نوواک جوکووچ لائن جج کو بال مارنے کی پاداش میں یو ایس اوپن سے باہر | حالات حاضرہ | DW | 07.09.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

نوواک جوکووچ لائن جج کو بال مارنے کی پاداش میں یو ایس اوپن سے باہر

سربیا کے معروف ٹینس کھلاڑی نوواک جوکووچ نے یو ایس اوپن کے چوتھے مرحلے میں مایوسی کے عالم میں گیند لائن جج کو ما دی جس کی پاداش میں انہیں ٹورنامنٹ سے نا اہل قرار دے دیا گيا۔

عالمی درجہ بندی میں اول نمبر کے ٹینس کھلاڑی نوواک جوکووچ کو امریکی شہر نیو یارک میں ہونے والے یو ایس اوپن سے ایک نا دانستہ غلطی کے سبب باہر کر دیا گیا ہے۔ ان کو نا اہل قراردیے جانے سے  2014 کے بعد یو ایس اوپن خطاب جیتنے والا اب کوئی پہلا نیا ٹینس کھلاڑی ہوگا۔ اس واقعے کے ساتھ ہی گرانڈ سلیم کی تاریخ میں جوکووچ ایسے تیسرے کھلاڑی بن گئے ہیں جنہیں مردوں کے کسی بھی سنگلز مقابلے سے نااہل قرار دیا گیا ہو۔

اتوار کے روز کھیلے جانے والا یہ مقابلہ جوکووچ اور اسپین کے کھلاڑی پابلو کیرینو کے درمیان چل رہا تھا اور میچ کے پہلے سیٹ میں جب وہ پابلو سے چھ کے مقابلے پانچ پوائنٹ سے پیچھے تھے تو انہوں نے جھنجلاہٹ میں گیند کو اپنے عقب میں زوردار طریقے سے اچھال دیا جو ان کے پیچھے بیٹھی لائن جج کی حلق کے پاس اتنے زور سے لگی کہ وہ زمین پرگر پڑیں۔ گرچہ انہوں نے دانستہ طور پر جج کو نشانہ نہیں بنایا تھا اور ان کا یہ عمل مایوسی کے عالم میں تھا تاہم انہیں بطور سزا ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا گیا۔

جیسے ہی بال لائن جج کو لگی جوکووچ فوراً ان کی طرف گئے اور خاتون سے ان کی خیرت پوچھی جو چند منٹ بعد اٹھیں اور کورٹ سے باہر چل گئیں۔ اس کے بعد لائن ججز، دیگر افسران  اور ریفری کے درمیان کافی دیر تک صلاح و مشورہ ہوا اور پھر عالمی سطح کے نمبر ون کھلاڑی جوکووچ آئے اور انہوں نے اسپین کے کھلاڑی پابلو کیرین سے مصافحہ کیا، جنہیں میچ کا فاتح قرار دیا گیا۔

امریکی ٹینس ایسوسی ایشن (یو ایس ٹی اے) نے اس بارے میں ایک بیان جاری کرکے کہا، ''گرانڈ سلیم کے اصول و ضوابط کے مطابق، جج کو دانستہ طور پر خطرناک انداز میں یا پھر لاپرواہی سے نتائج کی پرواہ کیے بغیرگیند مارنے کی پاداش میں یہ فیصلہ کیا ہے۔'' اس بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اس کی وجہ سے عالمی نمبر ون کھلاڑی کی ریکنگ پوائنٹس میں بھی کمی کی جائے گی اور اس ٹورنامنٹ میں اب تک انہوں نے جو ڈھائی لاکھ ڈالر کی رقم کمائی تھی اس سے بھی محروم ہونا پڑے گا۔

اس فیصلے کے بعد جوکووچ نے اپنی وضاحت پیش کرنے کے لیے کورٹ میں موجود ٹورنامنٹ ریفری اور دیگر عہدے داروں سے بات چیت کی اور اپنا موقف پیش کرنے کی کوشش کی۔ لیکن آخر کار انھیں یہ فیصلہ قبول کرنا پڑا اور انہوں نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے اسپین کے کھلاڑی کو مبارک باد پیش کی۔

معروف سابق ٹینس کھلاڑی مارٹینا نوروٹیلوا، جنہوں نے 18 گرینڈ سلیم جیتے تھے،  نے اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ٹویٹر پر لکھا، ''جو بھی ہم نے کورٹ پر دیکھا اس پر تو یقین نہیں ہورہا، نوواک جوکووچ نے غیر دانستہ طور پر ڈیفالٹ کیا لیکن گیند غلطی سے ایک لائن جج خاتون کے گلے سے ٹکرا گئی اور عہدیداروں کے پاس بھی ڈیفالٹ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ کتنے افسوس کی بات ہے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ خاتون محفوظ ہیں۔ ہمیں اس سے بہتر ہونا پڑیگا۔''

جوکووچ نے بعد میں انسٹاگرام پر اپنی ایک پوسٹ میں اس واقعے کے لیے معافی مانگی اور لکھا کہ جو کچھ بھی کورٹ پر ہوا اس سے انہیں کافی صدمہ پہنچا ہے اورانہیں افسوس ہے۔ ''خدا کا شکر ہے کہ وہ خاتون اب بہتر محسوس کر رہی ہیں۔ انہیں نا دانستہ طور پر میری جانب سے اتنی تکلیف پہنچی جس پر مجھے بہت افسوس ہے۔''

کورونا وائرس کی عالمی وبا کے آغاز کے بعد سے ٹینس کا یہ پہلا گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ جو شائیقین اور تماشائیوں کے بغیر منعقد کیا جا رہا ہے اور چونکہ راجر فیڈرر اور رفائل نڈال  جیسے کھلاڑی اس میں حصہ نہیں لے رہے ہیں اس لیے زیادہ امکان اس بات کا تھا کہ جوکووچ اس ٹورنامنٹ کو جیت سکتے تھے۔ عالمی نمبر ون 33 سالہ کھلاڑی جوکووچ اگر اس ٹورنامنٹ میں کامیاب ہوجاتے تو یہ ان کی 18ویں گرینڈ سلیم ٹائٹل فتح ہوتی اور وہ بھی گرینڈ سلیم کی کامیابیوں کی درجہ بندی میں رفائل نڈال اور راجر فیڈرر کے قریب آسکتے تھے۔

ص ز/ ج ا (ایجنسیاں)

DW.COM