نایاب عقاب پر شرمناک تشدد، تصویریں فیس بک پر: ملزم گرفتار | سائنس اور ماحول | DW | 10.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

نایاب عقاب پر شرمناک تشدد، تصویریں فیس بک پر: ملزم گرفتار

سری لنکن پولیس نے ایک نایاب سمندری عقاب پر شرمناک تشدد کرنے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان نے اس عقاب کی کھال اتار کر اس کی ٹانگیں کاٹ دی تھیں اور اپنے اس عمل کی تصویریں فیس بک پر پوسٹ کر دی تھیں۔

سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو سے جمعرات دس مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق سمندری عقاب ایک نایاب قسم کا پرندہ ہے، جسے جنوبی ایشیا کی اس جزیرہ ریاست میں ملکی قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہے۔

اس واقعے کے بعد جن دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، ان پر الزام یہ ہے کہ انہوں نے پہلے تو زندہ حالت میں ایسے ایک سمندری عقاب کی کھال کھینچ کر اتار دی اور پھر ایک خنجر سے اس کی دونوں ٹانگیں بھی کاٹ دیں۔ یہی نہیں بلکہ ان ملزمان نے بعد ازاں اپنے اس اذیت ناک عمل کی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی شائع کر دی تھیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ کولمبو سے 130 کلومیٹر جنوب کی طرف ہابارادووا کے ساحلی تعطیلاتی مقام پر پیش آیا، جس کے بعد اس جرم کی تصویریں نہ صرف فیس بک پر جاری کر دی گئیں بلکہ یہی تصاویر ایک مقامی اخبار نے بھی اس بربریت کی مذمت کرتے ہوئے شائع کر دیں۔ یہ عمل سوشل میڈیا پر اور سری لنکن معاشرے میں عام لوگوں کی طرف سے زبردست احتجاج کی وجہ بنا، جس پر پولیس نے اس واقعے کا علم ہونے پر اپنی طرف سے تفتیش شروع کر دی۔

ہابارادووا میں پولیس کے سربراہ اودایا کمارا نے ٹیلی فون پر اے ایف پی کو بتایا، ’’اس واقعے کا علم ہونے پر ہمارے انٹیلیجنس یونٹ نے اپنا کام شروع کر دیا۔ ہم ان افراد کا پتہ چلانے میں کامیاب ہو گئے، جو اس نایاب پرندے پر بہت افسوسناک تشدد کے مرتکب ہوئے تھے۔ اس واقعے میں ایک ملزم اس جرم کا مرتکب ہو رہا تھا تو دوسرا اپنے موبائل فون سے اس عمل کی تصویریں بناتا جا رہا تھا۔‘‘

Flash Galerie Tiere

انسپکٹر اودایا کمارا نے بتایا کہ اس واقعے میں ملوث افراد کی تعداد تین ہے، کیونکہ مختلف تصاویر میں مجموعی طور پر تین مختلف افراد دیکھے جا سکتے ہیں۔ ’’ہم نے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ تیسرے کی تلاش جاری ہے۔‘‘

انسپکٹر کمارا کے مطابق دونوں زیر حراست افراد کے خلاف ملکی قوانین کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحفظ فطرت سے متعلق سری لنکن قانون کے مطابق ان کا جرم ثابت ہونے پر ملزمان کو پانچ پانچ سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ سری لنکا میں ناپید ہو جانے کے خطرے کے شکار جانداروں کے تحفظ سے متعلق قانون عقابوں، خاص کر سمندری عقابوں کو جانوروں کی ’انتہائی محفوظ قسم‘ قرار دیتا ہے۔

اس واقعے سے ایک روز قبل کولمبو میں ایک مجسٹریٹ نے ایک ایسے بدھ بھکشو کی گرفتاری کا حکم بھی دے دیا تھا، جس نے ہاتھی کے ایک دو سالہ بچے کو غیر قانونی طور پر ایک مندر میں قید کر رکھا تھا۔ سری لنکا میں ہاتھیوں کو مقدس سمجھا جاتا ہے۔