نصف سے زائد جرمن باشندے موٹاپے کا شکار، وجہ ’چار سو گرام‘ | صحت | DW | 19.12.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

نصف سے زائد جرمن باشندے موٹاپے کا شکار، وجہ ’چار سو گرام‘

جرمن باشندوں کی نصف سے زیادہ تعداد کا جسمانی وزن معمول سے بہت زیادہ ہو چکا ہے اور وہ واضح طور پر موٹاپے کا شکار ہے۔ اگر آپ جرمنی میں کسی عام سپر مارکیٹ میں جائیں، تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس کی وجہ کیا ہے۔

جرمنی جیسے ملک میں، جو یورپی یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، مردوں اور خواتین کی اکثریت کے جسمانی وزن کا موٹاپے کی حد تک زیادہ ہونا اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ جرمن سیاستدان ملک میں اشیائے خوراک تیار کرنے والی صنعت کو اس امر کا پابند بنانے میں ناکام رہے ہیں کہ اسے زیادہ صحت بخش اشیائے خوراک تیار کرنا چاہییں۔

غذائی امور پر تحقیق کرنے والے ماہرین کے بقول جرمنی کو اس وقت جس مسئلے کا سامنا ہے، اس کی شناخت کوئی مشکل کام نہیں: وزن چار سو گرام اور قیمت انتہائی پرکشش۔ مراد کئی طرح کے پنیر اور مختلف قسموں کے گوشت سے تیار کردہ وہ منجمد پیزا ہے، جس کی جرمنی میں سینکڑوں قسمیں عام سٹوروں سے خریدی جا سکتی ہیں۔

اس طرح کا پیزا اور ایسی دیگر اشیائے خوراک ’فروزن فوڈ‘ کے زمرے میں آتی ہیں، جنہیں گھر پر چند منٹوں میں مائیکروویو اوون میں تیار کر لیا جاتا ہے اور جو بہت لذیذ بھی ہوتی ہیں۔ لیکن ایسی خوراک صحت مند ہرگز نہیں ہوتی۔

یہ سستا اور مزیدار پیزا مسئلہ اس لیے بن جاتا ہے کہ اسے کھایا تو ایک ہی بار جاتا ہے مگر اس میں کیلوریز اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ وہ کسی بھی بالغ شہری کے دو وقت کے کھانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ لیکن ایسا پیزا عام طور پر آدھا تو کوئی بھی نہیں کھاتا۔

ان حالات اور بہت سے شہریوں کی طرف سے باقاعدگی سے ورزش کی کمی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب جرمنی میں 52 فیصد باشندے موٹاپے کا شکار ہیں۔

جرمنی کی طرح اس وقت پوری دنیا میں بھی ایسے انسانوں کی تعداد زیادہ ہے، جن کا جسمانی وزن صحت مند وزن سے زیادہ ہوتا ہے، یا جنہیں طبی طور پر موٹاپے کا شکار قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایسے انسانوں کی تعداد کم ہے، جن کا جسمانی وزن صحت مند اوسط سے کم ہوتا ہے۔

کئی یورپی ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اس وقت عالمی سطح پر ’انڈر ویٹ‘ انسانوں کی نسبت ’اوور ویٹ‘ انسان زیادہ بڑا مسئلہ بن چکے ہیں، جنہیں اپنے کھانے پینے کی عادات میں ہنگامی بنیادوں پر بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

جرمنی کے وفاقی دفتر شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق قریب دو عشرے قبل 1999ء میں 48 فیصد جرمن باشندے موٹاپے کا شکار تھے۔ تب خواتین میں موٹاپے کی شرح 40 فیصد بنتی تھی اور مردوں میں 56 فیصد۔ لیکن گزشتہ برس کے اختتام تک موٹاپے کے شکار جرمنوں کا ملکی آبادی میں مجموعی تناسب بڑھ کر 52 فیصد ہو چکا تھا۔

اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ 2017ء میں 43 فیصد خواتین زیادہ جسمانی وزن کا شکار تھیں لیکن مردوں میں موٹاپے کی یہی شرح بہت زیادہ ہو کر 62 فیصد ہو چکی تھی۔

اولیور پِیپر / م م / ع ا

DW.COM