نواز شریف خود فوج کے ذریعے ہی اقتدار تک پہنچے، عمران خان | حالات حاضرہ | DW | 17.10.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

نواز شریف خود فوج کے ذریعے ہی اقتدار تک پہنچے، عمران خان

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک خطاب میں اپوزیشن رہنماؤں مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کو بچے قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے حوالے سے بات نہیں کرنا چاہتے۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے ٹائیگر فورس سے خطاب کے دوران مریم نواز اور بلاول بھٹو کو بچے قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے آج اپنی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے نوجوانوں پر مبنی 'ٹائیگر فورس‘ کے نمائندوں سے اسلام آباد میں خطاب کیا۔ گزشتہ روز گوجرانوالہ میں پاکستان کی قریباﹰ تمام اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے کے حوالے سے بھی عمران خان نے اس خطاب میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔

گوجرانوالہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما اور ملک کے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستانی فوج اور پاکستانی فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے سخت نکتہ نظر اختیار کیا۔ اپنے اس خطاب میں نواز شریف کا پاکستانی فوجی سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جواب دینا ہو گا۔

Pakistan Nawaz Sharif

گوجرانوالہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما اور ملک کے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستانی فوج اور پاکستانی فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے سخت نکتہ نظر اختیار کیا۔

عمران خان نے ٹائیگر فورس سے اپنے خطاب میں سابق وزیر اعظم کے اس مطالبے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ عمران خان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ فوج کو تنقید کا نشانہ بنانے والے نواز شریف خود فوج کے ذریعے ہی اقتدار تک پہنچے۔

جنرل باجوہ صاحب آپ کو جواب دینا پڑے گا، نواز شریف

میں آئین اور حلف توڑنے والے فوجی کی عزت نہیں کرتا، نواز شریف

انہوں نے اس حوالے سے جنرل جیلانی، جنرل ضیاء الحق اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل درانی کے ناموں کا ذکر کیا۔ پاکستانی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے دور اقتدار میں ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں کیں اور رہنماؤں کو جیل میں ڈالا اور یہ کام جنرل باجوہ نے نہیں کیا تھا۔

اپنے خطاب کے دوران عمران خان نے پاکستان مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو کے بارے میں یہ کہتے ہوئے بات نہ کرنے کا کہا کہ وہ دونوں ان کے لیے بچے ہیں اس لیے وہ ان کے بارے میں بات نہیں کریں گے، ''جو دو بچوں نے تقریریں کی تھیں، ان پر میں بات نہیں کرنا چاہتا۔ ان میں سے ایک نانی ہو گئی مگر میرے لیے بچے ہی ہیں وہ۔‘‘

عمران خان کے بقول جو انسان جب تک زندگی میں جدوجہد نہیں کرتا وہ لیڈر بن ہی نہیں سکتا اور ان دونوں بچوں نے ایک گھنٹہ بھی محنت نہیں کی۔

تاہم عمران خان کے اس خطاب کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔

ایک ٹوئیٹر صارف عتیقہ مرزا نے لکھا، ''ڈیئر پرائم منسٹر، ایک سیاست دان اور ایک وزیر اعظم کی تقریر میں فرق ہوتا ہے۔۔۔ اوئے نواز شریف۔ ادھر بیٹھا ہے، حرام کی کمائی، یہ الفاظ یہ اچھے نہیں لگتے۔۔۔ مگر میں نواز شریف کی نا تو حامی ہوں اور نا ہی ووٹر۔‘‘

سینیئر جرنلسٹ اور پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے سابق سربراہ مرتضیٰ سولنگی نے عمران خان کی بات کا یوں جواب دیا۔

دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے حامی عمران خان کے خطاب کو سراہ بھی رہے ہیں۔

مصطفیٰ درانی نے عمران خان کے خطاب کو نواز شریف کے خطاب کا جواب قرار دیا۔

 

یاسف نامی صارف نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں لکھا، ''عمران خان کی طرف سے ایسی ہی تقریر کی اشد ضرورت تھی۔ ہم پاکستانی فوج کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھول سکتے۔‘‘