نواز شریف علالت کے سبب جیل سے ہسپتال منتقل | حالات حاضرہ | DW | 02.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

نواز شریف علالت کے سبب جیل سے ہسپتال منتقل

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ان کی علالت کے سبب جیل سے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی طبی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ نواز شریف بدعنوانی کے الزامات کے تحت سات برس جیل کی سزا بھگت رہے ہیں۔

پاکستانی حکومت کے ایک سینیئر اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ملک کے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کے میڈیکل ٹیسٹس کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔

نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے بھی اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق نواز شریف کو مختلف طبی مسائل کو سامنا ہے۔ انہیں گزشتہ برس جولائی میں قید کے پہلے مرحلے کے دوران اس وقت جیل سے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جب ان کی ایس سی جی میں مسائل کی نشاندہی ہوئی۔ اُس وقت انہیں ایک عدالت میں لندن میں ان کے خاندان کی جائیداد کے معاملے پر دس برس قید سنائی تھی۔

گزشتہ برس ستمبر میں تاہم ایک اعلیٰ عدالت نے ان کی قید کی سزا کو معطل کرتے ہوئے، ماتحت عدالت کی سزا کے خلاف دائر اپیل کے فیصلے تک انہیں جیل سے رہا کرنے کا حکم دیا تھا تاہم بعد میں انہیں بدعنوانی کے ایک مقدمے میں سات برس قید کی سزا سناتے ہوئے جیل بھیج دیا گیا تھا۔

نواز شریف ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں ملک کی طاقت ور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔  نواز شریف تین بار ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔

Pakistan's Prime Minister Nawaz Sharif

پاکستان کی سپریم کورٹ نے نیب کو حکم دیا تھا کہ وہ نوازشریف اور ان کے خاندان کی جائیداد سے متعلق تین مختلف معاملات کی تفتیش کرے۔

نواز شریف کے بھائی اور ملک کی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف بھی بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ نواز شریف کی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون گزشتہ برس 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف سے شکست کھا گئی تھی۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے نوازشریف کو گزشتہ برس بدعنوانی کے الزامات کے تحت عمر بھر کے لیے سیاست سے نا اہل قرار دیتے ہوئے انسداد بدعنوانی کے محکمے نیب کو حکم دیا تھا کہ وہ ان کی اور ان کے خاندان کی جائیداد سے متعلق تین مختلف معاملات کی تفتیش کرے۔

ا ب ا / ع ح (اے ایف پی)

DW.COM