffen | Stoltenberg Rede

نیٹو کے سکریٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ

’چین ہمارے قریب آتا جا رہا ہے‘

نیٹو کی طرف سے جاری حتمی اعلامیے میں کہا گیا ہے ”چین کے اعلانیہ عزائم اور ہٹ دھرمی پر مبنی رویے نے قانون پر مبنی بین الاقوامی نظام اور اتحاد کی سکیورٹی سے متعلق شعبوں کے لیے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔"

دستاویز میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت اور اس کی جدید کاری پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔”چین جوہری وار ہیڈ والے اپنے ہتھیاروں کی تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ کر رہا ہے اور بڑے پیمانے پر جدید ترین ترسیلی نظام پر مشتمل ایک نیوکلیائی تثلیث قائم کر رہا ہے۔"

اس میں چین کے ہتھیاروں کے فروغ کے درپردہ نظام اورعوامی طورپر اعلان کردہ ملٹری۔سول فیوزن اسٹریٹجی کی نکتہ چینی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ روس کے ساتھ اس شعبے میں چین کے تعاون کی بھی نکتہ چینی کی گئی ہے۔

نیٹو کے سکریٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ نے بعد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ”چین ہمارے قریب آتا جا رہا ہے۔ ہم اسے سائبر اسپیس میں دیکھ سکتے ہیں، ہم چین کو افریقہ میں دیکھ سکتے ہیں۔ حتی کہ چین ہمارے اپنے اہم انفراسٹرکچر میں بھی چین بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔"  اسٹولٹن برگ کا اشارہ افریقہ میں چین کے ذریعے تعمیر کی جانے والی بندرگاہوں اور چینی ٹیلی کام کمپنی ہواوے کے ذریعہ تیار کردہ فائیو جی نیٹ ورک کے تنازع کی طرف تھا۔

نیٹو کے سکریٹری جنرل نے کہا”ہمیں ایک اتحاد کے طور پر مل کر اس کا جواب دینے کی ضرورت ہے۔" انہوں نے تاہم کہا کہ ”ہم ایک نئی سرد جنگ میں داخل نہیں ہو رہے ہیں اور چین ہمارا دشمن نہیں ہے۔“ انہوں نے مزید کہا ”چین نے ہماری سکیورٹی کے لیے جو چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، ایک اتحاد کے طور پر، ہمیں ان کا مل کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔“

Brüssel NATO Gipfeltreffen l Kanzlerin Merkel

جرمن چانسلر انگیلا میرکل

’چین کے معاملے میں توازن رکھنے کی ضرورت ہے‘

سربراہی کانفرنس کے بعد جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چین سے نمٹنے کے معاملے میں نیٹو کو 'توازن‘ برقراررکھنے کی ضرورت ہے۔”اگر آپ سائبر خطرات اور ہائبرڈ خطرات کو دیکھیں، اگر آپ چین اور روس کے درمیان تعاون کو دیکھیں، تو آپ چین کو آسانی سے نظر انداز نہیں کر سکتے۔“

میرکل نے مزید کہا”لیکن ہمیں کسی ایک چیز کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر نہیں دیکھنا چاہیے۔ اس کے بجائے ہمیں توازن کا راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔"

چین کے حوالے سے ایک مشترکہ موقف کے تحت یورپی یونین نے بیجنگ کو پہلے ہی ”منظم حریف" قرار دے رکھا ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکراں نے متنبہ کیا کہ چین پر توجہ مرکوز کرنے کے نتیجے میں ہم نیٹو کے بنیادی مقصد اور اسے در پیش متعدد چیلنجز سے بھٹک نہ جائیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ نیٹو ایک فوجی اتحاد ہے اور چین کے ساتھ تعلقات اس سے کہیں زیادہ وسیع تر ہیں۔

روس کی سرگرمیاں 'جارحانہ‘

نیٹو ملکوں کے رہنماوں نے اپنے اعلامئے میں روس کی بعض فوجی سرگرمیوں کو 'جارحانہ'قرار دیا اور نیٹو اتحاد میں شامل ملکوں کی سرحدوں پر روس کی جنگی کارروائیوں اور روسی طیاروں کی جانب سے ان ملکوں کی فضائی حدود کی بار بار خلاف ورزی کو بھی تنقید کا نشانہ بنا یا۔

ان کا کہنا تھا کہ روس نے نیٹو اتحاد میں شامل ملکوں کے خلاف کئی قسم کے ملے جلے اقدامات کئے ہیں، جن میں ان کے انتخابی عمل میں مداخلت کی کوششیں، سیاسی اور معاشی دباو میں اضافہ، ڈس انفارمیشن کی مہمات اور سائبر حملے شامل ہیں۔ اور جب تک روس بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کے لیے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتا، اس کی ساتھ 'معاملات معمول پر' نہیں آ سکتے۔

ج ا/ ص ز (اے پی، ڈی پی اے، اے ایف پی، روئٹرز)

DW.COM