نئی دہلی میں ہر چار گھنٹے میں ایک ریپ | وجود زن | DW | 16.02.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

نئی دہلی میں ہر چار گھنٹے میں ایک ریپ

نئی دہلی پولیس کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق بھارتی دارالحکومت میں گزشتہ برس ہر چار گھنٹے میں ایک خاتون جنسی زیادتی کا شکار ہوئی تھی۔ سن 2016 میں ریپ  کے 2155  مقدمات درج کیے گئے تھے۔

نئی دہلی پولیس کے مطابق بھارتی دارالحکومت میں گزشتہ برس جنسی زیادتی کے بیس لاکھ سے زائد واقعات رپورٹ کیے گئے اور ان میں سے قریب پندرہ لاکھ ایسے تھے، جن میں ملوث افراد کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پولیس کو ہر دو گھنٹے میں کسی خاتون کو ہراساں کیے جانے کی شکایت موصول ہوئیں۔ اس کے علاوہ نئی دہلی میں ہر چار گھنٹے میں ایک خاتون زیادتی کا شکار بنی۔ سن 2016 میں نئی دہلی میں 2155 خواتین کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا گیا۔ سن 2015 میں یہ تعداد 2199 تھی۔

اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سن 2016 میں خواتین کی مدد کے لیے بنائی گئی ہیلپ لائنز کو ہر نو منٹ بعد مشکل کا شکار خواتین کی کال موصول ہوئی تھی۔ دہلی کے جوائنٹ کمشنر پولیس دیپیندرا پاتھک نے اخبار ہندوستان ٹائمز کو بتایا،’’ گزشتہ چار برسوں میں پولیس کی جانب سے برقت کارروائی کے باعث مثبت تبدیلیاں آئی ہیں۔ کسی بھی خاتون کی شکایت کو فوری طور پر درج کیا جاتا ہے اور اس کی جلد از جلد تحقیقات کی جاتی ہیں۔‘‘

نئی دہلی پولیس کی ویب سائٹ کے مطابق سن 2016 میں 3438 خواتین کو اغوا کیا گیا اور 4165 خواتین پر جنسی حملے کیے گئے۔ اس کے علاوہ 3877 خواتین اپنے شوہر یا سسرال کے ظلم کا نشانہ بنیں۔

بھارتی حکومت ایک طویل عرصے سے خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔ بھارت میں البتہ اس حوالے سے حکومت زیادہ فعال سن 2012 میں اس وقت ہوئی تھی، جب دارالحکومت نئی دہلی میں ایک لڑکی کو چلتی بس میں ہی اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعےکے بعد بھارت میں اس حوالے سے قانون میں ترمیم بھی کی گئی تھی تاہم سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ قانون کے عمل در آمد کے لیے حکومت کی جانب سے بہت زیادہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

DW.COM