’نابالغ‘ مہاجرين کی حقيقی عمروں کا تعين کيسے کيا جاتا ہے؟ | مہاجرین کا بحران | DW | 08.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’نابالغ‘ مہاجرين کی حقيقی عمروں کا تعين کيسے کيا جاتا ہے؟

پچھلے تين سالوں کے دوران جرمنی ميں پناہ کے ليے تقريباً ستر ہزار نابالغ تارکين وطن کا اندراج ہو چکا ہے۔ ديکھا گيا ہے کہ چند مہاجر اپنی حقيقی عمر چھا کر خود کو نابالغ بتاتے ہيں تاکہ انہيں اس حساب سے سہوليات فراہم ہو سکيں۔

نابالغ پناہ گزين ہونے کی حيثيت سے متعلقہ درخواست گزاروں کو چند اضافی حقوق حاصل ہوتے ہيں جيسا کہ ديکھ بھال اور اضافی قانونی حقوق کا ملنا۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ نابالغ تارکين وطن کی ملک بدری پر جرمنی ميں پابندی عائد ہے۔ علاوہ ازيں کسی جرم کی صورت ميں بھی اگر ملزم نابالغ ہو، تو اس کے خلاف قانونی کارروائی نوجوانوں يا نابالغ افراد کے قوانين کے تحت کی جاتی ہے، جو مقابلتاً نرم ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں نابالغ پناہ گزينوں کو ڈبلن ريگوليشن سے بھی استثنٰی حاصل ہے، جس کا مطلب يہ ہے کہ وہ اُس ملک میں رہنے کے پابند نہیں ہوتے، جس ميں انہوں نے سياسی پناہ کی پہلی درخواست جمع کرائی ہو۔

جرمنی ميں پناہ گزينوں کے حوالے سے حکومتی پاليسی کے ناقدين اکثر يہ نکتہ اٹھاتے آئے ہيں کہ چند پناہ گزين غلط بيانی کرتے ہوئے خود کو نابالغ بتاتے ہیں۔ يہی وجہ ہے کہ ان دنوں یہاں عمر کے تعين کے ليے طبی معائنوں پر بحث جاری ہے۔ کرسچين سوشل يونين کے سياستدان اس کے حامی ہيں تاہم جرمن ڈاکٹروں کی ايسوسی ايشن اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔ سوال يہ اٹھتا ہے کہ جرمنی ميں پناہ کے متلاشی افراد کی عمروں کا تعين کيا کيسے جاتا ہے؟

اس کا کوئی مخصوص طريقہ کار نہيں۔ ہر صوبہ اپنے طريقے سے يہ کام کرتا ہے۔ اگرچہ ملک بھر ميں جمع کرائی گئی پناہ کی درخواستوں پر کارروائی وفاقی جرمن دفتر برائے ہجرت و مہاجرين کرتا ہے تاہم عمر کے تعين کا کام صوبائی انتظاميہ اپنے طريقہ ہائے کار سے کرتی ہے۔

ابتداء ميں جيسے ہی کوئی تارک وطن جرمنی ميں بطور پناہ گزين اپنا اندراج کراتا ہے، تو اُسے اسی وقت اپنی عمر بتانی پڑتی ہے۔ نابالغ ہونے کا دعوی کرنے والوں کو فوری طور پر ’جرمن يوتھ اينڈ ويلفيئر آفس‘ کے حوالے کر ديا جاتا ہے۔ اس دفتر کا عملہ يا تو دعوے کی تصديق کرتا ہے يا پھر اسے چيلنج کرتا ہے۔ ابتدائی معائنے ميں يوتھ اينڈ ويلفيئر آفس کے اہلکار متعلقہ تارک وطن کی جسمانی نشو نما ديکھتے ہيں، جيسا کہ داڑھی اور مونچھوں کی صورتحال۔

 ابتدائی معائنے ميں جنسی اعضاء کا معائنہ ممنوع ہوتا ہے۔ اگر تارک وطن کی جانب سے بيان کردہ عمر سے يوتھ اينڈ ويلفيئر آفس کے اہلکار متفق نہ ہوں، تو باقاعدہ ميڈيکل ٹيسٹ کرايا جا سکتا ہے۔ يہ ٹيسٹ يا تو خود تارک وطن، اُس کا خيال رکھنے والے يا پھر حکام کی درخواست پر ہی کرايا جا سکتا ہے۔ ٹيسٹ سے قبل متعلقہ مہاجر کو تمام تر تفصيلات بتائی جاتی ہيں اور صرف اسی صورت معائنہ کيا جاتا ہے کہ جب تارک وطن رضامند ہو۔ اگر وہ ٹيسٹ پر راضی نہ ہو، تو يوتھ اينڈ ويلفيئر آفس اس کی دیکھ بھال کرنے سے انکار  سکتے ہيں۔

جرمن رياست ہيمبرگ ميں اکثر خود کو نابالغ بتانے والے تارکين وطن کے طبی معائنے کرائے جاتے ہيں۔ ہيمبرگ يونيورسٹی کلينک کے ڈائريکٹر کلاؤس پوشيل کے مطابق پچھلے چند سالوں ميں کيے گئے معائنوں ميں دو، تہائی افراد کا جھوٹ پکڑا گيا اور وہ اپنی طرف سے بيان کردہ عمروں سے کہيں زيادہ بڑے نکلے۔

طبی معائنے ميں ہاتھ کی ہڈی کا ايکس رے کرايا جاتا ہے۔ بيلجيم ميں دانتوں، ہاتھوں اور گردن کی ہڈی کا ايکس رے کرايا جاتا ہے۔ اٹلی اور سويڈن ميں بھی نابالغ ہونے کا دعوی کرنے والے تارکين وطن کو ايسے ايکس ريز سے گزرنا پڑتا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:57
Now live
01:57 منٹ

عتیق اور ناصر تنہا فرار کے راستے پر

 

Audios and videos on the topic

اشتہار