نجم سیٹھی کے لیے عالمی ایوارڈ برائے آزادی صحافت | معاشرہ | DW | 01.12.2009
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

نجم سیٹھی کے لیے عالمی ایوارڈ برائے آزادی صحافت

پاکستانی صحافی نجم سیٹھی کو منگل کے روز بھارتی شہر حیدرآباد میں اخبارات کی عالمی انجمن WAN نے پریس فریڈم ایوارڈ دیا ہے۔

پاکستان میں متعدد صحافی عسکریت پسندوں کا ہدف بن چکے ہیں

پاکستان میں متعدد صحافی عسکریت پسندوں کا ہدف بن چکے ہیں

عالمی تنظیم نے انہیں یہ ایوارڈ عسکریت پسندوں کی جانب سے مسلسل قتل کی دھمکیوں کا بہادری سے مقابلہ کرنے اور آزادی اظہار پر حرف نہ آنے دینے کی ان کی کوششوں پر دیا۔ ایوارڈ وصول کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے اپنے زیر قبضہ کئی پاکستانی علاقوں میں ان کے اخبارات کی فروخت رکوا دی ہے اور انہیں قتل کی مسلسل دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔

’’میرے خاندان کی زندگی سخت خطرے میں ہے۔ ہمیں ہر وقت آٹھ کمانڈوز کے حصار میں زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔‘‘

نجم سیٹھی نے کہا کہ عسکریت پسند اب حکومتوں کے ساتھ ساتھ صحافیوں کے لئے بھی بڑا خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ طویل عرصے تک پاکستان اور بھارت کے درمیان بیک ڈور ڈپلومیسی کے حوالے سے اپنی خدمات سرانجام دینے والے نجم سیٹھی نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے انہیں اپنی ہٹ لسٹ میں شامل کر رکھا ہے۔

نجم سیٹھی کے مطابق : ’’دونوں ممالک کے میڈیا کوکم علم اور سطحی ذہنیت رکھنے والے قوم پرستوں کی بے جاء مداخلت کا سامنا ہے۔‘‘

ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ یہ ایوارڈ ان کے لئے جنوبی ایشیا میں قیام امن کی کوششوں اور خدمات کے حوالے سے ان کے حوصلے میں اضافے کا باعث ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : مقبول ملک