’میں صدر بنا تو ہلیری کلنٹن جیل میں ہوں گی‘، ڈونلڈ ٹرمپ | حالات حاضرہ | DW | 10.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’میں صدر بنا تو ہلیری کلنٹن جیل میں ہوں گی‘، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر وہ نومبر کا صدارتی الیکشن جیت گئے تو ان کی حریف ڈیموکریٹک امیدوار ہلیری کلنٹن کو جیل جانا ہو گا۔ ٹرمپ نے یہ بات کلنٹن کے ساتھ ایک ٹی وی مباحثے کے دوران کہی۔

امریکی شہر سینٹ لوئیس سے پیر دس اکتوبر کی صبح موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ارب پتی بزنس مین ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بیان ہلیری کلنٹن کے ساتھ ٹیلی وژن پر اپنے اس لائیو نشر کیے جانے والے مباحثے میں دیا، جسے امریکا میں اور امریکا سے باہر کروڑوں افراد نے براہ راست دیکھا۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ اس مباحثے کے دوران، جو دونوں صدارتی امیدواروں کے مابین مجموعی طور پر تین میں سے اب تک کا دوسرا ٹی وی مباحثہ تھا، ڈونلڈ ٹرمپ نے مقامی وقت کے مطابق اتوار نو اکتوبر کی رات اپنی قدرے غیر مقبول ہوتی جا رہی صدارتی انتخابی مہم کو بچانے کئی کوششیں کیں۔

اس دوران ہلیری کلنٹن کی طرف سے بھی اپنے حریف امیدوار پر کافی تنقید کی گئی لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات میں امریکی سیاست میں غیر معیاری بیانات کی جنگ اپنی ایک ایسی نچلی سطح تک پہنچ گئی، جو اس سے پہلے شاید ہی کبھی دیکھنے میں آئی تھی۔

اس مباحثے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ اگلے ماہ کے اوئل میں ہونے والے صدارتی انتخابات جیت گئے، تو ہلیری کلنٹن کو جیل جانا پڑے گا۔ ساتھ ہی ٹرمپ نے ہلیری کلنٹن کے شوہر اور سابق امریکی صدر بل کلنٹن پر ’جنسی حوالے سے بدکرداری‘ کا الزام بھی عائد کیا۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ جس وقت ٹرمپ ہلیری کلنٹن اور بل کلنٹن پر یہ الزامات لگا رہے تھے، اس وقت وہاں موجود اور اس مباحثے کو لائیو دیکھنے والی شخصیات میں خود سابق صدر بل کلنٹن بھی موجود تھے اور تین ایسی خواتین بھی، جنہوں نے ماضی میں بل کلنٹن پر جنسی دست درازی کے الزامات عائد کیے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ابھی چند روز قبل ہی ایک ایسی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی تھی، جس میں انہیں خواتین کے بارے میں بہت نازیبا اور غیر اخلاقی باتیں کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں اپنی تقریر میں ٹرمپ نے اپنی اس ’لاکر روم‘ بات چیت کے حوالے سے ناظرین اور سامعین سے معذرت تو کی، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہلیری کلنٹن کے شوہر اور سابق صدر بل کلنٹن تو ماضی میں خواتین کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتیاں بھی کرتے رہے ہیں۔

ٹرمپ نے مزید کہا، ’’اگر آپ بل کلنٹن کی طرف دیکھیں، تو ان کی مثال تو کہیں زیادہ بری ہے۔ میرے تو صرف الفاظ تھے، وہ تو عملاﹰ ایسا کر بھی گزرے تھے۔‘‘

اس موقع پر 70 سالہ ٹرمپ نے سابقہ خاتون اول اور سابقہ وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن پر یہ الزام بھی لگایا کہ ’ہلیری کلنٹن کے دل میں نفرت ہے۔ اگر میں صدر بن گیا، تو ہلیری کلنٹن کو جیل جانا ہو گا‘۔

اس کے جواب میں ہلیری کلنٹن نے اس مباحثے میں یہ موقف اختیار کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خواتین کے بارے میں بیانات پر مبنی جو ویڈیو ابھی حال ہی میں منظر عام پر آئی، وہ ’ٹرمپ کی اصل شخصیت کی عکاسی‘ کرتی ہے۔

ہلیری کلنٹن نے ٹرمپ پر جوابی تنقید کرتے ہوئے مزید کہا، ’’یہ ہیں اصلی ڈونلڈ ٹرمپ۔ اور ہم سب اور ہمارے ملک کو جس بڑے سوال کا سامنا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ ہم اور امریکا وہ نہیں ہیں، جو ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔‘‘

DW.COM