1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Yashwant Sinha
تصویر: AP
معاشرہبھارت

نئے بھارتی صدر کا انتخاب: اپوزیشن کے امیدوار یشونت سنہا

جاوید اختر، نئی دہلی
21 جون 2022

بھارت کے اگلے صدر کے لیے اپوزیشن جماعتوں نے ترنمول کانگریس کے رہنما اور سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا کا نام تقریباً طے کر لیا ہے، صرف رسمی اعلان باقی ہے جو آج ہی کسی وقت متوقع ہے۔ صدارتی الیکشن 18جولائی کو ہو گا۔

https://www.dw.com/ur/%D9%86%D8%A6%DB%92-%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%D8%AA%DB%8C-%D8%B5%D8%AF%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D9%86%D8%AA%D8%AE%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D9%BE%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B4%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF%D9%88%D8%A7%D8%B1-%DB%8C%D8%B4%D9%88%D9%86%D8%AA-%D8%B3%D9%86%DB%81%D8%A7-%D8%B1%D8%B3%D9%85%DB%8C-%D8%A7%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86-%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C/a-62201973

بھارت کے اگلے صدر کے لیے اپوزیشن کی جانب سے مشترکہ امیدوار پر شش و پنج منگل 21 جون کو اس وقت تقریباً ختم ہو گیا جب ترنمول کانگریس کے رہنما اور سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا نے ایک ٹویٹ کر کے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں جولائی میں ہونے والے صدارتی الیکشن کے لیے اپنے مشترکہ امیدوار کے طور پر ان کا نام پیش کریں گی۔

یشونت سنہا نے بعد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وسیع تر اپوزیشن اتحاد کے لیے کام کرنے کے مقصد سے وہ اپنی پارٹی ترنمول کانگریس سے مستعفی ہو رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق انہوں نے اپنا استعفیٰ پارٹی صدر ممتا بینرجی کو بھیج دیا ہے۔ یشونت سنہا نے ایک ٹویٹ میں لکھا، ''ممتا جی نے ترنمول کانگریس میں مجھے جو عزت اور احترام دیا، اس کے لیے میں ان کا انتہائی ممنون ہوں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ میں ایک زیادہ وسیع قومی مقصد کے لیے کام کروں اور مجھے اب ایک وسیع تر اپوزیشن اتحاد کے لیے کام کرنے کے خاطر پارٹی سے الگ ہو جانا چاہیے۔‘‘

Farooq Abdullah
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے اپوزیشن صدارتی امیدوار بننے کی پیش کش مسترد کر دی تھیتصویر: picture-alliance/AP Photo/M. Khan

تین رہنماؤں کا اپوزیشن صدارتی امیدوار بننے سے انکار

پیر بیس جون کے روز مغربی بنگال کے سابق گورنر گوپال کرشن گاندھی نے اپوزیشن کی جانب سے صدارتی امیدوار بننے کی پیش کش مسترد کر دی تھی۔ گوپال کرشن، بھارت میں بابائے قوم سمجھے جانے والے مہاتما گاندھی کے پوتے ہیں۔

اس سے قبل نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ اور سابق مرکزی وزیر شرد پوار اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے بھی صدارتی الیکشن میں اپوزیشن کی جانب سے ممکنہ امیدوار بننے سے خود کو الگ ہی رکھنے کا اعلان کر دیا تھا۔

موجودہ بھارتی صدر رام ناتھ کووند کے عہدے کی مدت 25 جولائی کو پوری ہو رہی ہے۔ ملک کے پندرہویں صدر کا انتخاب 18جولائی کو ہو گا، جس کے لیے 29 جون تک کاغذات نامزدگی جمع کرائے جا سکتے ہیں۔

Yashwant Sinha
یشونت سنہا وزیر خزانہ اور وزیر خارجہ رہ چکے ہیںتصویر: Mahesh Jha

یشونت سنہا کون ہیں؟

اس وقت 84 سالہ یشونت سنہا ایک سابق بیوروکریٹ ہیں۔ انہوں نے 1960 میں انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس جوائن کی اور 24 برس تک مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ 1984میں ملازمت سے استعفیٰ دے کر اس وقت کی جنتا دل پارٹی میں شامل ہو گئے تھے اور اس کے آل انڈیا جنرل سیکرٹری بھی بنا دیے گئے تھے۔ اسی پارٹی کی طرف سے وہ 1988ء میں پارلیمانی ایوان بالا راجیہ سبھا پہنچے تھے۔

انہوں نے 1996میں بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور اس کے قومی ترجمان بنائے گئے۔ وہ بی جے پی کے امیدوار کے طور پر  پارلیمان کے ایوان زیریں لوک سبھا کے لیے کئی مرتبہ منتخب ہوئے۔ انہیں 1998میں وزیر خزانہ اور سن 2002ء میں وزیر خارجہ بھی بنایا گیا۔

مغربی بنگال میں سن 2021ء میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل وہ ریاست میں حکمران جماعت ترنمول کانگریس میں شامل ہو گئے تھے۔ انہیں پارٹی کا نائب صدر بنایا گیا۔ بی جے پی چھوڑنے کے بعد یشونت سنہا مودی حکومت کی پالیسیوں کے سخت مخالف رہے ہیں۔

Merkel in Indien
موجودہ بھارتی صدر رام ناتھ کووند کے عہدے کی مدت 25 جولائی کو پوری ہو رہی ہےتصویر: Reuters/India's Ministry of External Affairs

حکمران بی جے پی کا صدارتی امیدوار کون ہو گا؟

بی جے پی نے اپنے روایتی انداز میں بھارت کے نئے صدر کے لیے اپنے امیدوار کا نام اب تک صیغہ راز میں رکھا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ آج یا ایک دو روز کے اندر اندر پارٹی اپنے امیدوار کے نام کا اعلان کر دے گی۔

بی جے پی نے صدارتی امیدوار کے نام کا انتخاب کے لیے ایک 14 رکنی کمیٹی بنائی ہے۔ پارٹی صدر جے پی نڈا اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو دیگر اتحادیوں کے ساتھ صلاح و مشورے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ امیدوار کے نام کے اعلان سے قبل بی جے پی کے پارلیمانی بورڈ کی ایک رسمی میٹنگ بھی ہو گی، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی بھی شرکت کریں گے۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ حکمران بی جے پی کے امیدوار کے نیا ملکی صدر منتخب ہو جانے میں کوئی خاص رکاوٹ نہیں ہو گی۔ بی جے پی کے پاس 49 فیصد ووٹ ہیں۔ بھارت میں عہدہ صدارت کے لیے مجموعی ووٹوں کا 51 فیصد حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ صدر کے انتخاب میں اراکین پارلیمان اور ریاستی اسمبلیوں کے اراکین حصہ لیتے ہیں۔