نسل پرستانہ عمل پر بھی سخت سزا دینا چاہیے، جیسن ہولڈر | کھیل | DW | 28.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

نسل پرستانہ عمل پر بھی سخت سزا دینا چاہیے، جیسن ہولڈر

ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے کپتان جیسن ہولڈر نے مطالبہ کیا ہے کہ اس کھیل میں نسل پرستی کو بھی ویسے ہی سنجیدگی سے لینا چاہیے جیسا کہ میچ فکسنگ اور ڈوپنگ کو لیا جاتا ہے۔ ان کے بقول انسداد نسل پرستی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔

ویسٹ انڈیز قومی کرکٹ ٹیم کے اٹھائیس سالہ آل راؤنڈر اور کپتان جیسن ہولڈر نے کہا کہ نسل پرستانہ عمل یا جملے کسنے پر بھی سخت سزا دی جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ بھی ممنوعہ ادویات لینے اور میچ فکس کرنے جیسے جرائم سے کم ہر گز نہیں ہے۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے انسداد نسل پرستی کوڈ کے تحت نسل پرستی کے باعث کسی کھلاڑی پر عمر بھر کی پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔ تاہم ابھی تک نسل پرستی کا مظاہرہ کرنے پر کسی بھی کھلاڑی کو یہ سزا نہیں دی گئی ہے۔

جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے دوران پاکستانی وکٹ کیپر بلے باز سرفراز احمد کو سیاہ فام آل راؤنڈر ایندیلے پِھلکوایو کے خلاف نسل پرستانہ کلمات ادا کرنے پر انہیں چار میچوں کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس طرح کی مثالیں ماضی میں کئی مرتبہ خبروں کی زینت بھی بنی چکی ہیں۔ اس میں سن دو ہزار آٹھ میں بھارتی سابق سپنر ہربھجن سنگھ کا وہ مبینہ نسل پرستانہ جملہ بھی شامل ہے، جو انہوں نے سابق آسٹریلوی کھلاڑی اینڈریو سائمنز کے لیے بولا تھا۔

امریکا میں پولیس کی زیر حراست افریقی نژاد امریکی شہری جارج فلوئڈ کی ہلاکت کے بعد دنیا بھر میں نسل پرستی کے خلاف ایک تحریک شروع ہو چکی ہے۔ اسی تحریک کے بعد نسل پرستی کے خاتمے کے بارے میں ایک نئی بحث بھی جاری ہے۔

حال ہی میں ویسٹ انڈیز کے سابق کھلاڑی ڈیرن سامی نے بھی کہا تھا کہ انڈین پریمیئر لیگ کے دوران انہیں ڈریسنگ روم میں ایسے نام سے پکارا جاتا تھا، جو مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی ایک جذباتی ویڈیو میں کہا تھا کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ بھارتی کرکٹرز انہیں اس نام سے پکارتے ہیں تو انہیں شدید افسوس ہوا۔ تاہم اس ویڈیو میں انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں کس نام سے پکارا جاتا تھا۔

ویسٹ انڈیز کے سابق سٹار کھلاڑی کرس گیلز بھی کہہ چکے ہیں کہ ماضی میں انہیں نسل پرستانہ رویوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 'بلیک لائیوز میٹر‘ تحریک شروع ہونے کے بعد کھیلوں کی دنیا میں رونما ہونے والے نسل پرستانہ رویوں پر بھی کھل کر بولا جا رہا ہے۔

انگلینڈ کا دورہ کرنے والی ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے کپتان ہولڈر نے کہا ہے کہ انہیں ابھی تک ذاتی طور پر اس مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن ان کے کئی سیاہ فام ساتھیوں کو نسل پرستی کا نشانہ بنایا گیا ہے، ''میرا خیال ہے کہ نسل پرستی کو بھی ڈوپنگ اور کرپشن کی طرح ہی لینا چاہیے‘‘۔

جیسن ہولڈر کے مطابق کسی بھی سیریز سے قبل کھلاڑیوں کو اس معاملے کے بارے میں بریفنگ دینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بارے میں زیادہ شعور و آگاہی پھیلانے کی ضرروت ہے۔ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے مابین آئندہ ماہ سے تین ٹیسٹ میچوں کی سیزیز شروع ہونے سے دونوں ٹیموں کی طرف سے قبل نسل پرستی کے خلاف ایک مشترکہ مظاہرہ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ع ب / ش ح/ خبر ر ساں ادارے

DW.COM