ننھا ایلان، اپنے بھائی اور والدہ کے ساتھ دفن ہو گیا | حالات حاضرہ | DW | 04.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ننھا ایلان، اپنے بھائی اور والدہ کے ساتھ دفن ہو گیا

ترکی کے ساحل پر مردہ حالت میں ملنے والے تین سالہ ایلان کُردی کو اس کی والدہ ریحانہ اور چار سالہ بھائی غالب کے ساتھ شام میں ان کے آبائی شہر کوبانی میں دفن کر دیا گیا ہے۔

بدھ دو ستمبر کی شب ترکی کے ساحل کے قریب مہاجرین کی ایک کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں یورپ پہنچنے کے خواہشمند 12 مہاجرین ہلاک ہوگئے تھے۔ ان میں ایلان کردی، اس کا بھائی اور والدہ بھی شامل تھے۔ جمعرات کی صبح ساحل پر ملنے والی تین سالہ ایلان کُردی کی لاش کی تصویر نے دنیا کو غم اور صدمے میں مبتلا کر دیا تھا۔ سُرخ ٹی شرٹ اور جینز کی نیکر میں ملبوس اس ننھے بچے کی ساحل پر اوندھے منہ پڑے لی گئی تصویر دنیا بھر میں اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ میں دیکھی گئی۔ اس سے جہاں جنگ زدہ علاقوں سے نکلنے والے مہاجرین کو درپیش مسائل کی طرف دنیا کی توجہ مرکوز ہوئی تو دوسری طرف ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے ایسے لوگوں کو پناہ دینے میں کی جانے والی حیل وحجت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا۔

کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں کوبانی سے تعلق رکھنے والے اس خاندان کا صرف ایک شخص زندہ بچا اور وہ ان بچوں کا والد عبداللہ کُردی ہے۔ غم و اندوہ میں ڈوبے عبداللہ کُردی نے جمعرات کے روز اپنے خاندان کی لاشیں وصول کی تھیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایلان، اس کے بھائی غالب اور والدہ ریحانہ کو کوبانی کے ’شہدا قبرستان‘ میں آج جمعہ چار ستمبر کو پہلو بہ پہلو دفن کر دیا گیا۔ کُرد اکثریت والے کوبانی کو عین العرب کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہ شامی شہر تُرکی کے ساتھ سرحد کے قریب واقع ہے۔

میں چاہتا ہوں کہ یورپی باشندوں کی بجائے عرب ممالک میرے بچوں کو دیکھیں اور ان کی حالت کو دیکھتے ہوئے وہ لوگوں کی مدد کریں، عبداللہ کُردی

میں چاہتا ہوں کہ یورپی باشندوں کی بجائے عرب ممالک میرے بچوں کو دیکھیں اور ان کی حالت کو دیکھتے ہوئے وہ لوگوں کی مدد کریں، عبداللہ کُردی

عبداللہ کُردی نے سرحدی گزرگاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس کے خاندان کی موت شاید عرب ریاستوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دے کہ وہ بھی شامی مہاجرین کی مدد کریں۔ یاد رہے کہ شامی خانہ جنگی سے بچ کر نکلنے والے عوام کو کوئی بھی اہم عرب ملک پناہ دینے پر تیار نہیں ہے، اس لیے یہ یورپ کا رُخ کر رہے ہیں۔ تاہم دشوار گزار اور سمندری سفر کے دوران ہلاکتوں کے واقعات اکثر وبیشتر سامنے آتے ہیں۔

عبداللہ کُردی کا کہنا تھا، ’’میں چاہتا ہوں کہ یورپی باشندوں کی بجائے عرب ممالک میرے بچوں کو دیکھیں اور ان کی حالت کو دیکھتے ہوئے وہ لوگوں کی مدد کریں۔‘‘