نئی حکومت سے کھلاڑیوں کی بلند توقعات | کھیل | DW | 10.06.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

نئی حکومت سے کھلاڑیوں کی بلند توقعات

گزشتہ پانچ برس دیگر شعبوں کی طرح کھیلوں میں بھی پاکستان کے لیے ناکامیوں سے عبارت رہے۔ تین مارچ 2009ء کی صبح سری لنکن ٹیم پر لاہور میں حملہ ہوا اور پاکستان میں کھیلوں کے میدانوں پر ویرانیوں نے ڈیرے ڈال دیے۔

گزشتہ حکومت نے کرکٹ، ہاکی اور دیگر اسپورٹس فیڈریشینز میں من پسند افراد کی تقرری کرکے پہلے کھیل کے ساتھ کھلواڑ کی اور پھر اگلے ساٹھ ماہ تک ان کی مُڑ کر خبر بھی نہ لی۔ نتیجہ یہ ہے کہ باکسنگ سے سائیکلنگ فیڈریشن اور خود نیشنل اولمپک ایسوسی ایشن تک ملک کی تمام اسپورٹس باڈیز میں عہدیدار اس وقت عہدوں کے لیے دست وگریبان ہیں۔

بیشتر فیڈرشنز کے فنڈز معطل ہیں اور کئی سرکردہ ایتھلیٹس گز شتہ سوا سال سے کسی بھی بین الاقوامی ایونٹ میں شریک نہیں ہو پائے۔ تاہم اب نئے حکمرانوں کے ساتھ نئی امیدوں کا بھی دور دورہ ہے۔ سابق پاکستانی اولمپیئن اور قومی ہاکی ٹیم کے نئے کوچ طاہر زمان نے امید ظاہر کی کہ نواز حکومت ملک میں ایک مضبوط اسپورٹس پالیسی متعارف کروائے گی، جس میں اسکول اور کالجز میں کھیلوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ ڈیپارٹمنٹس کو کھلاڑیوں کو نوکریاں دینے کے لیے پابند بنایا جائے گا۔ طاہر زمان کے بقول نئی حکومت کو تعلیمی اداروں میں اسپورٹس کوٹہ فوری طور پر بحال کرنا چاہیے۔ طاہر زمان کے بقول کھلاڑیوں کو ماضی کی طرح نوکریاں دینے سے ہاکی کے تن مردہ میں جان پڑسکتی ہے۔

پاکستان کے نئے وزیراعظم نواز شریف کی کرکٹ میں دلچسپی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ وہ 1973ء میں ریلویز کی جانب سے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ایک فرسٹ کلاس کرکٹ میچ کھیل چکے ہیں اور پاکستان نے 1992ء میں انہی کے پہلے دور حکومت میں ہی اپنا اکلوتا عالمی کپ جیتا تھا۔ اس لیے کرکٹ والے بھی اس کھیل کو منجدھار سے نکالنے کے لیے اب مسٹر شریف ہی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

اس بابت نامور پاکستانی کرکٹر محمد یوسف نے یقین ظاہر کیا کہ نواز شریف کی حکومت دیگر شعبوں کی طرح کرکٹ میں بھی بہتری لائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی کو ایسے لوگوں کے سپرد کیا جائے جو کھیل کو جانتے ہوں، ’’میں میاں صاحب کے ساتھ خود بھی جمخانہ میں کرکٹ کھیل چکا ہوں اور پر امید ہوں کہ وہ کرکٹ کی ملک میں تنزلی کا نوٹس لیتے ہوئے بورڈ میں نیا خون لائیں گے۔

پاکستان سوئمنگ فیڈریشن کی گرانٹ معطل ہونے کے سبب دو ہزار بارہ کے بعد سے مشہور پاکستانی خاتون پیراک اولمپیئن کرن خان کسی بین لاقوامی مقابلے میں شرکت نہیں کر پائیں مگر اب بُرے دن ختم ہونے کا یقین کرن خان بھی ہوچلا ہے۔ انہوں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ  گزشتہ پانچ برس ملکی اسپورٹس کے لیے مشکل ترین سال تھے، ’’ نئی حکومت کو وقت لگے گا مگر میاں برادران کا جنون دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اسپورٹس سیکٹر میں بھی بہتری لائیں گے۔‘‘

کرن خان کے بقول جس طرح شریف برادران نے پنجاب اسپورٹس فیسٹیول کرایا تھا اس سے لگتا ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی اسپورٹس بھی بحال ہوں گی اور اس کی پاکستان کو اشد ضرورت  بھی ہے۔ پاکستان میں کھیلوں کی بحالی راتوں رات ممکن نہیں مگر یہ ریلویز اور پی آئی اے کی طرح وہ رادھا بھی نہیں جسے ناچنے کے لیے نو من تیل کی ضروت ہو۔

رپورٹ: طارق سعید، لاہور

ادارت: امتیاز احمد