میک ڈونلڈ کا تین دہائیوں بعد روس چھوڑنے کا اعلان | معاشرہ | DW | 17.05.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

میک ڈونلڈ کا تین دہائیوں بعد روس چھوڑنے کا اعلان

میک ڈونلڈ کا کہنا ہے کہ'غیر متوقع حالات' اور'انسانی' بنیادوں پر وہ روس چھوڑ رہی ہے۔ اس امریکی فاسٹ فوڈ کمپنی نے سرد جنگ کے خاتمے کے فوراً بعد ہی سابقہ سوویت یونین میں اپنی دکانیں قائم کردی تھیں۔

امریکی فاسٹ فوڈ کمپنی میک ڈونلڈ نے روس میں موجود اپنے سینکڑوں ریستورانوں کو سمیٹنے کا عمل پیر کے روز شروع کردیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ ان درجنوں مغربی کمپنیوں میں شامل ہوگئی جو بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے روسی مارکیٹ چھوڑ رہی ہیں۔

شکاگو سے سرگرم کمپنی نے اپنے ایک بیان میں کہا،"یوکرین میں جنگ کی وجہ سے پیدا شدہ انسانی بحران اور کاروبار کے لیے غیر متوقع ماحول کی وجہ سے میک ڈونلڈ کو یہ فیصلہ کرنا پڑا ہے کہ روس میں اپنی تجارت کو زیادہ دنوں تک برقرار رکھنا اس کے لیے قابل عمل نہیں رہ گیا ہے۔"

یوکرین پر روسی فوجی حملے کے فوراً بعد ہی مارچ میں میک ڈونلڈ نے روس میں اپنے تقریباً 850ریستورانوں کو عارضی طورپر بند کرنے کا اعلان کردیا تھا۔لیکن پیر کے روز کے فیصلے کے بعد کمپنی 30برس سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والے اپنے کاروبار کو مستقل طورپر بند کردے گی۔

کمپنی نے کہا کہ وہ کسی ایسے روسی خریدار کو تلاش کررہی ہے جو اس کے 62000 ملازمین کو ملازمت دے سکے اورکمپنی کے فروخت کا معاملہ جب تک مکمل نہیں ہوجاتا اس وقت تک انہیں تنخواہیں ادا کرتی رہے۔ کمپنی نے مزید کہا کہ اب تک ایسا کوئی ممکنہ خریدار اسے نہیں مل سکا ہے۔

دیوار برلن کے انہدام اور سوویت سونین کے بکھراو کے فوراً بعد میک ڈونلڈ کا پہلا ریستوراں تین دہائی سے زیادہ قبل ماسکو کے وسط میں کھولا گیا تھا۔ اس وقت بہت سے لوگوں نے اسے امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کی کشیدگی کے خاتمے کی علامت کے طورپر دیکھا تھا۔

قدریں اور 'عالمی برادری کے تئیں عہد کی پاسداری'

میک ڈونلڈ کے سی ای او کرس کیمپ زینسکی نے ایک بیان میں روس چھوڑنے کے'تکلیف دہ فیصلے' کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ میک ڈونلڈ اپنے ہزاروں ملازمین اور سینکڑوں روسی سپلائروں کے کمپنی کے تئیں 'لگن اور وفاداری' کے جذبے کو بخوبی محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے کہا،"تاہم بین الاقوامی برادری کے تئیں بھی ہماری ذمہ داریاں ہیں اور ہمیں اپنے قدروں سے بھرپور لگاو ہے۔اور اپنی قدروں کی پاسداری کے ہمارے جذبے کا تقاضہ ہے کہ ہم یہاں اپنے روشن محرابوں کو زیادہ دیر تک روشن نہیں رکھ سکیں گے۔"

 میک ڈونلڈ کا نام، لوگو اور مینو کے ساتھ مشہور "محرابی" نشان (پیلے رنگ کے دو محراب جو انگلش کے حروفM کی شکل بناتے ہیں) والا عالمی فاسٹ فوڈ چین اب روس میں اپنے کسٹمرز کو اپنی خدمات فراہم نہیں کرسکے گا۔

دریں اثنا ایک روسی کمپنی میک ڈونلڈ کے اس لوگو میں معمولی ترمیم کے ساتھ اس کو برقرار رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔ انکل وانیا نامی یہ کمپنی روس میں میک ڈونلڈ کی تمام دکانوں اور سہولیات کو خریدنے والی امیدوار ہوسکتی ہے۔

ج ا/ ص ز (ڈی پی اے، اے پی، اے ایف پی)

ویڈیو دیکھیے 02:16

روس یوکرین جنگ کے باعث عالمی خوراک کی فراہمی کو خطرہ

DW.COM