میں فی الحال وزیر اعظم کی ذمہ داریاں نبھاتا رہوں گا، الحریری | حالات حاضرہ | DW | 22.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

میں فی الحال وزیر اعظم کی ذمہ داریاں نبھاتا رہوں گا، الحریری

لبنانی وزیراعظیم سعد الحریری نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ فی الحال واپس لے لیا ہے۔ آج یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت کے بعد انہوں نے صدر میشال عون اور پارلیمان کے اسپیکرسے بھی ملاقات کی۔

 لبنان کے وزیر اعظم سعد الحریری نے وزارت عظمی کے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ فی الحال واپس لے لیا ہے۔ بدھ کے دن بیروت میں صدر میشال عون سے ملاقات کے بعد الحریری نے کہا کہ وہ موجودہ سیاسی بحران کے خاتمے کی خاطر تمام سیاسی پارٹیوں کو مزید وقت دینا چاہتے ہیں۔ اپنے ایک نشریاتی بیان میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے صدر سے کہا ہے کہ اس استعفے کو قبول کرنے سے قبل کچھ دیر مزید انتظار کریں۔

رفیق الحریری قتل تحقیقات باقاعدہ شروع

اس سے قبل سعد الحریری نے یوم آزادی کے موقع پر ہونے والی فوجی پریڈ میں شرکت کی۔ ابھی تین ہفتے قبل ہی انہوں نے اچانک سعودی عرب میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا،جس کے نتیجے میں لبنان میں ایک نیا سیاسی بحران پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ حزب اللہ انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنائے بیٹھی ہے۔

تاہم لبنانی صدر میشال عون نے الحریری کے استعفے اور سعودی عرب میں ان کے قیام پر ریاض حکومت سے وضاحت بھی طلب کی تھی۔ روں برس سعد الحریری کی قیادت میں بننے والی مخلوط حکومت میں حزب اللہ بھی شامل ہے۔

تاہم اب وزیراعظم کے وطن واپس لوٹنے کے بعد ان پرسرار حالات کے بارے میں بھی علم ہو سکے گا، جن میں انہوں نے اپنے عہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ آج بدھ کے روز بیروت اور دیگر بڑے شہروں کی شاہراہوں پر الحریری کو خوش آمدید کہنے کے لیے بڑے بڑے پوسٹر بھی آویزاں کیے گئے۔

فیوچر ٹی وی کے ساتھ اپنے واحد مفصل انٹرویو میں سعد الحریری پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ اگر مخالفین کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو جاتا ہے تو وہ اپنا استعفی واپس لے لیں گے۔ یہاں پر ان کی مراد یہ تھی کہ لبنان کو علاقائی تنازعات سے خود کو دور کرنا چاہیے۔

لبنان کی سلامتی کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے، جرمن وزیر خارجہ

سعودی عرب میں ’آزاد‘ ہوں، جلد لبنان واپس آؤں گا، حریری

سعودی عرب سے ہفتے کے روز الحریری پیرس گئے تھے، جہاں سے منگل کو وہ قاہرہ اور قبرص سے ہوتے ہوئے واپس بیروت پہنچے۔ امید ہے کہ آج ہی سعد الحریری صدر میشال عون اور پارلیمنٹ کے اسپیکر سے بات چیت کریں گے۔ اس کے علاوہ بیروت کے وسط میں اپنی رہائش گاہ پر وہ اپنے حامیوں سے بھی ملیں گے۔

DW.COM

اشتہار