مہاجرین کی آمد ’برفانی تودہ‘، جرمن وزیر کے بیان پر تنقید | مہاجرین کا بحران | DW | 12.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کی آمد ’برفانی تودہ‘، جرمن وزیر کے بیان پر تنقید

جرمن وزیر خزانہ وولف گانگ شوئبلے نے گزشتہ روز مہاجرین کے بحران کو برفانی تودے سے تشبیہہ دی تھی جس کے بعد اس موضوع پر پہلے سے جاری بحث میں مزید شدت آ گئی ہے۔

بدھ کے روز جرمن دارالحکومت برلن میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس کے دوران جرمن وزیر خزانہ وولف گانگ شوئبلے نے مہاجرین کے بحران پر تمثیلی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے نہیں معلوم کہ یہ برفانی تودہ وادی سے ٹکرا چکا ہے یا ابھی تک پہاڑ کی چوٹی سے لڑھک رہا ہے۔‘‘

شوئبلے نے اسی علامتی انداز میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل پر بھی بلواسطہ تنقید کا کرتے ہوئے کہا، ’’جب کوئی لاپروا کھلاڑی برف سے ڈھکے ہوئے پہاڑ پر اسکیئنگ کرتا ہے تو اس کی وجہ سے تھوڑی سی برف سرکتی ہے جو برفانی تودہ گرنے کا باعث بن جاتی ہے۔‘‘

قدامت پرست نظریات کے حامل وزیر کے اس متنازعہ بیان کے فوراﹰ بعد ہی ان پر تنقید کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ سوشل ڈیموکریٹ جماعت سے تعلق رکھنے والے وزیر انصاف ہائیکو ماس نے ٹویٹر پر دیے گئے ایک پیغام میں لکھا، ’’مجبور اور ضرورت مند لوگ قدرتی آفات نہیں ہیں۔‘‘ ماس نے مزید کہا، ’’ہمیں بحث کرتے ہوئے احتیاط سے کام لینا چاہیے اور جلتی پر تیل نہیں ڈالنا چاہیے۔‘‘

شوئبلے پر تنقید کرنے والوں میں جرمن نائب چانسلر زیگمار گابریئل بھی شامل ہیں۔ سوشل ڈیموکریٹ جماعت ہی سے تعلق رکھنے والے گابریئل کا کہنا تھا، ’’میں اس قسم کا تقابل یا موازنہ استعمال نہ کرتا۔‘‘

جرمنی کے موقر آن لائن رسالے اشپیگل نے اپنے ویب سائٹ ایڈیشن میں شوئبلے کے بیان پر کچھ یوں تبصرہ کیا، ’’ایک غلط اور خطرناک تصویر‘‘۔ اشپیگل نے اپنے تبصرے میں مزید لکھا، ’’شوئبلے انگیلا میرکل کی اتھارٹی کم کرنے کی کوشش میں ہیں۔ وزیر خزانہ یا تو یہ چاہ رہے ہیں کہ میرکل پناہ گزینوں کے حوالے سے اپنی پالیسی بدلیں، یا پھر وہ چانسلر کا عہدہ حاصل کرنا چاہ رہے ہیں۔

DW.COM